نگران حکومت کی نااہلی نے کسانوں اور قومی خزانے کو تباہ کیا۔امجد علی خان

نگران حکومت کی نااہلی نے کسانوں اور قومی خزانے کو تباہ کیا۔امجد علی خان
مریم نواز اور محسن نقوی کی زیر قیادت حکومت کی نااہلی اور بددیانتی نے کسانوں کا استحصال کیا۔غیر ملکی میڈیا سے گفتگو
اسلام آباد(نمائندہ ذیشان نجم خان)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی تازہ رپورٹ میں 300 ارب روپے مالیت کے گندم اسکینڈل پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کے پولیٹیکل کوآرڈینیٹر امجد علی خان نیازی نے گندم درآمد کے حوالے سے وزارت کی بریفنگ پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نگران حکومت کے بدنیتی پر مبنی فیصلے نے ملکی معیشت اور پنجاب کے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے۔ امجد علی خان نیازی نے کہا کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ نے ثابت کر دیا کہ 2023 میں نگران حکومت نے ایک منظم منصوبے کے تحت 300 ارب روپے مالیت کی اضافی گندم درآمد کی، حالانکہ ملک میں مقامی گندم پہلے سے ہی وافر مقدار میں موجود تھی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ستمبر 2023 سے مارچ 2024 تک 3.59 ملین ٹن گندم درآمد کی گئی، جبکہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے صرف 1.3 ملین ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی تھی۔ اس فیصلے کو انہوں نے “زراعت دشمن پالیسی” اور مافیا کو فائدہ پہنچانے کی ایک سازش قرار دیا۔ امجد علی خان نیازی نے الزام لگایا کہ اس اسکینڈل کے ذریعے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا بلکہ پنجاب کے محنت کش کسانوں کو شدید معاشی نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز اور محسن نقوی کی زیر قیادت حکومت کی نااہلی اور بددیانتی نے کسانوں کا استحصال کیا۔ انہوں نے کہا کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں “ناقابل اعتبار اعداد و شمار”، “نجی شعبے کو فائدہ دینے کی نیت”، اور وفاق و صوبوں کی تاخیر سے کی گئی کارروائیوں کو اس بحران کی بنیادی وجوہات قرار دیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی رہنما نے مطالبہ کیا کہ اس اسکینڈل میں ملوث ہر فرد چاہے وہ بیوروکریٹ ہو، وزیر ہو یا نگران حکمران کے خلاف غیرجانبدار، فوری اور بےرحمانہ احتساب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں “طاقتور” بھی قانون کے کٹہرے میں لائے جائیں۔



