سندھ

جامعہ کراچی کا تینتیسواں سالانہ جلسہ تقسیم اسناد

*جامعہ کراچی کا تینتیسواں سالانہ جلسہ تقسیم اسناد*

*جلسہ تقسیم اسناد میں تعلیمی سال 2023 ء مارننگ وایوننگ پروگرام کے مختلف شعبہ جات کے 7248 طلباوطالبات کو ڈگریاں تفویض*

*آنرز، ماسٹرز اور بی ایس پروگرام کے مختلف شعبہ جات کے مارننگ و ایوننگ پروگرام میں پوزیشن حاصل کرنے والے 244 طلباوطالبات کو گولڈ میڈل تفویض*

*آج ہم نے اسلام کے نام پر یہ ملک حاصل تو کرلیا لیکن حقوق العباد کو ہم بھول چکے ہیں اور حقوق العباد پرعمل کے بغیر ترقی ممکن نہیں، گورنرسندھ کامران خان ٹیسوری*

*جامعہ کراچی سندھ کی واحد یونیورسٹی ہے جو کیو ایس رینکنگ میں شامل ہے۔چیئرمین سندھ ایچ ای سی ڈاکٹر طارق رفیع*

*آج طلباوطالبات کو جو اسناد دی جارہی ہیں، یہ محض کاغذ کے چند ٹکڑے نہیں، بلکہ یہ اسناد کامیابی کا آغاز ہیں، وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کا تینتیسواں سالانہ جلسہ تقسیم اسناد گزشتہ روز ایکسپو سینٹر میں منعقد ہوا جس کی صدارت گورنر سندھ و چانسلر جامعہ کراچی محمد کامران خان ٹیسوری نے کی۔ جلسہ تقسیم اسناد میں تعلیمی سال 2023 ء مارننگ و ایوننگ پروگرام کے مختلف شعبہ جات کے 7248 طلباوطالبات کو ڈگریاں تفویض کی گئیں، اسی طرح 60 طلباوطالبات کو مختلف شعبہ جات میں پی ایچ ڈی جبکہ 43 طلبہ کو ایم فل اور 02 طلبہ کو ایم ایس کی ڈگریاں تفویض کی گئیں۔ تفصیلات کے مطابق 2023 ء کے امتحانات میں پوری جامعہ کی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی حافظہ اقصیٰ انور کو طلائی تمغہ سے نوازا گیا جبکہ کلیہ جات کی سطح پر 2023 ء کے امتحانات میں کلیہ فنون و سماجی علوم میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی انزیلہ، کلیہ تعلیم میں شعبہ اسپیشل ایجوکیشن کی رابعہ شہباز، کلیہ معارف اسلامیہ کے شعبہ علوم اسلامی کی مریم، کلیہ قانون میں علشبہ جیلانی، کلیہ نظمیات و انتظامی علوم میں شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کی ہانیہ ساجد اور کلیہ علم الادویہ میں عمامہ کو طلائی تمغوں سے نوازا گیا۔ اسی طرح کلیہ علوم میں کلیہ کی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی حافظہ اقصیٰ انور اور کلیہ انجینئرنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر زین عادل کو طلائی تمغوں سے نوازا گیا۔ جلسہ تقسیم اسناد میں آنرز، ماسٹرز اور بی ایس پروگرام سال 2023 ء کے مختلف شعبہ جات کے مارننگ و ایوننگ پروگرام میں پوزیشن حاصل کرنے والے 244 طلباوطالبات کو گولڈ میڈل تفویض کئے گئے۔ جن شعبہ جات میں ڈگریاں تفویض کی گئیں ہیں ان میں بی اے (آنرز)، بی ایس سی (آنرز)، بی اے۔ ایل ایل بی، بی بی اے، بی ایڈ (آنرز)، بی پی اے (آنرز)، بی ایس (اکنامکس اینڈ فائنانس)، بی ایس (کمپیوٹشنل میتھمیٹکس)، بی ایس (فائنینشل میتھمیٹکس)، بی ایس (ہیومن ریسورس)، بی ایس (سپلائی چین مینجمنٹ)، بی ایس بی اے، بیچلر آف لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس، بی ایس (پبلک ایڈمنسٹریشن)، بیچلرز آف ڈیزائن، بیچلرز آف فائن آرٹس، بیچلرز آف آرکیٹیکچر، بی ایس سی ایس، بی ایس ایس ای، آڈیولوجی اینڈ اسپیچ پیتھالوجی، ڈاکٹر آف فزیکل تھراپی، ایگزیکیٹو ایم بی اے، ایم اے، ایم ایس سی، ایم پی اے، ایم بی اے، ایم سی ایس، پی جی ڈی اور فارم ڈی شامل ہیں۔ جلسہ تقسیم اسناد میں 60 طلبہ کو پی ایچ ڈی، 32 طلبہ کو ایم فل جبکہ ایک طالبعلم کو ڈی ایس سی اور ایک طالبعلم کو ایم ایس کی ڈگری تفویض کی گئی۔ جس میں کلیہ فنون و سماجی علوم میں 11 طلباوطالبات کو پی ایچ ڈی جبکہ 09 کو ایم فل، کلیہ نظمیات انتظامی علوم میں 10 طلبہ کو پی ایچ ڈی جبکہ ایک طالبعلم کو ایم فل کی ڈگری تفویض کی گئی، کلیہ علوم میں 21 طلباوطالبات کو پی ایچ ڈی جبکہ 15 طلباوطالبات کو ایم فل کی ڈگریاں تفویض کی گئیں۔ کلیہ علم الادویہ میں 07 طلبہ کو پی ایچ ڈی کی ڈگریاں تفویض کی گئیں۔ کلیہ تعلیم میں 06 طلبہ کو پی ایچ ڈی جبکہ 06 طلبہ کو ایم فل کی ڈگریاں تفویض کی گئیں اور کلیہ قانون میں 04 طلبہ کو پی ایچ ڈی کی ڈگریاں تفویض کی گئیں۔ ڈی ایس سی کی ڈگری شعبہ کیمیاء جبکہ ایم ایس کی ڈگریاں گائناکولوجی اور آپریٹو ڈینٹسٹری میں تفویض گئیں۔ گورنر سندھ محمد کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ اس جلسہ گاہ میں سب سے اہم اور آج کے دن کے منتظر ان تمام طلباوطالبات کے والدین ہیں جنہوں نے 16 سال اس دن کا انتظار کیا اور اپنے بچوں کو اس قابل بنایا کہ وہ آج اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے اہل ہوئے ہیں۔آج اس جلسہ تقسیم اسناد میں کچھ طالبات نے تین تین میڈل بھی حاصل کئے جو بہت خوش آئند ہے، لیکن کیا یہ عملی زندگی میں پاکستان کے نظام میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔ یہ طالبات جو اپنی زندگی کے 16 سال دن اور رات محنت کرتی ہیں اور تین تین گولڈ میڈل حاصل کرتی ہیں پھر یہ منظر عام سے کیوں پیچھے چلی جاتی ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ اس معاشرے میں ایک ماں جو یہ تو چاہتی ہے کہ اس کی بیٹی اس معاشرے میں سب کچھ کرے لیکن وہ یہ نہیں چاہتی کہ اس کی بہو چاہے وہ تین گولڈ میڈل حاصل کرے وہ بھی اسی طرح معاشرے میں اپنا حصہ ڈالیں، اس تفریق کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ گورنر سندھ نے مزید کہا کہ آج ہم نے اسلام کے نام پر یہ ملک حاصل تو کرلیا لیکن حقوق العباد کو ہم بھول چکے ہیں، جب تک حقوق العباد پر عمل نہیں ہوگا یہ ملک کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔ہمارے بزرگوں قائد اعظم محمد علی اور علامہ محمد اقبال نے ہمیں ایک آئیڈیل پاکستان دیا تھا لیکن بدقسمتی سے ان کے بعد سے لے کر آنے والے ادوار تک یہ آئیڈیل پاکستان نہیں، ہم آپ کو آئیڈیل پاکستان نہیں دے سکے۔ اب آئیڈیل پاکستان آپ کے ہاتھوں ہے، آپ نے بنانا ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ کو مایوس نہیں ہونا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کبھی کسی کے لئے اپنے دل میں حسد نہ لانا کیونکہ یہ حسد جب دل میں آتی ہے تو یہ سمجھ لینا کہ کفر دل میں آگیا ہے۔ منفی سوچ کو نظر انداز اور مثبت سوچ کو فروغ دینا ہے۔ چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع نے کہا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کو اپنے نوجوان نسل جوکہ مجموعی آبادی کا 62 فیصد ہیں کو ہر لحاظ سے تیار کرنے کی ضرورت ہے، جامعات میں بچوں کو تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ان کی کردار سازی کو بھی یقینی بنایا جائے۔ بحیثیت استاد ہماری ترجیح صرف کتابوں اور امتحانات تک محدود نہیں ہونی چاہئے بلکہ ان نوجوانوں کو ایک اچھا اورقابل طالبعلم بنانے کے ساتھ ساتھ ان کو ایک اچھا انسان بنانا بھی اس ملک، معاشرے اور ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
