نعرہ تکبیر ۔ ۔ ۔ اللہ اکبرپاکستان ،

نعرہ تکبیر ۔ ۔ ۔ اللہ اکبرپاکستان ،
، ہے سب سے بڑھ کر٭٭٭ہے دیکھو نہ جانے کیساوطن کی مرے، مٹی میں جادوکھلتےِ گلاب بنِ مرجھائے ،، دیتے رہتے ہیں خوشبوخواب تھا اقبال کا ،، دی تعبیر جس کو قائد نے پھر یکجا ہوئی ہر زباں ،، اُس نعرے کی تائید میں جو تھا کہ لے کر رہیں گے پاکستان جو ہے کہ جیتا رہے پاکستان پہاڑ اور دریا، ، کھیت اور فضائیںیاقوت و مرجان ،، شیِروشربت ،، عمدہ غذائیں تمام نعمتوں سے نوازا ہے رب نےپھر شُکر خدا کا ،، ہم کیوں نہ بجا لائیں مِٹا ہے نہ مٹے گا ،، مری ارضِ پاک کا وجودیہ رگوں میں ہے دوڑتا ،، یہ دلوں میں ہے محفوظ شہیدوں کے لہو کی ،، اس کے رنگوں میں ہے لالی خزاؤں کو بھلا یہاں کیوں دیکھے کوئی نگاہوں میں بسی ہے بہاروں سی ہریالی سندھی ہو ں یا بلوچی ،، ہوں پنجابی یا پختون ہیں مساوی اہم و لازم ،، وطن کو سہارتے یہ مضبوط ستون دکھ ، سکھ اپنے سانجھے،، ایک ہی باغ کے پھول ہیں ہم ملِ کر رہیں تو مضبوط چٹان ،، ورنہ اُڑتی دھول ہیں ہم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ پہچان ہماریوطن پر قربان ہے جان بھی ہماری دشمن کےسبھی وار ،، کیوں نہ ہوں بیکار سرحدوں کے محافظ ہمارے ہیں سیسہ پلائی دیوار رب تجھے رکھے آباد پاکستان زندہ باد پاکستان پائندہ باد

کاشف شمیم صدیقی



