کالم/مضامین

*عنوان : پاکستانی جدید ایٹمی میزائل ابابیل*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان : پاکستانی جدید ایٹمی میزائل ابابیل*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

سیاسی نفرت اور دشمنی میں سیاسی جماعت کے ذمہداران اور کارکنان کی اس قدر بڑھ چکی ھے کہ موجودہ حالات کی نزاکت کے باوجود وہ پاکستان اور پاکستانی اداروں کی مخالف میں دشمنوں کے الفاظ ادا کرکے خود کو حب وطن کہلوارھے ھیں انکی منافقت اور حقیقت قدرت خود ہی انکی زبان سے ادائیگی کروا رھی ھے گزشتہ دنوں امریکہ جو کہ ایک انتہائی منافق اور اسلام دشمن نظریہ کا ملک ھے انکی گود میں بیٹھ کر سابق صدر نے جو بیہوہ غلیظ اور خباثت سے بھرے کلمات ادا کئے وہ کوئی بھی گناہگار مسلمان مر تو سکتا ھے مگر ادا نہیں کرسکتا، سابق صدر نے تو اپنے رہبر جسکا ماضی اور حال جانتے ہوئے بھی ابیلیسی و شیطانی عمل کیا جس پر خود ابلیس بھی حیراں و پریشان ھوا۔ اختلافات ہوسکتے ہیں مگر اس کا ہرگز مقصد یہ نہیں کہ دین الہٰی سے ہی نکل جائیں بحرحال میں اس بات پر مزید کچھ کہنا نہیں چاہتا بس انہیں اور انکے کارکنان کو سمجھانے بتانے اور احساس و شعور دینے کیلئے حقیقت سے آشکار کرنا اب بہت ضروری بن گیا ھے۔ ھماری افواج اور عسکری ادارے الحمدللہ ستاون مسلم ممالک کے لیڈر اور کمانڈر کہیں ھم واحد اسلامی ملک ہیں جو آٹھ غیر مسلم جوہری ممالک میں شامل ہیں ابتک دنیا میں نو ممالک جوہری توانائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! پاکستان کا ذاتی تیار کردہ ابابیل میزائل ایک ہی حملے میں دشمن بھارت کے بارہ شہر تباہ کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہے۔ ابابیل میزائل میں کم از کم آٹھ سے بارہ تک ایٹم بم نصب ہوتے ہیں۔ جو اپنے ٹارگٹ کے ایریا میں پہنچ کے جدا ہوجاتے ہیں۔ ابابیل میزائل کا پہلا کامیاب تجربہ پاکستان نے چوبیس جنوری سنہ دو ہزار سترہ عیسوی کو کیا تھا۔ اسکی رینج دو ہزار دو سو کلومیٹر تھی، اسکو مزید اپ گریڈ کردیا گیا جس کے بعد اسکی رینج میں مزید تیئیس سو کلومیٹر اضافہ ہوا، اب تقریباً چار ہزار پانچ سو کلومیٹر تک پہنچ چکا ہے۔ اسکی اصل اور پرفیکٹ رینج ہمارے حساس ادارے کے لوگوں کو اور سائنسدانوں کو ہی معلوم ہے۔ ایسا جدید ترین میزائل جو ایک وقت میں آٹھ سے بارہ اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے، یعنی آپ ایک ابابیل میزائل لانچ کریں گے تو اس میں موجود ایٹمی وار ہیڈ یعنی ایٹم بموں میں سے ایک دہلی پر گرے گا، ایک راجستان پر گرے گا، دوسرا اتر پردیش میں، تیسرا گجرات میں چوتھا دہلی پر، پانچواں ممبئی، چھٹا چینائی پر اور ایک ہی وقت میں کلکتہ، بنگلور، گووا جیسے بڑے شہروں کو نشانہ بنا کر صفحہ ہستی سے مٹا دے گا۔ ابابیل ایک ایسا میزائل جو بھارت تو کیا کئی ترقی یافتہ ممالک کے پاس بھی نہیں ھے، دنیا اچھی طرح جانتی ہے کہ ہم میزائل ٹیکنالوجی میں کتنے آگے ہیں۔ یہ میزائل ایک منٹ میں "ایک سو پچاس” میل کا فاصلہ طے کرتا ہے الحمدللہ۔ اس میزائل کو ریڈار پر دیکھا نہیں جاسکتا۔ پاکستان کا ابابیل میزائل ایک سالڈ فیول راکٹ ہے، جو تھری اسٹیج پر چلنے والا میزائل ہے۔ پہلے سو اسٹیج سالڈ فیول پہ چلتے ہیں آخری والا اسٹیج لیکوڈ فیول پہ چلتا ہے جو حصہ سالڈ فیول پہ چلتا ہے، پہلے والا راکٹ اسے زمین سے خلا میں لے کے جاتا ہے۔ دوسرا اسے خلا میں جہاں اس نے جانا ہوتا ہے اسکو اپنے ہدف تک پہنچاتا ہے اور اس میں تیسرا اسٹیج جو لکویٹ فیول پہ چلتا ہے۔ اس میں ایم آئی آر وی وارہیڈ لگے ہوتے ہیں وہ اسے زمین کی طرف روانہ کرتے۔ ابابیل میزائل میں بارہ تک ایٹمی وارہیڈ لگ سکتے ہیں۔ بارہ ایٹم بم نصب کتنا بڑا نقصان کریں گے اسکا اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے۔ پاکستان کے جو شاہین میزائلز ہیں وہ بھی تقریباً اسی طرح کام کرتے ہیں لیکن ان میں صرف ایک ہی ایٹم بم وارہیڈ لگ سکتا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی ملک اس طرح کا دفاعی نظام نہیں بنا سکا جو ابابیل کو روک سکے ۔ امریکہ ، روس چین اور برطانیہ کے بعد پاکستان یہ ایم آئی آڑ وی ٹیکنالوجی بنانے میں کامیاب رہا ہے۔۔۔۔!!

{"remix_data”:[],”remix_entry_point”:”challenges”,”source_tags”:["local”],”origin”:”unknown”,”total_draw_time”:0,”total_draw_actions”:0,”layers_used”:0,”brushes_used”:0,”photos_added”:0,”total_editor_actions”:{},”tools_used”:{},”is_sticker”:false,”edited_since_last_sticker_save”:false,”containsFTESticker”:false}

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You