موسمیاتی تبدیلیوں کو قدرت کا مظہر سمجھنے کا تصورعام ہے جبکہ اس میں انسانی مداخلت کو یکسر

*موسمیاتی تبدیلیوں کو قدرت کا مظہر سمجھنے کا تصورعام ہے جبکہ اس میں انسانی مداخلت کو یکسر نظرانداز کیاجارہاہے۔ڈاکٹر خالد عراقی*
*تعلیمی ادارے آگاہی کو فروغ دینے کا بہترین پلیٹ فارم اوراس میں زیر تعلیم نوجوان ہی تبدیلی کا اصل محرک ہیں۔ڈاکٹر خالد عراقی*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ تیزی سے رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں سے بچنے کیلئے انقلابی اقدامات ناگزیز ہوگئے ہیں۔ ہمارے یہاں موسمیاتی تبدیلیوں کو قدرت کا مظہر سمجھنے کا تصور عام ہے جبکہ اس میں انسانی مداخلت کو یکسر نظر انداز کیا جارہا ہے۔ درختوں اور مینگرووز کی بے دریغ کٹائی سے درجہ حرارت اور سیلابوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ آگاہی کو فروغ دیئے بغیر موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو پانا ممکن نہیں، آگاہی کو فروغ دینے کا سب سے بہترین پلیٹ فارم تعلیمی ادارے اور ان میں زیر تعلیم نوجوان ہیں اور یہ ہی تبدیلی کا اصل محرک ہیں۔مینگروز فضائی آلودگی کو کم کرنے میں نہایت اہمیت کے حامل ہیں لیکن پاکستان میں اسکی بھی بے دریغ کٹائی ہورہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شعبہ کیمیکل انجینئرنگ جامعہ کراچی کے زیر اہتمام کلیہ فنون و سماجی علوم جامعہ کراچی کی سماعت گاہ میں منعقدہ سندھ لوکل یوتھ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں سندھ کی مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والے ماہرین ماحولیات اور طلبا و طالبات نے شرکت کی۔ دو پینل ڈسکشن بعنوان: ہائبرڈ سولر ڈی ہائڈریٹر ماڈل اور بچے ہوئے کھانوں سے بائیو گیس کا حصول بھی کانفرنس کا حصہ تھے جس کے آخر میں سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ پاکستان کو ہر سال سیلابی صورتحال اور تواتر کیساتھ درجہ حرارت میں اضافے کا سامنا ہے لیکن ان مسائل کے مستقل حل کیلئے ہم تاحال عملی اقدامات کرنے سے قاصر ہیں جو لمحہ فکریہ ہے۔ ہمیں سیلابی صورتحال سے نبردآزما ہونے کیلئے تمر کے جنگلات میں اضافہ اور اسکی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے حکومتی اور عوامی سطح پر اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
اس موقع پر رئیس کلیہ فنون و سماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم نے کہا کہ اس طرح کی کانفرنسز کا انعقاد شجرکاری اور اس حوالے سے آگاہی کو فروغ دینے کا بہترین ذریعہ ہے۔ پاکستان میں درجہ حرارت میں تیزی سے اضافے کی وجہ درختوں کی کٹائی اور شجرکاری کا فقدان ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے نبردآزما اور درجہ حرارت میں اضافے سے بچنے کیلئے تواتر کے ساتھ شجرجاری کو یقینی بنانا ہوگا۔ انچارج شعبہ کیمیکل انجینئرنگ جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ اشتیاق نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کانفرنس کے اغراض ومقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی اور اس موقع پر ہونے والی پینل ڈسکشن کے حوالے سے شرکاء کو آگاہ کیا۔




