عنوان: پاکستانی اور کینیڈین ۔۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: پاکستانی اور کینیڈین ۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
دنیا بھر میں کوئی ایسا ملک یا ریاست نہیں جو اپنی عوام سے ٹیکس وصول نہ کرتی ھو۔ دراصل عوام سے ٹیکس اس لیئے لیا جاتا ھے کہ ان رقوم سے عوام کے لئے فلاحی امور پر عمل درآمد کیا جاسکے۔ اس بابت دنیا بھر میں ٹیکس کے نظام کو انتہائی شفاف آسان اور بہترین بنایا جاتا ھے تاکہ عام شہری اپنے موبائل یا لپ ٹاپ سے حکومت کو دستاویزات پیش کرسکے اس کے علاوہ اس نظام میں ہر شہری کو لازم شامل کیا جاتا ھے حتی کہ اس نظام میں تارکین وطن کا ڈیٹا شامل کرتے ھوئے انہیں اس لئے شامل کرتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے دی گئی مراعات کا تخمینہ کا جساب کتاب ممکن اور بہتر بن سکے۔ آج میں اپنے کالم کو پاکستان اور کینیڈا کے نظام سے تقابلی جائزہ لیتے ھوئے حقائق سامنے لانے کی کوشش کرونگا۔۔۔ معزز قارئین!! دونوں ممالک کے شہری انسان ہیں اور ھم دیکھیں گے کہ انسانیت کی معراج کہاں پائی جاتی ھے معزز قارئین آپ کو بتاتا چلوں کہ کینیڈا ایک مہنگا ملک ہے، لیکن اسکی شہری خدمات اعلیٰ ترین معیار کی ہیں۔ کرسمس کے دوران کراچی سے ایک فیملی چھٹیاں منانے کینیڈا گئی ہوئی تھی۔ اس میں ایک جوڑا، ان کے دو بچے اور اس شخص کا باپ شامل تھا۔ ٹورنٹو میں تین دن کے بعد، انہوں نے مونٹریال جانے کیلئے ایک کار کرائے پر لی۔ ہائی وے چار سو ایک دنیا کے سب سے چوڑے حصے میں اٹھارہ لین گزرنے کے ساتھ فری وے بالکل شاندار ہے۔ ایک اسی پلس کینیڈین خاتون ان کے پیچھے ایک کار میں محفوظ فاصلہ رکھتے ہوئے تھی۔ بچے پچھلی سیٹ پر سے بار بار پیچھے دیکھ رہے تھے اور اکثر کینیڈین خاتون کو ہاتھ ہلاتے تھے جو مسکرا کر جواب میں ہاتھ ہلاتی جاتی تھی۔ اچانک کینیڈین خاتون نے دیکھا کہ ایک بوڑھے کا سر پچھلی سیٹ کی کھڑکی سے باہر نکلا اور خون کی قے ہو رہی تھی۔ اس نے اپنی کار سائیڈ پر روکی اور فوری طور پر مدد کیلئے نائن ون ون پر کال کی۔ بہت جلد، ایک ایمبولینس ہیلی کاپٹر نمودار ہوا۔ یہ ایک کلومیٹر آگے اترا۔ خاندان کو گاڑی روکنے کا اشارہ کیا، اور کچھ ہی دیر میں تربیت یافتہ طبی عملہ بوڑھے کو ہیلی کاپٹر میں لے گیا جو تقریباً ایک آئی سی یو تھا۔ آکسیجن کی سپلائی شروع ہو گئی۔ دل کی شرح اور دیگر پیرا میٹرز کی نگرانی کی گئی۔ ایک ماہر ایم ڈی ہدایات فراہم کرنے کیلئے ٹورنٹو سے ویڈیو کال پر تھا۔ آدھے گھنٹے میں بوڑھے کو محفوظ اور دوبارہ سفر کیلئے فٹ قرار دے دیا گیا۔ کینیڈین خاتون کی فوری مدد اور بروقت کارروائی پر خراج تحسین۔ ان خدمات کیلئے، اس آدمی سےپینتیس سو کینیڈین ڈالرز وصول کئے گئے۔ ایک متوسط پاکستانی خاندان کیلئے یہ بہت پیسہ ہے۔ اس غیر معمولی مالی اخراجات کے ساتھ، کراچی والا صدمے میں تھا اور اس نے اپنے والد کو بڑے افسردگی سے کہا کہ ابا جی، پان کھا کر کے باہر تھوکنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔معزز قارئین!! یہ حقیقت پر مبنی واقع ھمیں ھماری سوچ اور مزاج پر افسوس اور دکھ کی علامت پیش کرتا ھے کہ ھم من حیث القوم بیسویں صدی میں بھی عقل و شعور سے عاری ہیں میں سوچنے پر مجبور ھوگیا ھوں کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے رہنے والوں کا یہ حال ھے تو چھوٹے شہر اور قصبات میں رھنے والوں کی کیا بات ھوگی یہی وجہ ھے کہ پاکستان کے نظام ریاست چلانے والے کس قدر ذہانت قابلیت عقل و شعور سے دور ھونگے ہاں انکی عقل مندیاں اور ذہانت ہر منفی اور غیر قانونی عمل میں سب سے زیادہ دیکھی جاسکتی ھیں۔ ان سب معاملات کا بنیادی تعلق جھوٹ سے ھے ہر برائی کی ابتدا جھوٹ پر منحصر ھوتی ھے۔اب تو ھم صرف پاکستان کیلئے دعا ھی کرسکتے ہیں کہ اللہ پاکستان میں ہر ایک کو سچ کا عادی بنادے اگر میری دعا قبول ھوگئی تو پاکستان دنیا میں جنت النظیر ملک کہلائے گا۔۔۔!!



