سندھ

ضلع شہید بینظیر آباد میں ایڈز کے کیسز اور محکمہ صحت کے اقدامات

*ضلع شہید بینظیر آباد میں ایڈز کے کیسز اور محکمہ صحت کے اقدامات*

تحریر: اعجاز علی تیونو، انفارمیشن آفیسر شہید بینظیر آباد

شہید بینظیر آباد سندھ کا ایک اہم اور بڑا ضلع ہے جو ہمیشہ تعلیمی، سماجی اور انتظامی سرگرمیوں کے حوالے سے مرکزِ نگاہ رہا ہے۔ یہ ضلع صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کا آبائی علاقہ بھی ہے، جس کے باعث اسے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ گزشتہ چند مہینوں کے دوران ضلع شہید بینظیر آباد میں ایڈز (HIV/AIDS) کے کیسز میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے، جس نے عوام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ایڈز ایک مہلک بیماری ہے جو انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں مریض معمولی بیماریوں سے بھی لڑنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ایڈز کا وائرس عام طور پر متاثرہ خون کی منتقلی، غیر محفوظ جنسی تعلقات، متاثرہ سوئیوں، کینولا یا طبی آلات کے دوبارہ استعمال اور ماں سے بچے کو منتقل ہو سکتا ہے شہید بینظیر آباد میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ ان میں سے کئی کیسز عطائی ڈاکٹروں، غیر قانونی لیبارٹریوں اور غیر تربیت یافتہ طبی عملے کی غفلت کے باعث سامنے آئے۔ایڈز کے بڑھتے کیسز پر میڈیا رپورٹس کے بعد صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو اور کمشنر شہید بینظیر آباد ڈویژن شہمیر خان بھٹو نے فوری نوٹس لیتے ہوئے محکمہ صحت کے حکام کو انکوائری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی جبکہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو خود نواب شاہ پہنچیں اور شہید بینظیر آباد و نوشہرو فیروز کے افسران کے ساتھ علیحدہ علیحدہ اجلاس منعقد کیے، جن میں ایڈز کے پھیلاؤ کا سبب بننے والی لیبارٹریوں، عطائی ڈاکٹروں اور کینولا سینٹرز کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا حکم دیا گیا۔ صوبائی وزیرِ صحت نے سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے ضلعی افسر کی بہتر کارکردگی نہ ہونے پر عہدے سے ہٹا دیا۔ وزیرِ صحت اور کمشنر کی ہدایات کے بعد ڈپٹی کمشنر شہید بینظیر آباد عبدالصمد نظامانی، محکمہ صحت اور ہیلتھ کیئر کمیشن کے افسران نے فوری جامع حکمتِ عملی پر عمل شروع کر دیا اور ہیلتھ کیئر کمیشن کی ٹیم، فوکل پرسن ڈاکٹر مقصود سومرو کی سربراہی میں، پولیس، اسسٹنٹ کمشنرز اور ڈرگ انسپکٹرز کے ساتھ مل کر عطائی ڈاکٹروں، غیر رجسٹرڈ لیبارٹریوں اور کینولا سینٹرز کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہی ہیں۔ کئی مقامات سے غیر معیاری آلات اور استعمال شدہ سرنجیں ضبط کی گئی ہیں۔ کارروائیوں کے دوران 10 سے زائد عطائی ڈاکٹروں کے خلاف ایف آئی آرز درج کی گئیں، 134 کلینکس سیل کیے گئے اور ان کا سامان ضبط کیا گیا۔اسی طرح، ڈرگ انسپکٹرز کی جانب سے غیر معیاری اور مقررہ تاریخ ختم شدہ ادویات فروخت کرنے والے میڈیکل اسٹورز کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے، کئی اسٹورز کو سیل کر دیا گیا ہے۔

ایڈز کے بڑھتے کیسز کے پیشِ نظر ضلع بھر کے اسپتالوں، تحصیل ہیڈکوارٹرز اور رورل ہیلتھ سینٹرز میں ایڈز اسکریننگ کیمپس قائم کیے گئے ہیں جہاں عوام کو مفت ٹیسٹ اور مشاورت فراہم کی جا رہی ہے۔ ضلع انتظامیہ، محکمہ صحت اور سماجی تنظیموں کے تعاون سے اسکولوں، کالجوں، یونین کونسل سطح اور دیہی علاقوں میں آگاہی سیشنز بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔ عوام کو بتایا جا رہا ہے کہ ایڈز کیسے پھیلتا ہے، اس سے بچاؤ کے طریقے کیا ہیں، اور مختلف میڈیا ذرائع — ریڈیو، ٹی وی، اور سوشل میڈیا — کے ذریعے بھی آگاہی دی جا رہی ہے۔مذہبی رہنماؤں کو بھی آگاہی مہم میں شامل کیا گیا ہے تاکہ وہ عوام کو درست معلومات فراہم کریں اور غلط فہمیاں دور کریں۔

ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کی خصوصی ہدایات پر پیپلز میڈیکل اسپتال نواب شاہ سمیت دیگر مراکز میں HIV کے علاج کے لیے خصوصی یونٹس قائم کیے گئے ہیں، جہاں مریضوں کو مفت ادویات اور نفسیاتی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ جبکہ محکمہ صحت کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ علاج کے لیے ہمیشہ مستند ڈاکٹروں سے رجوع کریں، خون صرف تصدیق شدہ بلڈ بینک سے حاصل کریں، اور کسی بھی قسم کے طبی آلات دوبارہ استعمال نہ کریں۔ ساتھ ہی معاشرے سے اپیل کی گئی ہے کہ ایڈز کے مریضوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کیا جائے، کیونکہ یہ بیماری نہیں بلکہ ایک سماجی ذمہ داری کا معاملہ ہے۔ایڈز کی روک تھام کے لیے حکومت، محکمہ صحت اور عوام کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ اگر آگاہی میں اضافہ ہوا، عطائی ڈاکٹروں کے خلاف کاروائی اور ہر شخص اپنی صحت کے حوالے سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، تو ضلع شہید بینظیر آباد کو جلد اس بیماری سے پاک کیا جا سکتا ہے۔ محکمہ صحت کے کیے گئے اقدامات امید کی کرن ہیں جو مستقبل میں ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کا سبب بن سکتے ہیں۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You