سندھ

*جامعہ کراچی میں سالانہ یوم مصطفی ﷺ کا انعقاد*

*جامعہ کراچی میں سالانہ یوم مصطفی ﷺ کا انعقاد*

*نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اصل پابندی اُس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان جھوٹے خداؤں کو للکارتا ہے اور باطل نظام کے خلاف کھڑا ہوتا ہے۔ علامہ سید حسن ظفر نقوی*

*آج دنیا کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، اُن میں سب سے بڑا مسئلہ حق اور باطل کے درمیان جاری کشمکش ہے۔ وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر خالد محمود عراقی*

*اتباع دراصل محبت اور اطاعت کے مجموعے کا نام ہے، محض ڈنڈے کے زور پر اتباع ممکن نہیں ہوسکتی، جب تک دل کے خلوص میں محبتِ رسول ﷺ کی شمع فروزاں نہ ہو۔علامہ سید عقیل انجم قادری*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) علامہ سید حسن ظفر نقوی نے کہا ہے کہ انسانی تاریخ میں ایسے ادوار بھی گزرے ہیں جب معاشرہ مختلف اکائیوں میں تقسیم تھا اور ناانصافی کا یہ حال تھا کہ جانور کی قیمت عورت اور غلام سے زیادہ سمجھی جاتی تھی۔ اس دورِ ظلم و بربریت میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اس وقت کے نظام کے خلاف آواز بلند کی اور باطل کے سامنے ڈٹ گئے۔ انہوں نے کہا کہ اُس وقت خانہ کعبہ میں تین سو ساٹھ بت موجود تھے اور ہر قبیلے نے اپنا الگ الگ بت نصب کر رکھا تھا۔ یہی نہیں بلکہ ان بتوں اور باطل نظام کو بچانے کے لئے تین سو ساٹھ فکری گروہ، جو آپس میں دشمن تھے، ایک ہو گئے تاکہ حق اور انصاف کی آواز کو دبایا جاسکے۔ علامہ حسن ظفر نقوی نے موجودہ عالمی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج امریکہ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اصل پابندی اُس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان جھوٹے خداؤں کو للکارتا ہے اور باطل نظام کے خلاف کھڑا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا سنتِ رسولﷺ ہے اور یہی وہ راہ ہے جو انسانیت کو نجات دلا سکتی ہے۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے دفتر مشیر امور طلبہ جامعہ کراچی کے زیر اہتمام پارکنگ گراؤنڈ بالمقابل آرٹس لابی جامعہ کراچی میں منعقدہ سالانہ”یوم مصطفی ﷺ“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، علامہ سید عقیل انجم قادری، پروفیسر ڈاکٹر زاہد علی زاہدی، مشیر امور طلبہ جامعہ کراچی ڈاکٹر نوشین رضا، کیمپس سیکیورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر سلمان زبیر اور جامعہ کراچی کے مختلف شعبہ جات کے اساتذہ اور طلباوطالبات کی کثیر تعداد موجود تھی۔ علامہ سید حسن ظفر نقوی نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سعت قلبی پیدا کرو، دوسرے کو گلے سے لگانا اور قریب آنا سیکھو۔ ایسی گفتگو سے پرگریز اور پرہیز کرو جس سے اختلاف پیدا ہو۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی آمد سے پوری دنیا کو انسانیت، اخوت اور امن کا عظیم پیغام ملا۔ آپ ﷺ نے اپنی سیرتِ طیبہ اور عملی نمونے کے ذریعے دنیا کو یہ درس دیا کہ انسانیت کی اصل کامیابی باہمی محبت، انصاف اور امن کے قیام میں ہے۔ موجودہ دور میں درپیش مسائل کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم سیرتِ نبوی ﷺ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ آج دنیا کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، اُن میں سب سے بڑا مسئلہ حق اور باطل کے درمیان جاری کشمکش ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے ہمیشہ حق کا ساتھ دینے اور باطل کے مقابلے میں ڈٹ جانے کا پیغام دیا ہے۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے کہا کہ آج غزہ کے مظلوم مسلمان اپنے حق کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ظلم و بربریت کا شکار ہیں۔ یہ ہم سب کی دینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے کہ ہم ان کے لیے آواز بلند کریں اور ہر ممکن عملی اقدام اٹھائیں۔ بحیثیت مسلم اُمہ ہم سب کو اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرنے اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ اگر ہم سیرتِ طیبہ ﷺ کو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں اپنالیں تو نہ صرف موجودہ مسائل کا حل ممکن ہوگا بلکہ دنیا بھر میں امن و انصاف کا قیام بھی یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ آپ ﷺ تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے اور یہ رحمت ہمیشہ کے لئے ہے۔ حضوراکرم ؐؐ کی تعلیمات میں نہ صرف عصر حاضر بلکہ آنے والے وقتوں اور ادوار کے مسائل کا حل بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم حضورؐ کی سیرت اور حضورؐ کے عشق و اتباع کو تمغوں کی طرح سجائے آگے بڑھتے رہے ہم نے ریگزاروں سے لیکر بڑے بڑے شہنشاہی محلوں تک فتح کی تاریخ رقم کی۔ تحقیق و تدریس کا وہ معیار قائم کیا کہ اغیار بھی دنگ رہ گئے۔ علامہ سید عقیل انجم قادری نے کہا ہے کہ اتباع دراصل محبت اور اطاعت کے مجموعے کا نام ہے، محض ڈنڈے کے زور پر اتباع ممکن نہیں ہوسکتی، جب تک دل کے خلوص میں محبتِ رسول ﷺ کی شمع فروزاں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دورِ دہریت اور نفسا نفسی میں اگر انسانیت کو تباہی و بربادی سے بچا کر فلاح کے راستے پر گامزن کرنا ہے، اور جہنم کی راہوں سے بچا کر جنت کی راہوں کی طرف لے جانا ہے تو دنیا کے سامنے حضرت محمد ﷺ کے ”رحمت للعالمین” کے پیغام کو اجاگر کرنا ہوگا۔ علامہ عقیل انجم قادری نے مزید کہا کہ رسول اکرم ﷺ نے وہ شمع روشن کی جس میں نہ گورے کو کالے پر اور نہ ہی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت دی گئی، بلکہ تقویٰ کو ہی اصل معیار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے جو کچھ فرمایا، اس پر سب سے پہلے خود عمل کرکے دکھایا۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You