کراچی(اسٹاف رپورٹ)گورنمنٹ پرائمری اسکول ای ون ایریا ملیر کھوکھراپار کی چوتھی اور بعد اذاں

کراچی(اسٹاف رپورٹ)گورنمنٹ پرائمری اسکول ای ون ایریا ملیر کھوکھراپار کی چوتھی اور بعد اذاں پانچویں کلاس کے ٹیچر سید تحمل حسین کے صاحبزادے علی رضا کا فون آیا اور انھوں نے جب یہ کہا کہ بابا جان نے آپ کا نمبر دیا ھے تو میری خوشی دیدنی تھی کہ ایک طویل عرصہ کے بعد بھی استاد محترم نے یاد رکھا ۔ میں پیلی مرتبہ ان کی رہائشگاہ پہنچا تو استاد محترم نےانتہائی محبت ، شفقت اور مسکراتے ھوئے اس ناچیز کا استقبال کیا اور بغل گیر ھوئے ۔میری نم آنکھیں رب العالمین کا شکر ادا کررھی تھیں کہ میرے والدین تو اس دنیا میں نہیں رھے ( اللہ تعالیٰ ان پر اپنے بے پناہ فضل و کرم کی بارش فرمائے۔ آمین) لیکن بچپن کے استاد کو اپنے سامنے دیکھ کر بچپن کے دور میں چلا گیا۔ ، پرانے دوست، اسائتذہ کرام اور خاص کر ہیڈ ماسٹر منصب خاں صاحب کی بہت یاد آئی اور دل سے مرحوم اسائتزہ کرام کے لیئے مغفرت دعا نکل گئی کہ اللہ ان تمام کی بے حساب مغفرت فرما۔ استاد محترم سید تحمل حسین سے کافی دیر تک ان کی مصروفیات کے بارے میں بات چیت ھوتی رھی, ، وہ میری فلاحی سرگرمیوں اور فری میڈیکل کیمپ بالخصوص مفت آنکھوں ( موتیا آپریشن ) کے بارے میں آگاہ تھے اور مجھے بہت دعائیں دی اور میری حوصلہ افزائی کی۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ آپ میرے پروگرام میں ضرور تشریف لائیں مجھے خوشی ھو گی انھوں نے میری درخواست قبول کرتے ھوئے شرکت کا وعدہ کیا بات چیت میں اور وقت کا احساس ھی نہیں رہا۔ ان سے رخصتی کی اجازت چاھی اور درخواست کی کہ کبھی خواہش دیدار ھو تو حاضر ھوسکتا ھوں تو ان کی اجازت نے آئندہ ملاقات کی راہ ہموار کردی۔ اے مالک کل کل کائنات میرے اسائتزہ کرام سید تحمل حسین، سر محمد ذمان خان اور وہ تمام جو حیات ہیں ان کا ھم سب پر سایہ تا دیر تک سلامت رکھ اور ان صحت ، تندرستی اور ایمان والی عمر خضری عطا فرما۔ آمین ، یا رب العالمین۔



