*دریائے جہلم کا صدیوں پرانا خاموش گواہ، پرانا پل مرمت کا منتظر*


*دریائے جہلم کا صدیوں پرانا خاموش گواہ، پرانا پل مرمت کا منتظر*
تحریر: عبدالرحمن قادری
جہلم / سرائے عالمگیر:
دریائے جہلم کے سینے پر ایک صدی سے زائد عرصے سے کھڑا تاریخی ریلوے پل، جسے عوام محبت سے پرانا پل کہتے ہیں، آج بھی ماضی کی عظمت اور انجینئرنگ کے کمال کی یاد دلاتا ہے۔ یہ پل محض لوہے اور پتھر کی ایک تعمیر نہیں بلکہ شمالی پنجاب کی سماجی، معاشی اور سفری تاریخ کا زندہ باب ہے، جو خاموشی سے وقت کے نشیب و فراز کا گواہ رہا ہے۔
تحقیقی اور دستیاب ریلوے و تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس قدیم ریلوے پل کی تعمیر 1873ء تا 1874ء کے دوران مکمل ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب برصغیر براہِ راست برطانوی حکومت کے زیرِ انتظام تھا اور اُس وقت کے وائسرائے ہند لارڈ نارتھ بروک تھے۔ اس زمانے میں پنجاب میں ریلوے نظام کی توسیع برطانوی پالیسی کا اہم جزو تھی، جس کا مقصد فوجی نقل و حرکت، تجارتی سرگرمیوں اور انتظامی ربط کو مضبوط بنانا تھا۔ دریائے جہلم جیسے تیز رفتار دریا پر پل کی تعمیر بھی اسی منصوبہ بندی کی ایک کڑی تھی۔
یہ پل اپنے عہد کی جدید برطانوی انجینئرنگ کا ایک نمایاں نمونہ تھا۔ مضبوط لوہے کا ٹرس سسٹم، دریا کے اندر گہرائی تک بنائے گئے پتھریلے ستون اور سیلابی دباؤ برداشت کرنے والا متوازن ڈیزائن اس کی بنیادی خصوصیات تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ شدید سیلابوں اور موسمی اثرات کے باوجود یہ پل ایک صدی سے زائد عرصے تک مضبوطی سے قائم رہا۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس پل کی شناخت ہمیشہ ریلوے پل کے طور پر ہی رہی۔ برطانوی دور میں اسے Jhelum Railway Bridge یا Railway Bridge over River Jhelum کے نام سے درج کیا گیا، جبکہ قیامِ پاکستان کے بعد یہ پل پاکستان ریلوے کے انتظام میں آ گیا، تاہم اس کی بنیادی شناخت برقرار رہی۔
وقت کے ساتھ عوامی بول چال میں یہ پل مختلف ناموں سے معروف ہوا۔ تنگ ریلوے پٹری (Narrow Gauge) کے باعث یہ این جی پل کہلایا، لوہے کی کراس نما ساخت نے اسے کینچی پل کا نام دیا، اور نئے پلوں کی تعمیر کے بعد عوام نے اسے سہولتاً پرانا پل کہنا شروع کر دیا—یوں یہ نام اس کی تاریخ کا غیر رسمی مگر مضبوط حوالہ بن گیا۔
اگرچہ یہ پل بنیادی طور پر ریلوے کے لیے تعمیر کیا گیا تھا، مگر ایک طویل عرصے تک پیدل مسافر، سائیکل سوار، ٹانگے اور گدھا گاڑیاں بھی اسی پل سے گزرتی رہیں، خاص طور پر اُس وقت جب جہلم اور سرائے عالمگیر کے درمیان کوئی دوسرا مستقل پل موجود نہیں تھا۔ پل کے دونوں سروں پر آہنی دروازے نصب تھے، جو ٹرین کی آمد سے قبل بند اور گزر کے بعد کھول دیے جاتے—یہ اُس دور کے نظم و ضبط کی ایک واضح مثال تھی۔
آج بھی یہ پرانا پل مکمل طور پر فعال ہے۔ اس پر روزانہ شہری ٹریفک کی روانی برقرار ہے اور ریلوے ٹرینیں بھی اسی پل سے گزرتی ہیں۔ اس تناظر میں اس تاریخی پل کی بروقت دیکھ بھال اور مرمت کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، تاکہ عوامی سہولت اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
متعلقہ اداروں کی توجہ کے لیے گزارش
ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ جہلم، ڈپٹی کمشنر جہلم، محکمہ مواصلات و تعمیرات (C&W)، پاکستان ریلوے اور محکمہ آثارِ قدیمہ پنجاب باہمی اشتراک سے اس تاریخی پل کی تکنیکی جانچ، مناسب مرمتی اقدامات اور مستقل نگرانی کو یقینی بنائیں۔ یہ اقدامات نہ صرف ایک صدی پرانے تاریخی ورثے کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ عوامی آمدورفت اور سلامتی کے تقاضوں کو بھی پورا کریں گے۔ امید ہے کہ متعلقہ ادارے بروقت توجہ دے کر پرانے پل کو محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے، تاکہ یہ تاریخی اثاثہ آئندہ نسلوں کے لیے بھی قائم و دائم رہ سکے۔

تحریر: عبدالرحمن قادری


