کالم/مضامین

عنوان: سیاچن گلیشٸر میں افواجِ پاکستان کی پروفیشنل خدمات

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: سیاچن گلیشٸر میں افواجِ پاکستان کی پروفیشنل خدمات۔۔۔!!

دنیا کی صفِ اول پاک افواج ایک بہترین پروفیشنل افواج ھے اسکے تمام کے تمام ذیلی یونٹ بھی مکمل پروفیشنل ازم سے آراستہ ہیں۔ افواج پاکستان دنیا کے بلند ترین مقام پر سیکیورٹی پر فائز ھے اور دشمن ملک بھارت دنیا کا سب سے بڑا شرپسند اور امن کا دشمن ملک ہے۔اس نے اس خطے کی سلامتی اور امن کو تار تار کرنے میں وحشت, بربریت اور انسانی حقوق کی دھجیاں بکھرنے میں رتی برابر بھی شرم و حیا نہیں برتا۔ اپنے معزز قارئین کو بتاتا چلوں کہ نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیاء میں امن و سکون و ترقی کیلئے جس قدر افواج پاکستان نے قربانیاں دیں ہیں پوری دنیا ان کی پروفیشنل ازم ماہرانہ خدمات کا معترف ہے۔ میں یہاں واضع کرتا چلوں کہ انتہائی سخت ترین اور بلند ترین چوٹی پر سیکیورٹی کی خدماتاحسن انداز میں پیش کرنا بڑے چیلنج کا حصہ ھے میں اس طرح سمجھاتا ہوں کہ جب ایک فوجی کی پوسٹینگ سیاچن گلیشٸر جیسے علاقے میں ہوتی ہے تو اس کو وہاں تین طرح کی جنگ لڑنی پڑتی ہیں جنمیں *پہلی جنگ* اپنے دشمن سے جو ہر وقت باڈر پر کوٸی نا کوئی سازش کرنے میں لگا رہتا ہے۔ *دوسری جنگ* موسم سے جو وہاں برفانی طوفان یعنی *لینڈ سلاٸیڈنگ* گہری کھاٸیاں اور شدید ترین ٹھنڈ کی صورت میں موجود ہے اور *تیسری جنگ* برف میں رہتے ہوئے معمولی سی بے احتياطی کی وجہ سے پیدا ہونے والی مختلف بیمایوں سے جو جان لیو ثابت ہوسکتی ہیں۔ راولپنڈی سے لگا تار تین دن رات سفر کے بعد اسکردو پہنچتا ہے۔ مزید اس سے اگے مختلف چار سیکٹرز ہیں۔ شروع والی پوسٹوں کی ہائٹ آٹھ ہزار سے دس ہزار فٹ ہوتی ہے اور جو لاسٹ پوسٹیں باڈر پر ہیں وہاں کی ہائٹ اکیس ہزار فٹ ہےجہاں آکسیجن بہت کم اور شدید طوفانی ہواٶں کا راج ہے جن کو *دم دما* بولتے ہیں جیسے گرم علاقوں میں گھوم کر اوپر اٹھنے والی ہوا کو *بگولا* کہتے ہیں ویسے ہی شدید برفانی علاقوں میں اسطرح کی چلنے والی ہواٶں کو *دم دما* کہتےہیں جو بہت خطرناک ہوتی ہے۔ پاک فوجی جوان آپ لوگوں کے سکون کیلئے وہاں پوسٹوں پر ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔ سیاچین گلیشٸر میں جو پوسٹیں بنائی جاتی ہیں اور جنمیں رہائش رکھی جاتی ہے ان کو فوجی زبان میں *ایگلو* کہا جاتا ہے جسمیں کم و پیش چار سے پانچ فوجی جوان رہتے ہیں۔سیاچن گلیشٸر میں نومبر سے اپریل تک ہر طرح کی موومنٹ مکمل طور پر بند کردی جاتی ہیں بغیر کسی ایمرجنسی کے کوٸی بھی موومنٹ نہیں ہوتی اس دوران جو فوجی اگلی پوسٹوں پر موجود ہوتے ہیں ان کو چھ ماہ بعد اپریل یا مٸی میں چھٹی ملتی ہے اور اگر کوٸی فوجی بیمارہوجائے یا کوٸی حادثہ رونما ہوجائے تو ایک ہیلی کاپٹر نیچھے اسکردو میں ہر وقت موجود ہوتا ہے جو ایمرجنسی میں مدد کرتا ہے مزید سنیٸر ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف بھی موجود ہوتا ہے اگر طوفانی ہوائیں چل رہی ہوں یا موسم اس طرح کا ہے کہ ہیلی کاپٹر نا جاسکتا ہو تو مختلف پارٹیاں پیدل چلائی جاتی ہیں یا مقامی لوگوں سے مدد لی جاتی ہے کیونکہ ان کو ہر طرح کے موسمی حالات میں راستوں کا پتا ہوتا ہے اور وہ طوفان میں بھی اپنی منزل پر آرام سے پہنچ جاتے ہیں۔ سیاچن میں ایک وقت کا کھانا کھانے کے بعد اگلے چوبیس گھنٹے بھوک نہیں لگتی وجہ اکسیجن کی کمی اور بند ڈبوں والا کھانا۔ پانی کی کمی ہوجاتی ہے کیونکہ پیاس اتنی نہیں لگتی برف کو گرم کرکے پانی پینا پڑتا ہے اور پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ بواسیر جیسی بیماری کا خطرہ رہتا ہے کیونکہ پانی کی کمی اور کم کھانے کی وجہ سے زیادہ تر قبض کی شکایت رہتی ہے۔ایک بہت خطرناک بیماری کا سامنا سیاچن میں ہوتا ہے جسکا نام ہے۔ *فراسٹ باٸٹ* جس میں پاٶں اور ہاتھوں کی انگلیاں بے احتياطی کی وجہ سے سیاہ ہوجاتی ہیں پھر ان کو کاٹنا پڑتا ہے نہیں تو وہ بڑھ جاۓ تو پورا ہاتھ پاؤں بھی کاٹنا پڑسکتا ہے۔ دھوپ کم ہی نکلتی ہے اگر نکل آئے تو مخصوص عینکوں کا استعمال کیا جاتا ہے ورنہ برف کی چمک سے نظر بھی جاسکتی ہے۔ نہانا منہ دھونا جسمانی صفاٸی پر مکمل پابندی ہوتی ہے کیونکہ ٹھنڈی ہوا لگنے سے شدید سر درد بخار اور ہارٹ اٹیک بھی ہوسکتا ہے۔ اسکن جل جاتی ہے جیسے زیادہ دھوپ والے علاقوں میں ہوتا ہے ویسے ہی برف میں لگاتار رہنے سے اسکن جل جاتی ہے جب بندہ چھ ماہ بعد گھر چھٹی پر آتا ہے تو گھر والے بھی نہیں پہچان پاتے۔ ہر پوسٹ پر ڈرائی فروٹ ڈبوں والا بند کھانا جس میں مچھلی سے لیکر ہر طرح کی سبزی اور گوشت موجود ہوتا ہے مگر اکسیجن کی کمی سے کھانے کو دل ہی نہیں کرتا۔ سیاچن گلیشٸر میں ایسے ہزاروں واقعات رونما ہوچکے ہیں جن میں فوجی جوان پارٹی بنا کر موو کررہے تھے اور لینڈ سلاٸیڈنگ کے نیچھے آکر دب گئے یاد رہے لینڈ سلاٸیڈنگ اس کو کہتے ہیں اچانک کوئی برف کا تودہ ٹوٹ کر طوفان کی شکل اختیار کرلے۔ لینڈ سلاٸیڈنگ بہت سے فوجی جوان پھسل کر گہری کھاٸیوں میں گرگئے جنکی لاشیں تک نہ مل سکیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی فوجی کو ٹھنڈ سے شدید بخار ہوا طوفان کی وجہ سے ہیلی کاپٹر نہ پہنچ پایا اور وہ شہید ہوگیا۔ یہ ساری مشکلات اور تکالیف ایک فوجی صرف آپ لوگوں کے سکون کیلے سیاچن میں برداشت کرتا ہے۔ اپنے گھروں سے دور اور اپنے پیاروں سے دور اپنے وطن کیلے تاکہ اپ لوگ گرم بستروں میں سکون سے سو پائیں اور جب کچھ لوگ گرم گرم بستروں سے اٹھ کر ہم فوجیوں کو گالیاں نکالتے ہیں اور غدار کہتے ہیں تو ان کو میں چیلنج کرتا ہوں یہاں سیاچن میں بس ایک رات گزار کر دکھائیں تو الزام لگانے والوں کو اندازہ ہوجائے گا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جو پاک افواج جس قدر بہترین پروفیشنل ازم سے کام اور خدمات پیش کرتے ہیں میرا سوال تمام سولین اداروں اور خودمختاروں سے ہے کہ وہ بھی پاک افواج کی طرح پروفیشنل ازم کیساتھ ایسی خدمات کیوں نہیں پیش کرتے ہیں جس طرح ہماری فوج کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ میں کہتا ھوں کہ
*ہر گھڑی کھڑی تیار کامران ہیں ہم*
*پاکستانی فوج کے جوان ہیں ہم*
*پہاڑ ہو یا زلزلہ جانیں بچاتے ہیں*
*ہر مشکل میں ہم کام آتے ہیں*
پاک فوج زندہ باد ۔ پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You