کراچی : کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی سے گزشتہ روز پینشنرز کے وفد نے ملاقات

کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی سے گزشتہ روز پینشنرز کے وفد نے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران گروپ انشورنس کی عدم دستیابی کے حوالے سے آگاہ کیا۔ وفد کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ لائف انشورنس سنہ انیس سو باہتر سے حکومتِ پاکستان کے زیر سرپرستی کام کرنے والا ایک منافع بخش ادارہ ہے جو لائف انشورنس اور گروپ انشورنس بھی کرتا ہے۔ اسٹیٹ لائف انشورنس ہر سال اپنے بیمہ داروں کے اکاؤنٹ میں بونس کی رقم تقسیم کرتا ہے۔ جس کی ضمانت حکومت پاکستان دیتی اور یہ کسی بھی قسم کے ٹیکس سے بھی مبرا ہے. سالانہ پچیس ہزار پر پانچ لاکھ کی لائف انشورنس اور دس لاکھ کی حادثاتی انشورنس اور پالیسی کی معیاد مکمل ہونے پر بائیس لاکھ دینے کا مجاز ھے اور سالانہ پچاس ہزار کی بچت کریں اور دس لاکھ کی لائف انشورنس اور بیس لاکھ کی حادثاتی انشورنس اور پالیسی کی معیاد مکمل ہونے پر پینتالیس لاکھ ادا کرنے کا قانونی موجب ھے جبکہ
سالانہ ایک لاکھ کی بچت کرنے پر بیس لاکھ کی لائف انشورنس اور چالیس لاکھ کی حادثاتی انشورنس اور پالیسی کی معیاد مکمل ہونے پر نوے لاکھ ادا کرنے کا پابند ھے۔ وفد کا کہنا تھا کہ یہ انشورنس کے نرخ اور منافع عام انشورنس کے ھیں جبکہ گروپ انشورنس میں دو ، دو کا چار اور چار کا سولہ اس طرح ہر منافع ضرب در ضرب ھو وہ گروپ انشورنس کہلاتا ھے۔ جاوید صدیقی صاحب یہ واضع کرتے چلیں کہ حکومت ھم سرکاری ملازمین کی گروپ انشورنس سرکاری ملازمین کے تقرری کے ابتدائی دنوں سے ہی کٹوٹی کرلی جاتی ھے اور اس کا دورانیہ ریٹائرمنٹ تک رکھا جاتا ھے قانونی تقاضہ کے تحت حکومت ہر سرکاری ملازم کو اس کے ریٹائرمنٹ پر گروپ انشورنس کی ادائیگی لازم ھوجاتی ھے لیکن بار ہا بار سپریم کورٹ نے وفاق و صوبائی حکومتوں کو فوری ادائیگی کیلئے احکامات جاری کیئے مگر وفاق سمیت صوبائی حکومتوں نے احکامات کو کوڑے کے ڈھیر کی نظر کردیئے۔ ھم سرکاری ریٹائرڈ ملازمین آپ سمیت پاکستان بھر کے صحافیوں سے درخواست کرتے ھیں کہ اس بابت آپ معزز لوگ ھمارے گروپ انشورنس کی رقم کی جائز ادائیگی کیلئے بھرپور مثبت کردار ادا کریں گے کیونکہ آپ ھمارے مسائل کو با اختیار افراد تک پہنچاسکتے ہیں۔ وفد سے ملاقات کے دوران کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے امید دلائی کہ وہ خود اور انکے صحافی حضرات انشاءاللہ اس مد میں بھرپور کردار ادا کریں گے ھم صحافی سمجھ سکتے ہیں کہ ریٹائرڈ افراد بچوں کی شادی بیاہ اور مکان کیلئے سب کچھ لگا دیتا ھے اور آخر میں صرف پینشن پر ہی گزارا کرنے پر مجبور ھوجاتا ھے



