پاہلگام واقعے پر بھارت کے فوری الزامات اور پاکستان کے تحفظات

پاہلگام واقعے پر بھارت کے فوری الزامات اور پاکستان کے تحفظات
نئی دہلی(نمائندہ ریحان انصاری) گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق جنوبی ایشیا میں پچھلے چند دنوں میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں پاہلگام واقعے پر بھارت کی جانب سے پاکستان پر فوری الزام تراشی نے خطے میں تشویش مزید گہری کر دی ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے 2:20 بجے شام پیش آنے والے اس واقعے کو “سرحد پار کارروائی” قرار دیتے ہوئے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا، جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مقامی باشندوں نے اطلاعات کی صداقت پر سوال اٹھائے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، واقعے سے چند منٹ قبل علاقے میں فوجی گاڑیوں کے گرجتے ہوئے آنے کی آوازیں سنی گئیں، جب کہ قریبی پہاڑی راستوں پر موبائل اور ریڈیو سگنلز اچانک بند ہو گئے۔ ضلع انانت ناگ کے رہائشیوں نے میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ انہیں کسی خارجی فائرنگ کے بجائے حفاظتی دستوں کی نقل و حرکت محسوس ہوئی، تاہم یہ آوازیں سرکاری بیانات میں غائب رکھی گئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مماثل واقعات کی تاریخ—جموں و کشمیر میں “فیک اینکاؤنٹرز” اور غیر مصدقہ ‘سرحد پار مداخلت’ کے بیانات—ایک مخصوص سیاسی حکمت عملی کا حصہ نظر آتے ہیں جس کا مقصد اندرونی مسائل کو اہمیت سے کم کر کے قومی ردعمل کو یکجا کرنا ہوتا ہے۔ 2000 میں صدر کلنٹن کے دورے سے قبل کھڑے کیے گئے خدشات، ممبئی (2008)، یوری (2016)، پٹھان کوٹ (2016)، پلواما (2019) اور بالاکوٹ (2019) کے واقعات اسی سلسلے کی مثالیں ہیں۔
لائن آف کنٹرول پر مقامی آبادی نے بھارتی سکیورٹی فورسز کے سخت رویے اور بار بار اٹھنے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بھی منظرِ عام پر لائی ہیں۔ 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کی معطلی کے بعد ابھری نئی مزاحمتی تنظیم NRF کو بھی لشکرِ طیبہ کے ذیلی گروپ کے طور پر پیش کرنا، کشمیر کی عوامی رضامندی کو نظر انداز کرنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین 1960 کا انڈس واٹرز ٹریٹی پانی کے مسائل کے ایک دیرینہ استحکام کا ضامن ہے۔ پاکستان کے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل میاں منظور وشو نے خبردار کیا ہے کہ اس معاہدے میں کسی بھی یکطرفہ تبدیلی یا منسوخی کا تصور بھی خطے کی زراعت، پینے کے پانی اور ماحولیاتی توازن کو شدید خطرے میں ڈال دے گا۔
دوسری جانب پاکستان نے اپنی سرحدی حدود، دفاعی صلاحیت اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق حقِ خودِ دفاع کے تحفظ کا عندیہ دیا ہے۔ پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے اس معاملے پر مسلسل دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعے کی شفاف بین الاقوامی تحقیق کا مطالبہ کیا ہے۔
ماہرین اس پیش رفت کو مستحکم امن کے لیے سنگین خطرے کے اعلان کے مترادف قرار دے رہے ہیں اور تجویز کر رہے ہیں کہ مسئلے کا حل فوجی یا سیاسی بیانات میں نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے مابین براہِ راست مذاکرات اور مشترکہ آبی ماہرین کی مشترکہ تحقیقات میں ہے۔



