سندھ

نوابشاہ (رپورٹ. انور عادل خانزادہ)حیسکو سول ورکس ڈویژن کے مشکوک ٹینڈرز: کرپشن کا نیا باب

نوابشاہ (رپورٹ. انور عادل خانزادہ)حیسکو سول ورکس ڈویژن کے مشکوک ٹینڈرز: کرپشن کا نیا باب کھلنے کو تیارحیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کے سول ورکس ڈویژن میں کرپشن کے سائے مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ حالیہ جاری ہونے والے دستاویزات کے مطابق ایگزیکٹو انجنیئر سول ورکس ڈویژن کی نگرانی میں کروڑوں روپے کے منصوبوں کے بار بار ٹینڈر جاری کیے جا رہے ہیں، جن میں کئی ایک جیسے اور غیر ضروری نوعیت کے کام شامل ہیں۔دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف گرڈ اسٹیشنز پر بار بار ایک ہی نوعیت کے مرمتی اور تعمیراتی کام (Boundary Wall, Switch Yard, Sump Room, Pump Room وغیرہ) کے نام پر بھاری بھرکم رقم مختص کی جا رہی ہے۔ صرف چند اسکیموں پر ہی کروڑوں روپے کی لاگت دکھائی گئی ہے، جس سے شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پہلے ہی حیسکو کے اکاؤنٹس اینڈ فنانس اسکینڈل پر نیب اور ایف آئی اے کی تحقیقات جاری ہیں۔ اب ایک اور بڑا کرپشن اسکینڈل تحقیقات کے لیے تیار ہے، لیکن تاحال نیب اور ایف آئی اے کی خاموشی عوام اور ملازمین کے لیے سوالیہ نشان بن گئی حیدرآباد: حیسکو ریجنل ٹریننگ کالج RTC جامشورو کے ترقیاتی کاموں میں ناقص مٹیریل اور سول انجنیئرز کے بجائے غیر متعلقہ سائٹ انجنیئر (سپروائیزرس) الیکٹریکل انجینئرز کے زیرنگرانی، ناقص کام کروانے پر پرنسیپل ریجنل ٹریننگ کالج جامشورو RTC ایڈیشنل سپریٹینڈنگ انجنیئر صفدر علی میمن کی جانب سے حیسکو چیف آپریٹنگ آفیسر جناب اعجاز علی شیخ کو ارسال کیا گیا تحریری شکایتی لیٹر، (سول ورکس) ڈویژن کے ترقیاتی کاموں پر ایک سوالیہ نشان ہے حیدرآباد الیکٹرک کمپنی حیسکو کے سول ورکس ڈویژن کی جانب سے ریجنل ٹریننگ کالج جامشورو میں جاری ترقیاتی و تعمیراتی کاموں کے حوالے سے سنگین خدشات نے جنم لے لیا ہے۔پرنسپل ریجنل ٹریننگ کالج جامشورو کی جانب سے چیف آپریٹنگ آفیسر حیسکو کو ارسال کردہ مراسلے میں انکشاف کیا گیا ہے، کہ (سول ورکس) ڈویژن حیسکو حیدرآباد کے متعلقہ انجنیئرز و افسران کی زیرنگرانی جاری ترقیاتی و تعمیراتی منصوبوں میں ناقص کوالٹی مٹیریل کے استعمال اور غیر شفافیت نے کمپنی کی ساکھ اور نظم و ضبط کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔تھرڈ پارٹی انکوائری اور معائنے کا مطالبہ: مراسلے میں واضح کیا گیا ہے، کہ حیدرآباد حیسکو سول ورکس ڈویژن کی جانب سےRTC حیسکو جامشورو میں جاری ترقیاتی و تعمیراتی کاموں کے معائنے کے لیے ایسے انجنیئرز و افسران مامور کیے گئے ہیں، جنہیں سول ورکس کا کوئی تجربہ یا مہارت بلکل بھی حاصل نہیں ہے!!! جس کے باعث کروڑوں روپے کے منصوبوں کی شفافیت پر سوال؟ اٹھ رہا ہے ۔ اس صورتحال میں پرنسپل RTC نے مطالبہ کیا ہے کہ تھرڈ پارٹی ویری فکیشن کے ذریعے تمام جاری اور مکمل شدہ سول ورکس کا از سرِ نو معائنہ کیا جائے۔مزید برآں، مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹھیکیداروں کو جاری کیے گئے ورک آرڈرز اور فنڈز کے استعمال کا جائزہ بھی تیسری پارٹی کے ذریعے لیا جائے تاکہ قومی ادارے اور عوامی فنڈز اور سہولیات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر پہلے ہی حیسکو کے سول ورکس ڈویژن پر مبینہ کرپشن اور ناقص تعمیراتی کاموں کے حوالے سے آوازیں بلند کی جا رہی ہیں۔ متعدد ذرائع کے مطابق، ناقص مٹیریل، تاخیر سے مکمل ہونے والے منصوبے اور مشکوک ٹینڈرز نے ملازمین عوام اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہےحیدرآبادالیکٹرک سپلائی کمپنی حیسکو کے تعمیراتی منصوبوں میں ناقص نگرانی اور معیار پر سوالیہ نشان ہے​مورخہ: 23 اگست 2024 کو جاری کردہ ہدایتی لیٹر کی روشنی میں ​حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (WAPDA) کی جانب سے سول ورکس کی نگرانی کے حوالے سے جاری کردہ ایک اندرونی دستاویز نے کمپنی کے کروڑوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں میں سنگین نقائص اور ناقص معیار کی نشاندہی کی ہے۔ حیسکو کے مینجر سول کی طرف سے ایگزیکٹو انجینئر سول ورکس ڈویژن (CWD) اور متعلقہ ایس ڈی اوز (SDOs) کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام سول ورکس کو معیاری خصوصیات اور معیار کے مطابق انجام دیں، اس کے باوجود ناقص تعمیرات کا معاملہ سامنے آیا ہے۔​یہ دستاویز، جس کا موضوع "سول ورکس کی نگرانی” ہے، میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ چیف ایگزیکٹو آفیسر حیسکو نے حال ہی میں منظور شدہ 12 گرڈ اسٹیشنز پر بارش سے تحفظ کے کاموں میں بہت گہری دلچسپی لی ہے۔ 2022 کے سیلاب کے پیش نظر، یہ حکم دیا گیا تھا کہ کام کی تکمیل کے بعد گرڈ اسٹیشن کے احاطے میں پانی باقی نہ رہے اور اس کی نکاسی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔​سخت ہدایات کے باوجود ناقص کارکردگی ​مینجر سول کی جانب سے جاری کردہ نوٹ میں خاص طور پر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بارش/سیوریج کے پانی کی نکاسی کے لیے ڈیزائن انجینئرز کی مشاورت سے جو ہولو آر سی سی کورز کے ساتھ سوراخ دار پائپوں (perforated pipes) کے بجائے کھلے نالے (Open drains) بنانے کی تجویز دی گئی تھی، اس پر سختی سے عمل کیا جائے۔ اس کا مقصد سوراخ دار پائپوں میں رکاوٹ (choking) کے بار بار پیش آنے والے مسئلے سے بچنا تھا۔ مزید یہ کہ، گرڈ اسٹیشن کی چھت، سوئچ یارڈ گیٹ پر ریمپ کی تعمیر، اور باؤنڈری وال (Boundary Wall) کے ٹوٹے ہوئے حصوں کی مرمت کے ذریعے پانی کے داخلے کو روکنے کے لیے بھی جامع ہدایات دی گئی تھیں۔ خاص طور پر باؤنڈری وال کے ڈی پی سی (D.P.C) تک کے حصے کو خصوصی طور پر ریت اور سیمنٹ کے مخصوص تناسب سے مرمت کرنے کا کہا گیا تھا۔​کروڑوں کا نقصان اور کمپنی کی ساکھ ​دستاویز کے دوسرے حصے میں یہ تشویشناک نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ "یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ سائٹ پر کام کے باقی رہنے کے باوجود، ایم بیز (MBs) پر کارروائی کی جاتی ہے اور اس دفتر میں جمع کرائی جاتی ہے۔” مینجر سول نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ "جب بھی یہ دفتر سائٹ کا معائنہ کرتا ہے، اگر کام نامکمل ہو یا معیاری خصوصیات کے مطابق صحیح طریقے سے انجام نہ دیا گیا ہو، تو یہ کسی بھی قیمت پر قابل برداشت نہیں ہو گا اور ای اینڈ ڈی (E&D) رول کے تحت سخت تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہ صورتحال واضح طور پر اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اعلیٰ انتظامیہ کی واضح اور سخت ہدایات کے باوجود، نچلی سطح پر نگرانی کے نظام میں بڑے نقائص موجود ہیں۔ حیسکو کے مینجر سول کی جانب سے سخت الفاظ میں جاری کردہ یہ ہدایت نامہ اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ کمپنی کے کروڑوں روپے کے تعمیراتی و ترقیاتی منصوبوں کی ناقص نگرانی اور نادیدہ کرپشن کی وجہ سے ناقص تعمیرات کا خمیازہ اس وقت کمپنی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ یہ نہ صرف قومی خزانے کا ضیاع ہے بلکہ حیسکو کی عوامی اور آپریشنل ساکھ (Credibility) پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ان سخت ہدایات پر عمل نہیں ہو رہا اور ناقص کام کرنے والے ذمہ داران کے خلاف کارروائی نہیں کی جارہی ہے

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You