نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ)SPHFکے پارٹنر سافکو کی مبینہ نااہلی کے سبب تحصیل دوڑ

نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ)SPHFکے پارٹنر سافکو کی مبینہ نااہلی کے سبب تحصیل دوڑ کے ہزاروں بارش متاثرین امدادی رقم سے محروم،تین سال گزرجانے کے باوجود متاثرین ابھی تک بے گھر،سافکو اہلکار اور ایجنٹوں کی ملی بھگت سے بارش متاثرین کی آنے والی رقم میں لوٹ مار،تفصیلات کے مطابق سندہ حکومت کی جانب سے بارش اور سیلاب متاثرین کو گھروں کی فراہمی کے لئے قائم کردہ ادارے سندہ پیپلز ہاؤسنگ فارفلڈ افیکٹیز SPHFکی جانب سے سندہ بھرمختلف این جی اوز کو اپنا پارٹنر بناکر گھر سروے اور بعدازاں رقم کی فراہمی کا طریقہ کار مرتب کیا گیا،ضلع شہید بینظیر آباد میں سافکو کے ذمے بارش و سیلاب متاثرین کے گھر سروے کا کام کیا گیا،جس میں ہزاروں افراد غلط اندراج ہونے کے سبب ابھی تک امدادی رقم سے محروم ہیں،جسکے سبب وہ اپنے گھروں کی تعمیر کرنے سے قاصر ہیں اور بے گھر ہوکر دربدر ہورہے ہیں،کسی متاثر کا گھر پکا ظاہر کیا گیا ہے،کسی کا گھر اور زمین کا مالک نہ ہونا ظاہر کیا گیا ہے،جبکہ درجنوں متاثرین رقم وصولی سے قبل ہی فوت ہوچکے ہیں،انکی رقم کی ورثاء میں منتقلی کے لئے بھی کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں،بتایا جاتا ہے کہ SPHFاور سافکو کی جانب سے بارش متاثرین کو آسان طریقہ کار مرتب کرکے ویریفکشن کرکے رقم کی فراہمی کے لئے کوئی کاروائی نہیں کی جارہی ہے،ذرائع کے مطابق سافکو اہلکاروں نے ایجنٹوں سے ملی بھگت کرکے امدادی رقم کو کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے،بارش متاثرین کو پہلی قسط75ہزار روپے کی ارسال کی جاتی ہے،جس سے وہ اپنے ایک کمرے نما گھر کی ڈی پی سی کراتا ہے،اس ڈی پی سی کی منظوری کے لئے سافکو اہلکار کی جانب سے بھاری رشوت وصول کی جاتی ہے،جسکے بعد اس متاثرہ شخص کو دوسری قسطایک لاکھ روپے کی موصول ہوتی ہے،اس طرح ہر قسط میں رشوت وصول کی جاتی ہے،ذرائع کے مطابق سینکڑوں افرادکا غلط اندراج کرکے انہیں متاثرین ظاہر کیا گیا ہے انکے نام پر رقم بھی جاری کی گئی ہے،ان افراد سے سافکو اہلکار ایجنٹ کی ملی بھگت سے تمام امدادی رقم کا آدھا وصول کررہے ہیں،ذرائع کے مطابق بارش متاثرین اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے والے افراد کے نام پر آنے والے سولر سامان میں بھی خرد برد کی جارہی ہے،اور ابھی تک ہزاروں افراد کو سولر سامان فراہم نہیں کیا گیا ہے،بتایا جاتا ہے سینکڑوں متاثرین اپنے کیسوں کی منظوری کے لئے دربدر ہورہے ہیں،اور اس سلسلے میں SPHFاور سافکو کی جانب سے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں



