کالم/مضامین

قبل اس کے وہ تمہیں مار ڈالے۔۔۔ تم اسے پہلے مار ڈالو۔۔۔!!

قبل اس کے وہ تمہیں مار ڈالے۔۔۔ تم اسے پہلے مار ڈالو۔۔۔!!

اللہ تعالٰی کے نزدیک پوری کائنات کا ختم ہوجانا کسی شخص کے ناحق قتل ہو جانے سے زیادہ ہلکا ہے۔بحوالہ موسوعہ ابن ابی الدنیا، جلد چھ، صفحہ دو سو چونتیس، حدیث: دو سو اکتیس ۔۔۔۔۔ حضورِ اکرم ﷺ نے تو اپنے مسلمان بھائی کی طرف اسلحے سے محض اشارہ کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ بحوالہ بخاری شریف، جلد چار، صفحہ چار سو چونتیس، حدیث: سات ہزار باہتر ۔۔۔۔ سب سے بڑے گناہ اللہ تعالٰی کے ساتھ شرک کرنا، کسی جان کو قتل کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا ہیں۔ بحوالہ بخاری شریف، جلد چار، صفحہ تین سو ستاون، حدیث: چھ ہزار آٹھ سو اکہتر۔۔۔۔۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے لوگوں کے درمیان خون بہانے کے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ بحوالہ مسلم شریف، صفحہ سات سو گیارہ، حدیث: چار ہزار تین سو اکیاسی ۔۔۔۔۔ چاروں خلفائے راشدین ؓ کے ادوار میں حضرت عمر بن خطاب ؓ کے دور میں اسلامی ریاست یعنی اقتدار حکومت تین براعظموں تک اس لئے پھیلی تھی کہ آپ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے دور حکومت میں قاضی مجرم کو فی الفور سزا دیتے تھے اور انصاف بآسانی فوری ہر ایک کو فراہم کرتے تھے۔۔۔۔۔معزز قارئین!! پاکستان بھر میں اور بلخصوص کراچی شہر روز بروز قاتلوں، رہزنوں، ڈکیتوں، اغواکاروں اور خطرناک انسانی اسمگلروں کے شنکجے میں پھنس کر رہ گیا ھے۔ اس گھمبیر صورتحال کے باوجود از خود جان بوجھ کر حکومت سندھ اور محکمہ سندھ پولیس نے نہ صرف خاموشی بلکہ آنکھ، کان اور منہ بند کرلیئے ھیں گویا ان سب مجرموں کو جرائم کرنی کی کھلی چھٹی دے دی ھو۔ صحافیوں کے بھرپور سوالات کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ کہتے ہیں سب اچھا ھے۔۔۔۔معزز قارئین!! کراچی کے رہنے والے کوئی سی بھی زبان، رنگ، نسل، قبیلہ، قوم اور ذات پات سے تعلق رکھتے ھیں۔ آپ سب کا مشترکہ دشمن اور قاتل ایک ھے۔ وہ ھے ڈکیت، ڈاکو، گینگ وار، اغواکار، مافیا اور پولیس کی کالی بھڑیں۔ یاد رکھئے کہ قانون، آئین پاکستان، دستور پاکستان اور سب سے بڑھ کر ھمارا دین اور ھماری شریعت اجازت دیتی ھے کہ اپنی جان کی خود حفاظت کریں اگر جان جانے کا خطرہ ھو تو جان لے بھی سکتے ہیں مگر پہلے اس سے محفوظ رہنے کیلئے اسے سمجھائیں اور محتاط رہیں نہ سمجھنے پر آپ ہلاک کرسکتے ہیں وگرنہ وہ آپ کو ہلاک کردیگا۔ کراچی میں سول انتظامیہ اور پولیس کی یقینی ناکامی اور سرپرستی کے سبب ڈکیتیوں میں جہاں بے پناہ اضافہ ھوگیا ھے وہیں ڈکیتوں کے ہاتھوں ہلاکتوں کے انبار لگتے جارھے ھیں۔ ھمارے استاد کہتے تھے کہ لوہے کو لوہا کاٹتا ھے اگر اس زمرے کو موجودہ صورتحال کے تناظر میں دیکھیں تو اب عوام کو متحد ھوکر اس ڈکیتوں کا خاتمہ از خود کرنا ھوگا۔ پولیس مکمل بے اعتبار ھوچکی ھے اسی لیئے اس سے قبل وہ ہلاک کرے اس کا سر کچل دو ایسا معذور بنادو کہ وہ زندگی بھر عبرت کا نشان بنا رھے۔ آج وقت کا تقاضا ھے کہ اگر فوری انصاف نہ ملے یا منصف بے ضمیر ھو تو ایسے قاضی کو بھی مجرم قرار دیا جائے اور دونوں کی سزا قانون الہیٰ کے مطابق بناء خوف خطر دی جائے اور دولت مند، اقتدار بر برجمان، ظالم و جابر نوکر شاہی کے بگڑے افسران و اولاد، بگڑی اشرفیہ اور انکی بگڑی اولادیں، بگڑے جاگیردار، زمیندار، سرمایہ دار اور انکی بگڑی اولادیں اگر کمزوروں مجبوروں، مسکینوں، لاغروں، یتیموں، بے سہاروں پر ظلم و بربریت کرے تو انہیں بھی قانون الہیٰ کے مطابق سخت ترین سزا اب عوام خود دیں کیونکہ اشرفیہ اور نوکرشاہی طبقہ نے اس ملک کو باپ کی جاگیر بنایا ھوا ھے۔ صاحبِ اقتداروں نے مافیا کو کھلی چھٹی دے رکھی ھے۔ ملک کے بگڑتے حالات کی ذمہدار براہ راست حکومت ھوتی ھے پھر گورنس نام کی چڑیا کہاں غائب ھے یہی وجہ ھے کہ یہاں آوا کا آوا بگڑا ھوا ھے۔ ہر ایک وہ افسر جس پر اسے کنٹرول کا اختیار حاصل ھے مگر نہیں کرتا ایسے افسر کو اس ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں ۔۔۔۔۔

جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار کراچی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You