سندھ حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے لئے 42 ارب اور ڈیولپمنٹ فنڈ کے لئے 08 ارب روپے مختص کئے ہیں اور اس طرح حکومت سندھ نے 30 سرکاری جامعات کے لئے کل 50 ارب روپے مختص کئے ہیں جو دیگر تمام صوبوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ڈاکٹر طارق رفیع نے بتایا کہ جامعہ کراچی سندھ کی واحد یونیورسٹی ہے جو کیو ایس رینکنگ میں شامل ہے، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جامعہ کراچی میں ریسرچ کلچر اور اساتذہ کا ریسرچ کی طرف رجحان کتنا زیادہ ہے کیونکہ کیو ایس رینکنگ میں شامل ہونا ایک مشکل کام ہے۔ ڈاکٹر طارق رفیع نے کیو ایس رینکنگ میں شامل ہونے پر جامعہ کراچی کے تمام اساتذہ اور بالخصوص شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کی قائدانہ صلاحیتوں کا سراہا۔ چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر محمد طارق رفیع نے کہا کہ جلسہ تقسیم ان تمام طلبہ کی زندگی کا سب سے یادگار لمحہ ہوتا ہے جب ان کو اپنی تعلیمی صلاحیتوں اور قابلیتوں کے اعتراف کے طور پر اس جامعہ سے ڈگری تفویض کی جاتی ہے لیکن اس کے بعد ایک عملی زندگی شروع ہوتی ہے جہاں پر آپ ایک تگ و دو، جدوجہد میں شامل ہوجاتے ہیں تاکہ آپ معاشرے میں ایک مقام بناسکے۔ قبل ازیں جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج جب آپ کو یہ اسناد دی جارہی ہیں، تو یہ محض کاغذ کے چند ٹکڑے نہیں، بلکہ یہ اس بات کی گواہی ہیں کہ آپ نے علم کی راہ میں جدوجہد کی، وقت کی قدر کی، اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارا، یہ اسناد آپ کی کامیابی کا آغاز ہیں، نہ کہ انجام۔ اب آپ پر ذمہ داری ہے کہ آپ اس علم کو معاشرے کی فلاح، قوم کی ترقی، اور انسانیت کی خدمت کے لئے استعمال کریں۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے کہا کہ دنیا بھر میں معاشی چیلنجز نے چھوٹے، بڑے، وسائل سے مالا مال اور وسائل کی کمی کے شکار ہر ملک کو، بالخصوص ان تمام ممالک کی نوجوان نسلوں کو اپنے معاشی و سماجی مستقبل سے متعلق فکر مندی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے حالات میں جامعات کو جدید علم و تحقیق پر گہری نظر رکھتے ہوئے مناسب اقدامات کی مدد سے ہر چیلنج کا موٗثر طور پر سامنا کرکے نوجوان نسل سمیت پورے معاشرے کو مادّی سہولیات کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ جامعہ کراچی اپنے طلبا و طالبات اور اساتذہ کی جدید طرز پر پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع حاصل کرتے ہوئے اپنے گریجویٹس کے لیے ذاتی کاروبار اور معقول ملازمتوں کے حصول کو ممکن بنانے کا مضبوط ارادہ رکھتی ہے۔ کاروبار، تجارت، صنعت، صحت اور دیگر شعبہ جات میں اپنی خدمات سے جامعہ کے گریجویٹس نہ صرف اپنے ملک و قوم کے لئے کام کرسکیں گے بلکہ موجودہ دور کے تقاضوں کے عین مطابق وہ گلوبلائزیشن کے عمل میں بھی مؤثر طور پر اپنے ملک کی نمائندگی کے مواقع حاصل کریں گے۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You