کالم/مضامین

*عنوان: آزاد کشمیر کوٹلی ستیاں، صاحبزادہ حق خطیب حسین علی بادشاہ سرکار۔۔۔!!*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: آزاد کشمیر کوٹلی ستیاں، صاحبزادہ حق خطیب حسین علی بادشاہ سرکار۔۔۔!!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

آج کے جدید ٹیکنالوجی اور کمپیوٹرائز دور میں پوشیدہ حرکات و واقعات زیادہ عرصہ پوشیدہ نہیں رہتے، آزاد کشمیر کوٹلی ستیاں کو مساجد اور مزارات کا شہر بھی کہا جاتا ھے، جہاں ایک کامل ولی صفت بزرگ گزرے ہیں اور چند ایک ہیں وہیں بہروپئے ہوس اور دولت پسند جعلی پیر و فقیر اور ولیوں نے شریعت و طریقت کو بدنام اور داغ لگانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ان جیسے خبیث و ذلیل بدکرداروں کی وجہ سے سادہ اور کم علم کی وجہ سے گمراہ ہوجاتے ہیں تو دوسری جانب اصل اور حقیقی اولیاء کرام کے فیوض و برکات سے بھی محروم رہتے ہیں۔ کامل ولی وہی ہوتا ھے جو مکمل شریعت و طریقت کے اسلوب و اصول سے واقف اور عملی طور پر کاربند ھو اور وہ حافظ قرآن علم القرآن کا بھی حامل ھو تاکہ قرآن و احادیث کی روشنی میں شریعت پر عمل پیرا ہونے کے بعد مکمل باریکی سے غور و فکر و تحقیق اور تجسس کیساتھ قرآن و احادیث کی تشریح درست اور صحیح کرنے کی صلاحیت رکھتا ھو۔ مسند یا خرقہ کوئی معمولی شئے نہیں یہ روحانی و جسمانی پاکیزگی و طہارت کی انتہا ہوتی ھے اس مقام پر پہنچنے والے دنیا سے بے پرواہ سادگی و عاجزی زندگی گزارتے ہیں، شکر صبر تحمل اور توکل اللہ پر زندگی کے ایام محیط ھوتے ہیں، لیکن آج کے حالات اور ادوار میں ایسا بہت کم فقراء پیر درویش ولی صوفی بزرگ میں نظر آتا ھے یوں سمجھئے کہ نوے فیصد گردیاں منصب و نصب اور اعمالی زندگی یکسر مختلف اور دنیا پرست نظر آتی ہے۔ آج اپنے معزز قارئین کی خدمت میں ایسے ہی دنیا پرست ہوس پرست جعل ساز پیر کی تحقیق آپ کے سامنے پیش کررھا ھوں۔۔۔۔ معزز قارئین!! ان موصوف کا نام مسنجف علی تھا،ان کا تعلق کوٹلی ستیاں کے نواحی علاقہ بلاوڈا شریف سے تھا۔ مکمل نام القابات کے ساتھ "سراج السالکین، عمدة الواصلين، قیومِ زماں، قلندرِ دوراں حضرت صوفی پیر صوبیدار میجر ریٹائرڈ مسنجف علی المعروف بڑے سرکار والی بلاوڈہ شریف، پیر مسنجف علی سرکار نے اپنی عملی زندگی کا آغاز فوج میں ملازمت سے کیا۔ پنجاب رجمنٹ کا حصہ بنے یہ ترقی کرتے صوبیدار میجر کے عہدے تک پہنچنے کے بعد ریٹائرمنٹ لے لی۔ اسکے بعد آزاد کشمیر کے علاقے کوٹلی ستیاں کے نواحی علاقے میں بلاوڈہ شریف کے نام سے ایک دربار کھولا گیا۔ لنگر کا سلسلہ شروع کیا گیا، دور دور تک مارکیٹنگ کی گئی کہ حضرت پیر مسنجف علی سرکار لنگر تقسیم تو کرتے ہیں لیکن خود کچھ نہیں کھاتے، یہ بات خوب پھیلائی گئی کہ حضرت نے تین سالوں سے کچھ نہیں کھایا ہے اور اسکی خبر مدینے میں حضور پاک ﷺ کو ہوئی پوچھا مسنجف تین سال سے کچھ نہیں کھایا؟
