*عنوان: دین محمدی ﷺ کا سپاہی، ولی صفت سلطان ۔۔۔!!*

*بیدار ہونے تک*
*عنوان: دین محمدی ﷺ کا سپاہی، ولی صفت سلطان ۔۔۔!!*
*کالمکار: بیدار ھونے تک*
تاریخ عالم اسلام جہاں منافقوں، غداروں، سازشوں، جھوٹوں، مکاروں، فاسدوں، اور ایمان فروشوں سے بھری پڑی ھے وہیں اسی عالم اسلام کی تاریخ میں سنہری لفظوں عزت و مرتبوں اور معطر و تہذیب و ادب کیساتھ ایسی ایسی شخصیات کا بھی ذکر ملتا ھے جن کی ایمان، یقین، عشق و غلامی رسول ﷺ اور اللہ تبارک تعالیٰ سے والہانہ سچی محبت کی روحانی عملی تاثیر نظر آتی ھیں۔ معزز قارئین، تاریخ کا وہ عظیم ترین سلطان جس نے بیت المقدس بیچنے سے انکار کردیا تھا، جانئے خلیفۃ المسلمین، عاشقِ رسول، محافظ فلسطین، خادمِ حجاز مقدس سلطان عبدالحمید خان ثانی رحمۃ اللہ تعالیٰ کے متعلق تاریخ کے اوراق سے اور موازنہ بھی کیجئے آج کے مسلم حکمرانوں بلخصوص پاکستانی حکمرانوں کے کرداروں سے۔ معزز قارئین، سلطان عبدالحمید خان ثانی بائیس ستمبر سنہ اٹھارہ سو بیالیس عیسوی کو سلطان عبدالمجید کے ہاں استنبول میں پیدا ہوئے۔ سلطان عبدالحمید خان ثانی نے اپنے وقت کے عظیم علماء و مشائخ سے تعلیم حاصل کی،
سلطان کو دنیا کی اکثر زبانوں پر مہارت تامہ حاصل تھی جبکہ سلطان جاسوسی کے اندر اپنی مثال آپ تھے، سلطان کو دینی علوم پر کافی حد تک عبور حاصل تھا اور وہ سنی شاذلی اور قادری سلسلہ کے مرید تھے۔ سلطان عبدالحمید خان ثانی نے سنہ اٹھارہ سو چھہتر عیسوی میں خلافت عثمانیہ کی حکومت سنبھالی، سلطان نے کامیاب دانائی سے اربوں ڈالر کے یورپی قرض اتارے ہزاروں مدارس، کالجز اور یونیورسٹیز کی تعمیر کی اور مسجد نبوی اور مکہ مکرمہ میں تعمیراتی کام کروائے۔ سنہ اٹھارہ سو نوے عیسوی میں اسرائیل کے بانی تھیوروڈ ہرزل نے اربوں ڈالر کے بدلے فلسطین میں یہودیوں کیلئے زمین مانگی لیکن سلطان نے غیرت مندانہ جواب دیتے ہوئے کہا "فلسطین ہمارے نبی ﷺ اور حضرت عمر ؓ اور صلاح الدین ایوبی ؒ کی ہمارے پاس یادگار ہے ہم نے اس کو اپنے خون سے حاصل کیا ہے”۔ اس کے بعد یہودیوں نے متعدد بار سلطان پر قاتلانہ حملے کروائے لیکن سلطان محفوظ رہے۔ سلطان عبدالحمید خان ثانی نے تینتیس سال مکمل وقار کے ساتھ خلافت عثمانیہ پر حکومت کی اور روس و یورپ و امریکہ اور یہودیوں کا مقابلہ کیا۔ دس فروری سنہ انیس سو اٹھارہ عیسوی کو سلطان شدید بیماری کے باعث قضائے الہٰی سے انتقال کرگئے انکو استنبول کے شاہی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ھے ۔۔۔
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا۔۔۔ لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا۔ معزز قارئین، جب خلافت منہدم ہوئی، تو امت متفرق ہوگئی، وقار ماند پڑگیا، اور قیادت مفقود ہو گئی۔ خلافتِ عثمانیہ محض ایک نظام نہ تھی، بلکہ امت کی یکجہتی اور شوکت کی مظہر تھی، جو آج پارہ پارہ ہوچکی ہے۔ سقوط خلافت عثمانیہ دلخراش تاریخی واقعہ ہے۔ معزز قارئین، روئے زمین پر اسلامی مملکت ستاون کے لگ بھگ ہیں لیکن کسی ایک میں بھی نظام خلافت کا نہ تو رنگ نظر آتا ھے اور نہ ہی مکمل شرعی نظام کی جھلک بس یوں کہہ سکتے ہیں کہ انسانی حقوق کی پاسداری جو یہود و عیسائیوں نے مرتب کی ہوئی ھے وہی عملی نظر آتی ہیں لیکن پاکستان میں تو وہ بھی نہیں گویا جنگل کا بھی ایک قانون و ضوابط ہوتا ھے جو قدرت کے عین مطابق ڈھلا ہوا ہوتا ھے لیکن یہاں تو وہ بھی جنگل کا قانون تک نہیں۔ جب ہی تو ہر عاقل مفکر دانشور عالم و فاضل درویش و مفتی کہہ اٹھتا ھے یہاں تو دجال و شیطان کا نظام وارد ھے جو غیر مسلم ممالک تک نہیں۔۔۔۔!!




