*عنوان:حالتِ کفر میں مرا تو کافر مرا، حالتِ ایمان میں مرا تو مومن مرا۔۔۔۔!!*
*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان:حالتِ کفر میں مرا تو کافر مرا، حالتِ ایمان میں مرا تو مومن مرا۔۔۔۔!!*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
آج کا کالم مختلف پہلوؤں، نقاط، جائزوں کے اعتبار سے لکھا گیا ھے، کچھ گزارشات و مشاورات بھی شامل ھیں، ماضی حال اور مستقبل کی اچھی کاوشوں پر بھی اک جھلک پیش کی گئی ہم شروع کرتے ہیں اپنے کالم کو آپریشن بنیان المرصوص سے کہ اسکی بہترین، بےمثال، بینظیر، ناقابل فراموش کامیابی کے بعد جو ملک دشمن عناصر سمجھتے تھے کہ عوام اور افواج پاکستان کے درمیان دوری پیدا کردی ھے انہیں نہایت شرمندگی اور مایوسی کا سامنا پڑا ھے انکی سہولتکاری بھی انہی میں دفن ہوچکی ھے لیکن میں سمجھتا ھوں کہ انکے غلیظ ذہنوں اور ناپاک ارادوں میں کوئی فرق نہیں آیا ھوگا وہ گزشتہ دنوں شکست خور اور مایوس کن بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی عوام سے خطاب کرتے ہوئے اپنی غلاظت و خباثت کو بیان کرتے ہوئے ان بھارتی انتہا پسندوں کو مطمعین کرنے کی کوشش کی ھے جو عقل و شعور سے خالی اور گوبر و پیشاب سے بھرے پڑے ہیں لیکن اسی فیصد باشعور پڑھی لکھی سمجھدار عوام مودی کی پالیسیوں اور انکی انتہا پسند ہشگرد مذہبی و سیاسی جماعت بی جے پی کے مکمل خلاف ہیں مگر یہ دہشتگرد طبقہ ریاستی سہولیات کے سبب انتخابات میں جیتنے کی کوشش کرتا ھے۔ اب جب پا فضائیہ کے آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی کے بعد بھارتی میڈیا اور بھارتی افواج کہیں کا منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی۔ بھارت ایکبار پھر اپنی ناکامی اور شکست کا بدلہ لینے کیلئے کھچڑی پکا رھا ھوگا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرم کی بات اور مان پاکستان نے رکھا ھے تو پاکستان بھی اپنی شرائط لازم رکھے، اور تمام امور لکھت پڑت میں کئے جائیں تاکہ دستاویزات اپنی ایک قانونی شکل رکھ سکے۔ میرے قارئین کو شائد یاد ھو کہ میں نے سابق صدر و ریٹائرڈ جنرل ضیاءالحق کے زمانہ میں افواج پاکستان کی جانب سے دو اہم ترین تسلسل کو سراہا بلکہ جاری رکھنے کی بھی گزارش کی تھی آج پھر میں اپنے وزیراعظم، صدر مملکت، اور آرمی چیف سے گزارش کرتا ھوں کہ فی الفور کالجز میں این سی سی ٹریننگ کا سلسلہ شروع کیا جائے اور اس دو سالہ ٹریننگ کے دو فیصد مارکس کا تحفہ دیا جائے جوکہ یہ عمل پہلے بھی ضیاءالحق صاحب نے جاری کیا ھوا تھا۔ دوسرا یہ کہ ستمبر 8،7،6 کو افواج کی بہادری جنگ 65 کی یاد میں منایا جاتا تھا اور تقریبات و نمائش عوام کیلئے کی جاتی تھیں۔ سیکیورٹی کی بنیاد پر یہ تقریبات عوامی سطح پر ختم کردی گئیں تھیں۔ تقریبات کو منسوخ کرنے کے بجائے عوامی مقامات پر منتقل کردیں جیسے کراچی میں ایکسپو سینٹر میں تین روزہ تقریبات ہوں 6 ستمبر یوم آرمی، 7 ستمبر کو یوم فضائیہ اور 8 ستمبر کو یوم بحری۔ اسی طرح پاکستان کے دیگر بڑے شہروں میں بھی انعقاد ہونا چاہئے تاکہ دشمن جان لے کہ پاک افواج اور پاکستانی عوام ایک پیج پر ہیں اور دو روح یکجان ہیں۔ ہمارے تدریسی نظام میں اسلامیات و معرکہ پاک افواج کو مکمل و مفصل جگہ دی جائے تاکہ ہماری نئی نسلوں میں دین اور وطن کے پاک جذبے جوش مارتے رہیں۔ ہماری نسل نابلد ھے کہ پاکستان کیونکر روحانی بنیاد پر وجود میں آیا احادیث تواریخ اور اولیاء اسلافین نے بہت اشارے فرمائے تھے آسان لفظوں میں پاکستان روئے زمین پر اللہ سبحان تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی منظوری خواہش حکمت عملی کے تحت لاکھوں جانوں انسانی قربانیوں کے بعد معروض وجود میں آیا اور یہیں سے انشاءاللہ غزوہ ھند شروع ہوگی۔ آپ ﷺ کی ہدایت نصیحت رہی ہے کہ امن کے زمانے میں جنگ کی تیاری رکھو یہی وجہ ھے کہ آپ ﷺ نے ظاہری پردہ فرمانے کے بعد اپنی وراثت میں تلوار اور تیر دیئے جو اس زمانے کے بہترین جنگی آلات سمجھے جاتے تھے۔ اسی لئے ان صیہونی طاقتوں سے نبردآزما ہونے کیلئے تمام مسلم ممالک کو چاہئے کہ وہ اپنی عسکری قوت کو مضبوط سے مضبوط کرلیں، صیہونیوں سے اسلحہ خریدنا بھی انہی کو مضبوط اور طاقتور بنائیں گے اگر اسلحہ ہی خریدنا ھے کہ پاکستان ایران اور ترکیہ اچھی مسلم مارکیٹ ہیں اور غیر مسلموں میں چین اور روس سے اسلحہ لیا جائے۔ عالم ارض اپنی آخری عمر کو پہنچ رھی ھے آپ ﷺ نے آخری زمانہ کے متعلق کھول کھول پر بیان کردیا تھا واضع رھے اس زمانے میں سب سے زیادہ حفاظت تحفظ صرف اور صرف انفرادی و اجتماعی طور پر اپنے ایمان کو بچانا ہوگا، یہاں تک کہہ دیا صبح مسلمان تو شام کافر، شام مسلمان تو صبح کافر ایمان اس طرح ڈگماڈول ہوتا رھے کہ اور اگر حالت کفر میں مرا تو کافر مرا اور حالت ایمان میں مرا تو مومن مرا۔ دعا ھے اللہ ہمیں ایمان کی موت عطا فرمائے آمین۔۔۔!!



