کالم/مضامین

عنوان: میلاد نبی ﷺ کے حوالے سے مولانا مودودیؒ کا موقف ۔۔!!

ٹائٹل : بیدار ھونے تک

عنوان: میلاد نبی ﷺ کے حوالے سے مولانا مودودیؒ کا موقف ۔۔!!

کالمکار : جاوید صدیقی

آج کا دن دنیا کیلئے ایک بڑی برکت کا دن ہے، کیوں کہ یہی تاریخ تھی جس میں ساری دنیا کے رہنما حضرت محمد ﷺ دنیا میں تشریف لائے۔ اگرچہ شریعت میں حضورﷺ کے یوم پیدائش کو عید قرار نہیں دیا گیا ہے اور نہ اس کیلئے کسی قسم کے مراسم مقرر کئے گئے ہیں لیکن اگر مسلمان یہ سمجھ کر، کہ یہ خدا کے سب سے بڑے نبی اور دنیا کے سب سے بڑے ہادی کی پیدائش کا دن ہے اور یہ وہ دن ہے جس میں انسان کیلئے خدا کی سب سے بڑی نعمت ظہور میں آئی، اس کو عید کی طرح سجھیں تو کچھ بے جا نہیں ہے۔ البتہ اس عید کے منانے کی یہ صورت نہیں کہ خوب کھاؤ پیو، چراغاں کرو، جلوس اور جھنڈے نکالو اور محض اپنی دل لگی کیلئے فضول نمائشی کام کرنے لگو۔ ایسا کرو گے تو تم میں اور جاہل قوموں میں کوئی فرق نہ رہے گا۔ جاہل قومیں بھی اپنی تاریخ کے بڑے بڑے واقعات کی یاد میلوں ٹھیلوں اور جلوسوں سے مناتی ہیں۔ اگر تم نے بھی ان کے میلوں اور تہواروں کی نقل اتاری تو جیسے وہ ہیں ویسے ہی تم بھی بن کر رہ جاؤ گے۔ اسلام نے تو یادگار منانے کیلئے نیا ہی ڈھنگ نکالا ہے۔ سب سے بڑی یادگار حضرت ابراہیمؑ کی قربانی ہے، جسے منانے کیلئے الله تعالیٰ نے عید الاضحٰی کی نماز اور قربانی اور حج و طواف کا طریقہ مقرر کیا ہے۔ اس پر تم غور کرو تو اندازہ کرسکتے ہو کہ مسلمان کو اپنی تاریخ کے بڑے بڑے واقعات کی یاد کس طرح منانی چاہئے۔ تم کو سوچنا چاہئے کہ بارہ ربیع الاول کی تاریخ کس لحاظ سے تمہارے لئے اہمیت رکھتی ہے۔ اس لحاظ سے نہیں کہ عرب کے ایک شخص کے گھر میں آج ایک بچہ پیدا ہوا تھا، بلکہ اس لحاظ سے کہ آج اس پیغمبر اعظم ﷺ کو خدا نے زمین پر بھیجا جس کے ذریعے سے انسان کو خدا کی معرفت حاصل ہوئی، جس کی بدولت انسان نے حقیقت میں انسان بننا سیکھا، جس کی ذات تمام جہان کیلئے خدا کی رحمت تھی اور جس نے روئے زمین پر ایمان اور عمل صالح کا نور پھیلایا۔ پس جب اس تاریخ کی اہمیت اس لحاظ سے ہے تو اس کی یادگار بھی اس طرح منانی چاہئے کہ آج کے روز حضور ﷺ کی تعلیم اور دنوں سے زیادہ پھیلاؤ۔ آپ ﷺ کے اخلاق اور آپ ﷺ کی ہدایات سے سبق حاصل کرو اور کم از کم آپ کی تعلیم کا اتنا چرچا تو کرو کہ سال بھر تک اس کا اثر باقی رہے۔ اس طرح یادگار مناؤ گے تو حقیقت میں یہ ثابت ہوگا کہ تم یوم میلاد النبی ﷺ کو سچے دل سے عید سمجھتے ہو اور اگر صرف کھا پی کر اور دل لگیاں ہی کر کے رہ گئے تو یہ مسلمانوں کی سی عید نہ ہوگی، بلکہ جاہلوں کی سی عید ہوگی، جس کی کوئی وقعت نہیں۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You