*عنوان: سرکاری اسکول جے ڈی سی خالی کرایا جائے*


*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: سرکاری اسکول جے ڈی سی خالی کرایا جائے*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
ہمارے دوست اصفہان انصاری نے ایک ایسے اشو کی طرف راغب کرائی جس کی حقیقت جان کر نہ صرف تعجب ھوا بلکہ فلاحی امور پیش کرنے والے ادارے جے ڈی سی کے سربراہ ظفر عباس کی ذہنیت اور سوچ کی سطح دیکھ کر بہت افسوس ھوا۔ یہ حقیقت ھے کہ پاکستان جہاں بدکردار، جھوٹے اور منافق حکمرانوں، سیاستدانوں، لیڈروں، ادارے کے سربراہوں سے بھرا پڑا ہے وہیں اب دیکھنے میں آیا ھے کہ فلاحی ادارے، این جی اوز بھی اس بابت چار ہاتھ آگے نظر آتے ہیں۔ معزز قارئین!! چلتے پھرتے اچھے بھلے سرکاری اسکول و مدارس فلاحی ادارے جے ڈی سی کو دیدیا گیا ہے، تعلیمی اداروں کی سرگرمیاں مدہم کرتے ہوئے کس طرح فلاحی ادارے کو راشن تقسیم یا عید بچت بازار یا عید الفطر عیدی بانٹنے کے نام سے میلہ یا تقریبات کے نام سے سرکاری اسکول کے میدان جس میں تین روزہ یا پانچ روزہ شامیانے لگاکر کر بہترین کرسیاں لگواکر چند مخصوص خاندان یا تعلقات والے گھرانوں کو نوازا جاتا رہا ہے، سمجھ سے بالاتر ہے۔ خدارا سرکاری اسکول و مدرسوں کو فلاحی اداروں کو جگہ دینے کا سلسلہ ختم کیا جائے، کلیا دیگر فلاحی اداروں کو بھی جگہ فراہم کی جائیں گی،
اس سے پہلے بھی سرکاری اسکول و مدارس کے میدانوں میں تقریباًت جن میں مایوں،
مہندی، بارات، ولیمہ اور سالگرہ و دیگرتقریبات کیلئے کرائے پر جگہ دی جاتی رہی ہیں، کچھ تو سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے بھی زور زبردستی سرکاری اسکول و مدارس کے میدان اور کمرے بھی اپنے ناجائز اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے آئے دن میں بھی تقریباًت کرتے ہوئے نظر آئے ہیں۔ گزشتہ دنوں ڈسٹرکٹ سینٹرل گلبرگ ٹاؤن بلاک 16 علامہ اقبال سرکاری اسکول جے ڈی سی کو الاٹ کردیا گیا ھے، حیرت و تعجب کی بات یہ ہے کہ فلاحی ادارے کو سرکاری جگہ محکمہ تعلیم کے افسران دے ہی نہیں سکتے
کیونکہ ان کے اختیار میں نہیں ہیں اور نہ ہی روک سکتے ہیں البتہ سیاسی اثرورسوخ
یا سندھ کے بہت ہی بڑے بااختیار سیاسی شخصیت کا شفقت بھرا ہاتھ شامل ہوسکتا ہے، اس بابت حکومت سندھ فوری فی الفور احکامات جاری کرتے ہوئے سرکاری املاک ے تمام غیر سرکاری مداخلت بند کرائے اور بلخصوص سرکاری اسکول و مدارس کے میدان دینے والوں سے باز پرس کی جائیں
آخر کون لوگ ہیں یہ جو تعلیم کے میدانوں کو بچت بازار یا دیگر تقریبات لئے فراہم کرکے اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اور جے ڈی سی سے فوری قبضہ ختم کراکے سرکاری اسکول خالی کرائیں۔ سرکاری املاک قومی امانت ہوتی ہیں ریاست کے پاس جنکی حفاظت و تحفظ فراہم کرنا ہر سرکاری ادارے کی ذمہداری بھی بنتی ھے۔
پڑھے لکھے گا سندھ
ترقی کرے گا پاکستان




