سندھ

کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے کے الیکڑک کے منہ پر کالک مل دی

*کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے کے الیکڑک کے منہ پر کالک مل دی*

*پہاڑ گنج سمیت غیر قانونی آبادیوں میں کے الیکٹرک کے ملازمین چند رقوم میں بجلی بیچتے رھے ہیں*

*کراچی بھر میں پتھارہدار، فٹ پاتھ پر قائم شاپس سے بجلی کی مد میں رقم لی جاتی ھے*

*بجلی چوری میں افسران و بالا حکام بھی شامل ہونے کے اشارہ ملتے ہیں*

*کے الیکٹرک بجلی چوری میں معاونین، لوڈشیڈنگ اور بلوں میں ایڈجسٹ کرتی رہی*

*جبتک آئی پی پیز کا محاسبہ اور آڈٹ نہ ہوگا اس وقت تک عوام بجلی کی آگ میں جھلستی رہے گی*

کراچی (رپورٹ : جاوید صدیقی) کسی بھی پالیمینٹیرہن سمیت سرکاری و نجی ادارے اور شخصیات کو قطعی بجلی مفت نہیں دی جاتی البتہ کنڈا سسٹم، ناجائز طریقہ سے بجلی فروخت بھی کی جاتی ھے۔ کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے کے الیکڑک کے منہ پر کالک مل دی، انھوں نے اپنی سروے رپورٹ میں بتایا ھے کہ پہاڑ گنج کی پہاڑیاں، کورنگی و اورنگی کی غیر قانونی بستیاں حتیٰ اس وقت تمام افغان بستیوں سمیت بیرون شہر سے آنے والوں کی غیر قانونی آبادیوں میں کے الیکٹرک کے ملازمین چند رقوم میں بجلی بیچتے رھے ہیں جو تاحال جاری ھے دوسرا یہ کہ کراچی بھر میں پتھارہدار ہوں یا فٹ پاتھ پر قائم شاپس ان سب سے ہفتہ وار رقم پر بھی بجلی بیچی جاتی رھی ھے اس عمل میں افسران و بالا حکام بھی شامل ہونے کے اشارہ ملتے ہیں۔ کے الیکٹرک ایک جانب بجلی چوری کا شور مچاتی ھے دوسری جانب خود ہی چوری کرکے سپلائی میں کمی ہونے پر لوڈشیڈنگ کیساتھ ساتھ گھروں کے بلوں میں ایڈجسٹ کرتی رہی ھے۔ کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے تجویز دی ھے کہ اگر حکومت اور پاور ڈویژن اس ملک اس ریاست اور عوام سے واقعی مخلص ہیں تو آزادانہ شفاف آڈٹ کرنے کی اجازت دیں تاکہ ماہرین آڈیٹرز نہایت بین باریکی سے حقائق تلاش کرکے خامی اور نقص کو عیاں کرسکیں اور مجرموں کیخلاف سخت ترین سزا سے گزاریں تاکہ آئندہ کوئی ایسی سرزیشت نہ کرسکے۔ جبتک آئی پی پیز کا محاسبہ اور آڈٹ نہ ہوگا اس وقت تک عوام بجلی کی آگ میں جھلستی رہے گی۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You