سندھ

1971ء کی جنگ میں شکست کے جو زخم قوم کے ذہنوں پر ثبت تھے، وہ 10 مئی کو بند اور مندمل

*1971ء کی جنگ میں شکست کے جو زخم قوم کے ذہنوں پر ثبت تھے، وہ 10 مئی کو بند اور مندمل ہو گئے۔ پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز*

*حضور اکرم ﷺ نے جو جنگیں لڑیں، ان کا مقصد اللہ کے قانون کا نفاذ، ظلم کا خاتمہ اور انسانیت کا تحفظ تھا، جبکہ موجودہ دور میں لڑی جانے والی جنگیں زیادہ تر وسائل پر قبضے اور مفادات کے حصول کے لئے کی جاتی ہیں۔ وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی*

*ریاست کی یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اندر نظریاتی وحدت کو یقینی بنائے۔ڈاکٹر عبدالحئی مدنی*

*حضور اکرم ﷺ نے افراد کو قبائلی بنیادوں کے بجائے مقصد سے جڑی ہوئی ایک متحد قوم میں تبدیل کیا، جو آج کی دنیا کے لئے ایک لازوال مثال ہے۔ تشنامیتی روہینٹن پٹیل*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) شریعہ اپلیٹ بینچ سپریم کورٹ کے ایڈہاک ممبر پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ سنہ انیس سو اکہتر عیسوی کی جنگ میں شکست کے جو زخم قوم کے ذہنوں پر ثبت تھے، وہ دس مئی کو بند اور مندمل ہو گئے، جب پاکستان نے سات بھارتی رافیل طیارے مار گرائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد شکست کا احساس ختم ہو کر قومی اعتماد اور افتخار میں تبدیل ہو گیا، جو ریاستی دفاعی حکمتِ عملی کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے، اور جس کے اثرات معاشرے کے ہر فرد تک پہنچتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی نئی نسل اعتماد، حوصلے اور فتح کے احساس کے ساتھ پروان چڑھے گی۔ آج کا پاکستان سنہ انیس سو اکہتر عیسوی والا پاکستان نہیں رہا بلکہ یہ دس مئی کے بعد کا پاکستان ہے، جس کی دفاعی حکمتِ عملی کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے، اور دنیا کی بڑی طاقتیں اب پاکستان کے تجربات اور حکمتِ عملی کے بارے میں سوال کر رہی ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز نے حضور اکرم ﷺ کی مختلف جنگوں میں اختیار کی گئی دفاعی حکمتِ عملی، تدابیر اور معلوماتی نظام پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نہ صرف آج بلکہ رہتی دنیا تک حضور اکرم ﷺ کی عسکری اور دفاعی حکمتِ عملی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھی اسی فکری اور عملی تناظر میں آگے بڑھ رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیرت چیئر جامعہ کراچی اور شعبہ عربی جامعہ کراچی کے زیر اہتمام چائنیز ٹیچرز میموریل آڈیٹوریم جامعہ کراچی میں منعقدہ دو روزہ قومی سیرت کانفرنس بعنوان:”ریاست کی دفاعی حکمت عملی، سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں” کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کی جانب سے سیرت نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا۔ ڈاکٹر قبلہ ایاز نے مزید کہا کہ داخلی امن اور استحکام کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں۔ جب ملک میں امن قائم ہو اور معیشت مستحکم ہو تو تجارت فروغ پاتی ہے، اور اسی صورت میں دنیا پاکستان کی طرف توجہ دیتی ہے اور اسے ایک ذمہ دار اور مضبوط ریاست کے طور پر دیکھتی ہے۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا ہے کہ جدید دور کی جنگوں اور عہدِ نبویؐ کی جنگوں کے مقاصد میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے جو جنگیں لڑیں، ان کا مقصد اللہ کے قانون کا نفاذ، ظلم کا خاتمہ اور انسانیت کا تحفظ تھا، جبکہ موجودہ دور میں لڑی جانے والی جنگیں زیادہ تر وسائل پر قبضے اور مفادات کے حصول کے لئے کی جاتی ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے مزید کہا کہ آج کی جنگوں میں زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا ایک حکمتِ عملی سمجھا جاتا ہے، جبکہ نبی کریم ﷺ کی قیادت میں لڑی جانے والی جنگوں میں کم سے کم جانی و مالی نقصان کو یقینی بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں نہ صرف جنگی قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے بلکہ لاشوں کی بے حرمتی تک کی جاتی ہے، جبکہ حضور اکرم ﷺ نے جنگی قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی واضح ہدایات دی ہیں۔ وائس چانسلر جامعہ کراچی کا کہنا تھا کہ ہمیں حضور اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ پر زیادہ سے زیادہ تحقیق کرنی چاہیے، جنہوں نے پوری دنیا کو انسانیت، عدل اور برابری کا پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضور اکرم ﷺ دنیا کے بہترین اور مثالی رہنما ہیں۔ ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے مزید کہا کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی ہمارے لیے ہر شعبۂ حیات میں مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے اور دنیا کا کوئی ایسا میدان نہیں جہاں قرآنِ مجید اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات ہماری راہنمائی نہ کرتی ہوں۔ این ای ڈی یونیورسٹی کے چیئرمین شعبہ لازمی مطالعات پروفیسر ڈاکٹر عبدالحئی مدنی نے کہا ہے کہ ریاست کی یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اندر نظریاتی وحدت کو یقینی بنائے، بالخصوص پاکستان جیسے ملک میں جو ایک مخصوص نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں رہنے والے تمام افراد، چاہے ان کا تعلق کسی بھی قوم، قبیلے یا مذہب سے ہو، انہیں ریاستی نظریے کے ساتھ وابستہ رہنا ہوگا، اور اس ضمن میں زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جانی چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جو عناصر ملک کی نظریاتی حدود کو چھیڑنے یا انہیں مخدوش کرنے کی کوشش کریں، ان کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ہم اندرونی طور پر متحد نہیں ہوں گے، بیرونی دشمن کا مقابلہ کرنا مشکل رہے گا۔ ڈاکٹر عبدالحئی مدنی نے کہا کہ اسلام غیر مسلموں کے حقوق کے تحفظ کا پابند کرتا ہے، اور اس حوالے سے پاکستان کا کردار فعال اور قابلِ فخر نظر آتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ریاست کی معاشی مضبوطی ناگزیر ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کفایت شعاری کو بھی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے بڑے بڑے مجرموں کو معاف فرمایا، لیکن دو قسم کے لوگوں کو معاف نہیں کیا۔ ایک وہ جو معاہدہ کرنے کے بعد اسے توڑ دے، اور دوسرا وہ جو ایسا عمل کرے جس سے پورا معاشرہ متاثر ہو۔ پارسی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی تشنامیتی روہینٹن پٹیل نے کہا کہ جدید ریاستوں کے لئے اس میں واضح پیغام ہے کہ داخلی اتحاد اور انصاف ہی دفاع کی پہلی صف ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے اسٹریٹیجک تیاری، انٹیلیجنس کے حصول اور حالات سے مکمل آگاہی پر خصوصی زور دیا۔ چاہے غزوۂ خندق میں دفاعی حکمتِ عملی ہو، احد میں دفاعی پوزیشن ہو یا حدیبیہ میں سفارتی بصیرت، ہر فیصلہ محض طاقت کے استعمال کے بجائے گہرے اسٹریٹیجک شعور کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو ریاست دفاع کے نام پر اخلاقیات کو ترک کر دیتی ہے، وہ شاید وقتی طور پر جنگ جیت لے، مگر بالآخر اپنی ساکھ، استحکام، اتحاد، ایمان اور قومی عزم کھو دیتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے دفاع صرف اسلحے سے نہیں بلکہ ایمان، نظم و ضبط اور اتحاد سے تعمیر کیا۔ آپ ﷺ نے افراد کو قبائلی بنیادوں کے بجائے مقصد سے جڑی ہوئی ایک متحد قوم میں تبدیل کیا، جو آج کی دنیا کے لیے ایک لازوال مثال ہے۔ سیکریٹری اوقاف و مذہبی امور عطااللہ شاہ بخاری نے کہا ہے کہ سرورِ کائنات حضرت محمد ﷺ نے غیر معمولی انٹیلیجنس اور حکمتِ عملی کو نہایت مؤثر انداز میں بروئے کار لایا، جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے جنگِ احزاب میں مسلمانوں کو عظیم فتح سے نوازا۔ یہ کامیابی تاریخِ انسانی میں آج بھی ایک مثالی حیثیت رکھتی ہے۔ اس موقع پر سیکریٹری ایجوکیشن ملیر گریژن کرنل ڈاکٹر حافظ شاہد علی نے "ریاست کی دفاعی حکمتِ عملی، سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں” کے عنوان سے تفصیلی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے میثاقِ مدینہ کے ذریعے قبائل کے ساتھ مکالمہ، باہمی معاہدات اور حسنِ سلوک کو فروغ دیا۔ آپ ﷺ کی عملی زندگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ریاستی استحکام کے لیے اندرونی اتحاد، برداشت، امن، اخلاق اور معاہدات کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیرت النبی ﷺ یہ تعلیم دیتی ہے کہ بندوق، جارحیت اور جنگ آخری راستہ ہیں، جبکہ ترجیح ہمیشہ امن، گفت و شنید اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کو دی جانی چاہیے، جیسا کہ قرآن اور نبی کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ سے ثابت ہوتا ہے۔ قبل ازیں ڈائریکٹر سیرت چیئر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر عزیز الرحمن سیفی نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کانفرنس کے اغراض ومقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی جبکہ رئیس کلیہ فنون وسماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ سعید نے کلمات تشکر ادا کئے۔ کانفرنس میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد اسحاق عالم نے انجام دیئے۔ کانفرنس سے المدینہ اسلامک ریسرچ سینٹر کے سی ای او عثمان صفدر نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس کے اختتام پر سانحہ گل پلازہ میں جان کی بازی ہارنے والوں کے لئے دعائے مغفرت اور زخمی ہونے والوں کی جلد صحتیابی کے لئے اجتماعی دعا کی گئی۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You