کالم/مضامین

عنوان:عیاں در عیاں

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:عیاں در عیاں ۔۔۔!!

قرآن الحکیم و الفرقان المجید کی مکی 45 ویں سورة الجاثية کی آیت 29 میں ارشاد باری تعالیٰ ھے۔۔۔۔۔

هَـٰذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿ سورة الجاثية – ٢٩ ﴾
ترجمہ: یہ ہمارا دفتر تم پر سچ سچ بول رہا ہے، کیونکہ جو کچھ تم کیا کرتے تھے اسے ہم لکھ لیا کرتے تھے۔۔۔!! "اللہ نگاہوں کی چوری تک سے واقف ہے اور وہ راز تک جانتا ہے جو سینوں نے چھپا رکھے ہیں (سورة غافر – 19 )۔۔۔۔۔ ہائے: یہ سب کچھ ہم پر پیش کردیا جائیگا ؟ ” اور نامہ اعمال سامنے رکھ دیا جائیگا اس وقت تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اپنی کتابِ زندگی کے اندراجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہونگےکہ ہائے ہماری کم بختی، یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی بڑی حرکت ایسی نہیں رہی جو اس میں درج نہ ہوگئی ہو جو کچھ انہوں نےکیا تھاوہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ذرا ظلم نہ کرے گا (سورة الكهف – 49)۔۔۔۔ معزز قارئین!! قرآن پاک کی ان مقدس آیات مع ترجمے پڑھے تو پوشیدہ بھی عیاں ھوگیا یعنی ہمارے علم کےعلاوہ، فرشتے بھی ہمارے حکم سے تمہاری ہر چیز نوٹ کرتے اور محفوظ رکھتےتھے جب میں ان قرآنی آیاتوں کو ترجمعہ کے ساتھ پڑھتا گیا تو خوف سے میرے جسم کے بال کھڑے ہوگئے تھے: سوچنے اور سمجھنے لگا کہ کدھر ہوگا بھاگنے کا راستہ؟ کونسا بنے گا بہانہ مُکرجانے کا یعنی کہ ہمارے اعمال نسخ کیئے جارہے ہیں، کچھ بھی نہیں بھلایا جارہا، ہارڈ ڈسک کے خراب ہونے، میموری کے فارمیٹ ہوجانے، آندھی، بارش، طوفان کی وجہ سے کچھ خرابی پیدا ہونے کا کہیں بھی کوئی اندیشہ نہیں، کوئی بھی پہنچ نہ پائے کوئی وائرس خراب نہ کر پائے، ہائے یہ کیسا کمپیوٹر ریکارڈ ہوگا ؟ یاالٰھی: سارے گناہ لکھوائے جارہے ہیں کیا ؟ تاریخ کے ساتھ ؟ مقام اور جگہ کے ساتھ ؟ بیک گراؤنڈ کے ساتھ ؟ رنگین پرنٹ میں ؟
نشانی والے کپڑوں میں ؟
اسباب، متاب اور مال کی نشانیوں کے ساتھ ؟ مقاصد اور مطالب کے ساتھ ؟ آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ؟ ہائے ہم تو لُٹ گئے۔معزز قارئین!! ہائے ہمارے اعمال تمام تر شیطان ابلیس کی اطاعت اور خواہشِ نفس کی تکمیل میں رب کی نافرمانی میں تمام حدیں کراس کرچکے اور دنیا پرستی میں ایسے اوندھے ہوگئے کہ نہ رشتوں کی تمیز اورنہ ہی انسانیت کااحساس رھا ہاں البتہ مسلمان ھونے کےناطے ہاتھوں میں تسبیاں، ذکر و افکار نماز و روزہ حج و تراویح گوکہ تمام حقوق الله کی پیروی کرتے تھکتے نہیں مگر اس جانب جان بوجھ کر نظر چراتے ہیں اور عمل کرنے میں کتراتے ہیں جس کا رب نے سب سےزیادہ حکم دیا ھے یعنی حقوق العباد ۔۔۔ اب میں اپنے قارئین کی خدمت میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری خطبہ کے نقاط یاددلانا چاہتاھوں تاکہ ھم غفلت کی نیند سے بیدارھوجائیں نفس اور ابلیس کے پے در پے پوشیدہ اور عیاں حملوں کو سمجھ جائیں۔۔۔۔ خطبہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانیت کی عظمت، احترام اور حقوق پر مبنی ابدی تعلیمات اور اصول عطا کئے مگر سیرت نبوی میں حقوق انسانی سے متعلق یہ واحد دستاویز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری زندگی انسانیت نوازی اور تکریم انسانیت کی تعلیمات سے عبارت ہے تاہم آپ کی حیات مبارکہ میں انسانی حقوق کے تحفظ اور عملی نفاذ کے حوالے سے خطبہ فتح مکہ اور خطبہ حجۃ الوداع کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔خطبۂ حجۃ الوداع کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
