مسائل کے حل کے لیے بیرونی ماہرین پر انحصار کے بجائے مقامی ماہرین اور اداروں کو مواقع دیے جائیں،

*مسائل کے حل کے لیے بیرونی ماہرین پر انحصار کے بجائے مقامی ماہرین اور اداروں کو مواقع دیے جائیں، کیونکہ مقامی افراد ہی مقامی مسائل کی نوعیت، حرکیات اور انتظامی پیچیدگیوں کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ انجینئرپروفیسرڈاکٹر ثمرین حسین*
*آج دنیا کو سب سے بڑا چیلنج ماحولیاتی تحفظ کا درپیش ہے اور اس کا حل ایسی موثر پالیسیوں کے نفاذ میں ہے جو ماحول کو محفوظ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی*
*مسائل کے حل کے لئے صرف سائنسدانوں یا ماہرینِ ٹیکنالوجی پر انحصار کافی نہیں، بلکہ حکومتوں کے مابین سیاسی سطح پر مسلسل اور موثر مکالمہ نہایت ضروری ہے۔ پروفیسرڈاکٹر اقبال محمد مجتبیٰ، یونیورسٹی آف بریڈفورڈ (برطانیہ)*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر ثمرین حسین نے کہا کہ ڈیجیٹل جدت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ ایک نہایت اہم مسئلہ تیزی سے جنم لے رہا ہے، جسے ہم اس وقت نظر انداز کر رہے ہیں، اور ممکن ہے اس پر گفتگو ایک دہائی بعد ہواور وہ ہے الیکٹرانک کچرا (ای-اسکریپ)۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2022 میں دنیا بھر میں تقریباً 62 ملین ٹن ای-اسکریپ پیدا ہوا، جو فی کس سالانہ تقریباً 7.8 کلوگرام بنتا ہے۔ ڈاکٹر سمرین کے مطابق اگرچہ دنیا پائیداری، ویسٹ واٹر مینجمنٹ اور ماحولیاتی تحفظ پر بات کر رہی ہے، مگر ای-اسکریپ کے بڑھتے ہوئے خطرات پر سنجیدہ توجہ نہیں دی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت مستقبل بینی کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر ای-اسکریپ کے مسئلے پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو یہ ہماری پائیداری کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اگرچہ مصنوعی ذہانت (AI) سے چلنے والے ویسٹ مینجمنٹ سسٹمز، خودکار روبوٹک ڈس اسمبلی کے طریقے اور گرین انرجی کے لیے جدید ڈیجیٹل حل متعارف کروائے جا رہے ہیں، تاہم ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی تیز رفتار تبدیلی کے باعث ہر روز نئے آلات اور نئی الیکٹرانک تنصیبات سامنے آ رہی ہیں، جو ای-اسکریپ میں مزید اضافہ کر رہی ہیں۔
ڈاکٹر سمرین نے زور دیا کہ اس کانفرنس کو چاہیے کہ ای-اسکریپ کے مسئلے پر غور کرے اور عملی سفارشات پیش کرے تاکہ اس بحران کے ظاہر ہونے سے پہلے ہی اس کا تدارک کیا جا سکے۔ ان کے مطابق بطور انجینئر ہمیں محض نقصانات کا ازالہ نہیں بلکہ نقصانات سے بچاؤ کی حکمتِ عملی اپنانی چاہیئے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے شعبہ کیمیکل انجینئرنگ جامعہ کراچی اورانسٹی ٹیوشن آف انجینئرز پاکستان کراچی سینٹر کے اشتراک سے ڈاکٹر اے کیوخان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئر نگ جامعہ کراچی کی سماعت گاہ میں منعقدہ پہلی بین الاقوامی کانفرنس بعنوان: "پائیدار سبز توانائی، ماحولیات اور ڈیجیٹل اختراعات” کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر ثمرین نےحسین نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر اندازہ ہے کہ 2030 تک ای-اسکریپ کی مقدار 82 ملین ٹن تک پہنچ جائے گی۔ یہاں تک کہ خلا میں موجود سیٹلائٹس بھی اپنی مدت پوری کرنے کے بعد کچرے میں تبدیل ہو جاتے ہیں، اور یہ واضح نہیں کہ وہ کچرا کہاں جاتا ہے یا زمین پر گرنے کی صورت میں کیا نقصانات ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر ثمرین کے مطابق ای-اسکریپ کا مؤثر انتظام کئی ممالک میں اب ایک پالیسی اور عمل بن چکا ہے، جبکہ ہم اس دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ تاہم اگر آج سے سنجیدہ سوچ اپنائی جائے تو ہم اس میدان میں قائدانہ کردار بھی ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ جامعہ کراچی اس حوالے سے قیادت کا کردار ادا کرے، ٹھوس سفارشات مرتب کر کے پالیسی سازوں تک پہنچائے، اور حکومت جامعات پر اعتماد کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل کے حل کے لیے بیرونی