*مہاجر قوم خود کو پہچانیں ۔۔۔!!*

*مہاجر قوم خود کو پہچانیں ۔۔۔!!*
بات دراصل یہ ھے کہ ھم اگر صرف مہاجروں کی ہی بات کرلیں تو آپ کو اچھی طرح یاد ہوگا کہ مہاجر کمیونیٹی یعنی قوم پورے ملک میں سلجھی، سمجھی، عقل مند، مہذب، بااخلاق، باکردار، ایماندار، دیانتدار، دیندار، شریف النفس، پڑھی لکھی ادب و تہذیبی روایات سے جڑی اسکی پہچان، اسکی شان اور اسکا وقار تھا اور ایک خاص اتحاد، اخوت اور بھائی چارہ بھی۔ مہاجر لوگ آس پڑوس میں روزانہ کی بنیاد پر کھانا بھجواتے تھے کہ کہیں کوئی پڑوسی بھوکا نہ سو جائے، ایک دوسرے کی خیر خبر، عافیت پوچھتے کہ کہیں کوئی بیمار نہ ہو۔ ہر نماز کی ادائیگی کیساتھ ساتھ قرآن پاک کی تلاوت بمع درود شریف کی تسبیح ہر ایک مہاجر کی عادت بنی ہوتی تھی، اخلاق و سائستگی انکے لفظوں سے چھلگتی تھی چاہے وہ بڑے سے بڑے کسی بھی منصب پر برجمان ہی کیوں نہ ہوں اور اگر لیڈر، رہنما، قائد کی بھی بات کرلیں تو اس میں حسنِ اخلاق، سچائی، عہد پیمائی، یقینِ کامل کے ثمرات واضع روشن دکھائی دیتے تھے۔ وہ ذرا بھر کوتاہی، غلطی اور سستی پر خود کو سزاوار ٹھہراتے تھے اور اپنی ذمہداری سے سبکدوشی لے لیتے تھے۔ ان میں اچھے کردار اور اخلاقیات کا عنصر لبریز رہتا تھا لیکن پھر وقت اور زمانے کے اثرات سے اسی مہاجر قوم کو سنہ 1978 میں بدلتے دیکھا ایسا گندا بدلا کہ اب دیگر قوم بھی ہنستی ہیں افسوس ہوتا ھے لیکن ابھی بھی وقت نہیں بِیتَا اس مہاجر قوم کے غیور، شریف النفس خاندانی لوگوں کو آگے بڑھنا چاہئے ہر سو اپنی نئی نسل کی تعمیر نو کرنی چاہئے انہیں اس قوم کی اصل مقام اصل حالت اور اصل طرز عمل سیکھانا چاہئے کیونکہ مہاجر قوم ہی تھی جس میں دینی، سیاسی، تعلیمی، اخلاقی، معاشرتی، معاشی، فنی بصیرت من اللہ و عطائے رسول ﷺ موجود تھیں۔ قیامِ پاکستان کے وقت کثیر تعداد میں قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی قیادت میں لاکھوں پڑھے لکھے، ہنر مند، تاجر، استاد، معلجین، انجینئرز، موجد، محقق، شاعر، ادیب اور نجانے کتنے بیشمار قیمتی موتی و جواہرات اس وطن میں آکر اس لئے آباد ہوئے کہ یہ ریاستِ مدینہ کی ثانی و وارث ریاستِ پاکستان ھے جس میں صرف اور صرف نظام شریعت ہی لاگو ہوگا جو پوری دنیا میں ”*مملکتِ اسلامیہ پاکستان*“ کے نام سے جانا پہچانا جائے گا لیکن افسوس دھریئے دین سے دور، خودپسند، مطلبی، خودغرض، لالچی، مکار و عیار، دھوکے باز و فریبی، چاپلوس نے تعصب و عصبیت و لسانیت کی چادر اوڑھ کر قوم کو گمراہ کرکے جمہوری نظام جبراً نافذ کردیا اُس سپہ سالار کی نفسانی خوشی میں جسے قائداعظم نے انتہائی ریاست و مملکت کیلئے ناپسندیدہ قرار دیا تھا۔ آج پاکستان قومی اتحاد میں کس قدر دور ھے یہ دنیا بھی جانتی ھے اور پاکستان مخالف قوتوں کو یہ برداشت نہیں کہ پاکستان اپنی اصلی مقام تک پہنچے کیونکہ قیامِ پاکستان سے قبل رسولِ خدا محمد الرسول اللہ ﷺ نے قائداعظم محمد علی جناح ؒ کو اسلامی ریاست اسلامی نظام حکومت کیلئے منتخب کیا تھا اور حکم دیا تھا کہ اپنا کردار ادا کرو۔ آج ھم سب من حیث القوم اور ہر مقتدر منصب پر فائز و برجمان مجرم ہیں، قصوروار ہیں اللہ سبحان تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ کے۔ ابھی بھی وقت نہیں گزارا ھے مہاجر قوم کو فوری پلٹنا چاہئے دین کی جانب اور اپنی خاندانی روایات کی جانب جب وہ دین محمدی ﷺ کے مکمل ترین پیروی کرتے تھے جب وہ اپنی شرافت و اخلاقیات و تہذیب کو غلیظ و خبیث اور جاہلوں کے ہاتھوں گدلا نہیں ہونے دیتے تھے بلکہ غلیظ و خبیث اور جاہلوں سے محتاط رہتے ان جاہلوں کی جاہلیت پر خاموشی اختیار رکھتے اور اپنے عملِ صالح کو مزید نکھارنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔ بحیثت مہاجر ہر اردو بولنے والے مہاجر نئی نسل کو اپنے اچھے کردار، اچھے اخلاق، اچھی تعلیم، اچھے عمل سے قوم اور وطن کو روشن بلند اور باوقار رکھنا ھے ان شاءاللہ یہ ہر مہاجر بزرگ، والدین، سرپرست کی ذمہداری ھے کہ وہ اپنی نئی نسل کو موجودہ بگڑتے حالات کی نظر نہ ہونے دیں شکریہ *جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*



