ہم عوام : پوچھتی ہے کہ حکومت نے اس قدر مجبور کردیا کہ

ہم عوام : پوچھتی ہے کہ حکومت نے اس قدر مجبور کردیا کہ :—
عوام بجلی کیلئے یو پی ایس اور سولر سسٹم اپنی رقم سے لگوائیں۔۔۔! پانی کیلئے اپنی رقم سے ٹینکر ڈلوائیں۔۔۔! بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں سے تعلیم اپنی رقم سے دلوائیں۔۔۔!
علاج بھی پرائیویٹ اسپتالوں سے اپنی رقم سے کرائیں۔۔۔! رقم دیکر گھروں اور گلی محلوں سے کچرا اٹھوائیں۔۔۔! گٹر بھی رقم دیکر کھلوائیں۔۔۔! گلیوں میں اپنے لئے چوکیدار خود اپنی رقم سے رکھیں۔۔!حفاظت کیلئے ذاتی رقم سے نجی کمپنیوں سے گارڈز لیں۔۔۔! تو پھر حکومت ٹیکس کس بات کی لیتی ہے اور وہ عوام کو بتائیں؟؟؟ ہے کسی وزراء مشیر کے پاس ان سوالوں کا جواب!! کیا حکومت اور اپوزیشن بتاسکتی ہیں کہ انھوں نے اپنے اقتدار میں عوام کیلئے ان سوالوں میں سے کتنے مستقل بنیاد پر حل کیئے یا صرف ایوان میں ذاتی مفادات خواہشات کی تکمیل کیلئے بل پاس کرواتے رہے۔ بتائیں کہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے گروپ انشورنس کی رقم کو کیوں تعطلی کا شکار بنایا گیا ھے جبکہ سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد بارہابار حکم دے چکے ہیں کہ فی الفور ادائیگی کو یقینی بنایا جائے یوں لگتا ہے پاکستان سیاستدانوں کیلئے بنانا اسٹیٹ ہے ہر سیاسی رہنما برسرِ اقتدار میں رہتے ہوئے باپ کی جاگیر سمجھتا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ جب جب جمہوری حکومتیں اقتدار میں آتی رہی ہیں عوام کا جینا محال بناتے رہی ہیں کچھ نے کم تو کچھ نے زیادہ اور ان کی جمہوریت میں قابلیت اہلیت اور عدل و انصاف کا قتل کیا گیا اور اقربہ پروری کی حدیں پار کی گئیں عوام ان سب ظلم و بربریت کا حساب مانگتی ہے۔
جاوید صدیقی ایگزیکٹو ممبر کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور گروپ و ممبر کراچی پریس کلب