ماہرین پر انحصار کے بجائے مقامی ماہرین اور اداروں کو مواقع دیے جائیں، کیونکہ مقامی افراد ہی مقامی مسائل کی نوعیت، حرکیات اور انتظامی پیچیدگیوں کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ آج دنیا کو سب سے بڑا چیلنج ماحولیاتی تحفظ کا درپیش ہے، اور اس کا حل ایسی موثر پالیسیوں کے نفاذ میں ہے جو ماحول کو محفوظ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں انجینئرنگ کے ساتھ ساتھ سماجی علوم کے ماہرین اور پالیسی سازوں کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی، تاکہ ایسی معقول اور قابلِ عمل پالیسیاں تشکیل دی جاسکیں جو عملی نتائج دے سکیں۔ ڈاکٹر خالد نے کہا کہ اگرچہ اس پروگرام کے انعقاد کو بروقت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہم ہمیشہ کی طرح اس معاملے میں تاخیر کا شکار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو اس وقت پانی کی قلت، غذائی عدم تحفظ اور دیگر سنگین مسائل کا سامنا ہے، جن کا حل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان تمام چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پائیدار ترقیاتی اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے جامع حکمتِ عملی اپنانا ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر خالد نے کہا کہ اگرچہ وہ اس مخصوص موضوع کے ماہر نہیں ہیں، تاہم اس فورم پر موجود انجینئرز نے گرین انرجی، ماحولیاتی تحفظ اور ڈیجیٹل جدت پر تفصیلی گفتگو کی۔ شعبہ کیمیکل انجینئرنگ، یونیورسٹی آف بریڈفورڈ (برطانیہ) کے پروفیسر ڈاکٹر اقبال محمد مجتبیٰ نےکہا کہ ایک متحرک اور ترقی یافتہ معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایسے نظام کی طرف بڑھیں جو پائیدار، لچکدار، ذہین اور باہمی ہم آہنگی پر مبنی ہو، جہاں پانی اور مٹی کی آلودگی صفر کے قریب ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے پانی، توانائی، خوراک اور تعلیم کی پائیدار فراہمی ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر اقبال نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں، فضائی، آبی اور زمینی آلودگی، پانی، خوراک اور توانائی کی عدم دستیابی جیسے سنگین مسائل پیدا ہوتے ہیں۔دریائی طاس (River Basins) کئی ممالک کے درمیان مشترک ہوتے ہیں، جیسا کہ بھارت اور بنگلہ دیش اور اسی طرح بھارت اور پاکستان بھی مشترکہ دریائی نظام کے حامل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پانی سے متعلق مسائل کے حل کیلئے صرف سائنسدانوں یا ماہرینِ ٹیکنالوجی پر انحصار کافی نہیں، بلکہ حکومتوں کے مابین سیاسی سطح پر مسلسل اور موثر مکالمہ نہایت ضروری ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر اقبال کے مطابق، اگر کوئی شخص 10 منٹ تک شاور لیتا ہے تو تقریباً 90 لیٹر پانی استعمال ہوتا ہے، جبکہ باتھ ٹب کے استعمال سے یہ مقدار 190 لیٹر تک پہنچ جاتی ہے۔ اگر شاور کا دورانیہ 5 منٹ تک محدود کر دیا جائے تو تقریباً 45 سے 50 فیصد پانی بچایا جا سکتا ہے۔انہوں نے خوراک کے ضیاع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے سے جڑی توانائی اور وسائل کی مقدار نہایت تشویشناک ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق، سنہ 2020 میں دنیا بھر کے گھریلو صارفین نے روزانہ تقریباً ایک ارب کھانے ضائع کیے، جبکہ اسی دوران 78 کروڑ 30 لاکھ افراد بھوک کا شکار تھے اور دنیا کی ایک تہائی آبادی کو غذائی عدم تحفظ کا سامنا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں ضائع ہونے والی خوراک کی پیداوار کے لیے تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار مکعب میٹر پانی استعمال ہوتا ہے، جبکہ 1.4 ارب ہیکٹر زمین، جو کہ دنیا کی زرعی زمین کا 28 فیصد بنتی ہے، ایسی خوراک اگانے میں صرف ہوتی ہے جو آخرکار ضائع ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، ضائع شدہ خوراک کے باعث 3.3 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی گرین ہاؤس گیسیں فضا میں شامل ہوتی ہیں۔ چیئرمین انسٹی ٹیوشن آف انجینئرز پاکستان کراچی سینٹر انجینئر محمد فاروق عربی نے کہا کہ پائیدار حل، سبز توانائی، ماحولیات اور ڈیجیٹل جدت پر منعقد ہونے والی اس کانفرنس کی ٹیم نہ صرف ہمارے معاشرے بلکہ عالمی تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا کو بے مثال چیلنجز کا سامنا ہے جن میں موسمیاتی تبدیلی، توانائی کا عدم تحفظ، ماحولیاتی بگاڑ اور تیز رفتار ڈیجیٹل تبدیلیاں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پیچیدہ چیلنجز سے نمٹنے کے لئے الگ تھلگ اقدامات نہیں بلکہ مربوط، جدید اور پائیدار ڈیجیٹل حل درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بطور مقامی سائنس دان اور ماہرین، ہم پر ایک گہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو محض تکنیکی ترقی تک محدود نہیں۔ ہمارا کردار صاف اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ، ماحولیات کے تحفظ اور اس امر کو یقینی بنانے تک پھیلا ہوا ہے کہ ڈیجیٹل اختراعات انسانیت کے فائدے کے لیے موثر اور ذمہ دارانہ انداز میں تیار اور نافذ کی جائیں۔ صدر انسٹی ٹیوشن آف انجینئرز پاکستان انجینئر سہیل بشیر نے کہا کہ قومی ادارے اور جامعات وہ مراکز ہیں جہاں علم کی تخلیق، اطلاقی تحقیق اور قومی ترقی ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر آگے بڑھتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل کے انجینئرنگ حل انفرادی کوششوں سے نہیں بلکہ مضبوط باہمی اشتراکِ عمل کے ذریعے تشکیل پاتے ہیں۔ سہیل بشیر نے مزید کہا کہ آج کی دنیا محض ترقی کی متلاشی نہیں بلکہ ذمہ دارانہ ترقی کی خواہاں ہے؛ محض جدت نہیں بلکہ پائیدار جدت کی خواہش مند ہے؛ اور محض ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایسی ٹیکنالوجی چاہتی ہے جو انسانیت کی خدمت کرے اور ہمارے سیارے کا تحفظ یقینی بنائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ ملک کی آبادی دنیا کی کم عمر ترین آبادیوں میں شامل ہے، انجینئرنگ افرادی قوت تیزی سے فروغ پا رہی ہے، اور پاکستان قدرتی وسائل اور قابلِ تجدید توانائی کے بے پناہ امکانات رکھتا ہے جن میں شمسی، ہوائی، آبی، بایوماس اور گرین ہائیڈروجن شامل ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کے پاس پائیدار تبدیلی کے لیے درکار مضبوط بنیادیں موجود ہیں، جنہیں موثر پالیسی، تحقیق اور اشتراکِ عمل کے ذریعے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ رئیس کلیہ علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر بلقیس گل نے کہا کہ دنیا اس وقت غیر معمولی چیلنجز سے دوچار ہے، جن میں موسمیاتی تبدیلی، توانائی کا عدم تحفظ، ماحولیاتی انحطاط اور تیز رفتار ڈیجیٹل تبدیلی شامل ہیں۔ یہ چیلنجز اختراعی، بین الشعبہ جاتی اور پائیدار حل کے متقاضی ہیں۔ اس کانفرنس کا موضوع 20 عظیم گرین انرجی ٹیکنالوجیز، ماحولیاتی پائیداری اور ڈیجیٹل جدت کی فوری ضرورت کی عکاسی کرتا ہے، جو ایک مضبوط اور پائیدار مستقبل کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔ ڈاکٹر گل نے مزید کہا کہ میرا پختہ یقین ہے کہ جامعات اور پیشہ ورانہ ادارے عالمی اور قومی سطح پر درپیش مسائل کے حل میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تحقیق، جدت اور صنعت و پالیسی سازوں کے ساتھ موثر اشتراک کے ذریعے ہم ایسے حل فراہم کر سکتے ہیں جو بامعنی، سائنسی طور پر مستند، معاشی طور پر قابلِ عمل اور ماحولیاتی طور پر ذمہ دار ہوں۔
کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں ترکیہ کی جامعہ کے پروفیسر ڈاکٹر اٹیلا ایوجن نے تفصیلی ٹیکنیکل پریزنٹیشن پیش کی جبکہ سید شجاعت رضوی خطاب کیا۔قبل ازیں صدرشعبہ کیمیکل انجینئرنگ جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر شگفتہ اشتیاق نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کانفرنس کے اغراض ومقاصد پرتفصیلی روشنی ڈالی اورشعبہ کیمیکل انجیئنرنگ جامعہ کراچی کے لیکچر و کانفرنس سیکرٹری انجینئر ڈاکٹر احسن عبدالغنی نے کلمات تشکر ادا کئے

جاوید صدیقی ؛ کراچی ؛ 42101-1922716-7 ؛ 03122514429
فلیٹ ڈی 19 ، سنی ایوینیو ، شادمان ٹاؤن 2 ، سیکٹر 14 بی ، نارتھ ناظم آباد کراچی