مسنجف نے جواب دیا حضور آپ ﷺ نے لنگر تقسیم کرنے کیلئے کہا تھا خود کھانے کیلئے نہیں۔ ایک شف یعنی پھونک سے پورے مجمع کو بھگتانے والے یہی پہلے صاحب تھے، یہ اپنے دور میں ایک شف سے پچاس ہزار کے مجمع کو بھگتا چکے تھے لیکن تب سوشل میڈیا نہیں تھا اس لئے انکی پھونکوں کو کوریج نہ مل سکی۔ سترہ ستمبر سنہ دو ہزار چار عیسوی کو مسنجف علی سرکار کی وفات ہوئی تو ان موصوف نے جاتے جاتے اپنی گدی پر حق خطیب کو فائز کردیا چنانچہ ایک بگڑا لونڈا لپاڑا صاحبزادہ حق خطیب حسین علی بادشاہ سرکار بن گیا۔ حق خطیب نے وراثت میں ملے کاروبار میں جدت لائی، مہنگے اور اچھے کیمرے اور اچھے ساونڈ والے مائیک لئے اور شف شف کو ایک برانڈ بنادیا۔ مسنجف علی سرکار اور حق خطیب کے درمیان ایک کرامت یہ بیان کی جاتی ہے کہ حق خطیب ایک بار راولپنڈی سے کوٹلی اپنے مرشد مسنجف کو ملنے جانے کیلئے گھر سے نکلے تو گاڑی میں تیل ختم تھا اور جیب میں رقم بھی نہ تھی، اتنے میں ملازم نے پیچھے سے آواز دی حضور غضب ہوگیا آپکے کمرے کی چھت سے ڈالر دیواروں سے یورو گررہے ہیں جبکہ فرش سے ریال اچھل رہے ہیں، سب نے یہ منظر دیکھا، حق خطیب نے وہ رقم ابھی تک بطور کرامت اپنے پاس رکھے ہیں۔ آٹھ کروڑ کی لگژری گاڑی میں سفر کرنے والا یہ رنگ برنگا نمونہ ساٹھ ہزار روپے کا میک اپ کرتا ہے، پانچ لاکھ زنانہ ٹائپ کا ڈرس، پچاس ہزار کا جوتا اور چودہ لاکھ کی گھڑی پہنتا ہے۔ جاہل عوام اس کی راہ میں ریڈ کارپٹ بچھاتے ہیں، وہ سر جھٹک کر، کندھے اچکاتے ہوئے بیس لاکھ کے سجے ہوئے اسٹیج پہ آتا ہے۔ اسکے سامنے بھوکوں اور ننگوں کا ایک ہجوم جمع ہوجاتا ہے۔ جب ہجوم کی نظر اس شخص پہ پڑتی ہے، تو وہ بآواز بلند نعرہ تکبیر، نعرہ رسالت اور نعرہ حیدری بلند کرتے ہیں۔ وہ شف شف کی آٹھ دس پھونکیں ہجوم کیطرف اچھالتا ہے اور بدلے میں پانچ لاکھ کا نذرانہ وصول کرتا ہے۔ مرید اور نامراد سب آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں پیر صاحب کا دیدار ہوگیا، اب ہماری بگڑی بن جائیگی لیکن حقیقت میں ان لوگوں کی بگڑی بنے یا نہ بنے، پیر صاحب کی تو بن جاتی ہے۔ جب تک جاہل زندہ ہیں یہ کاروبار چلتا رہے گا۔ میرے لکھنے کا مقصد یہ ھے کہ حقیقی اللہ کے ولیوں کو تلاش کرکے ان سے رہنمائی لیں تاکہ صراط المستقیم پر چلتے ہوئے اللہ سبحان تعالیٰ اور اسکے حبیب ﷺ کا قرب و محبت حاصل ہوسکے یاد رھے کہ جس طرح دنیا کی تعلیم و علم کیلئے ایک اچھا ماہر استاد ذہین و قابل طالبعلم بناتا ھے اسی طرح ایک کامل ولی شریعت و طریقت کے اسلوب کا ماہر اپنے شاگردوں کو روحانیت کی معراج تک بتوسط اللہ اور اسکے حبیب ﷺ کی رضا سے پہنچا سکتا ھے۔جیسے خواجہ معین الدین اجمیری عثمانی غریب نواز ؒ نے اپنا شاگرد و خلیفہ مسند خرقہ حضرت بابا بختیار کاکی ؒ کو عطا کیا اور مقام ولادیت سے سرفراز فرمایا یوں تو کئی کامل ولی گزرے ہیں جو اپنے اپنے سلاسل میں منفرد و یکتا ہیں اور موجود بھی ہیں بس دل کی آنکھ سے تلاش کی محنت ضروری ھے بہت مشہور کہاوت ھے "کامل ولی کو دیکھ کر خدا یاد آیا”۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You