*اِذَا کَانَ یَوْمُ الْحَجِّ اَتٰی رَسُوْلُ ﷲِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَرَفَةَ، فَنَزَلَ بِهَا حَتّٰی اِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ، اَمَرَ بِالْقَصْوَآءِ فَرُحِلَتْ لَهٗ، فَاَتٰی بَطْنَ الْوَادِیْ، فَخَطَبَ النَّاسَ خُطْبَتُهُ الَّتِیْ بَیَّنَ فِیْهَا مَا بَیَّنَ* ’’ حج کے دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفہ تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں قیام فرمایا۔ جب سورج ڈھلنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ( اپنی اونٹنی ) قصوا لانے کا حکم فرمایا۔ اونٹنی تیار کرکے حاضر کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ( اس پر سوار ہو کر ) بطنِ وادی میں تشریف فرما ہوئے اور اپنا وہ خطبہ ارشاد فرمایا جس میں دین کے اہم امور بیان فرمائے۔ ‘‘ *فَحَمِدَ ﷲَ، وَ اَثْنٰی عَلَیْهِ قَائِلاً: لَا اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ وَحْدَهٗ لَا شَرِیْکَ لَهٗ، صَدَقَ وَعْدَهٗ، وَ نَصَرَ عَبْدَهٗ، وَ هَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَهٗ* ’’ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خدا کی حمد ثنا کرتے ہوئے خطبے کی یوں ابتدا فرمائی: خدا کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے۔ وہ یکتا ہے، کوئی اس کا شریک نہیں، خدا نے اپنا وعدہ پورا کیا، اس نے اپنے بندے ( رسول ) کی مدد فرمائی اور تنہا اس کی ذات نے باطل کی ساری مجتمع قوتوں کو زیر کیا۔‘‘ *اَیُّهَا النَّاسُ! اِسْمَعُوْا قَوْلِیْ، فَاِنِّیْ لَا اَرَانِیْ وَ اِیَّاکُمْ اَنْ نَجْتَمِعَ فِیْ ھٰذَا الْمَجْلِسِ اَبَدًا بَعْدَ عَامِیْ ھٰذَا*’’ لوگو! میری بات سنو، میں نہیں سمجھتا کہ آئندہ کبھی ہم اس طرح کسی مجلس میں یکجا ہو سکیں گے (اور غالباً اس سال کے بعد میں حج نہ کر سکوں گا)۔‘‘ مساواتِ اِنسانی کا تصور کے متعلق کہا *اَیُّهَا النَّاسُ! اِنَّ ﷲَ یَقُوْلُ: یٰـٓاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی وَ جَعَلْنٰـکُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْاط اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ ﷲِاَتْقٰـکُمْ. فَلَیْسَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی عَجَمِیٍّ فَضْلٌ، وَلَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ، وَلَا لِاَسْوَدَ عَلٰی اَبْیَضَ، وَلَا لِاَبْیَضَ عَلٰی اَسْوَدَ فَضْلٌ اِلَّا بِالتَّقْوٰی* ’’ لوگو! اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اے انسانو! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہیں جماعتوں اور قبیلوں میں بانٹ دیا کہ تم الگ الگ پہچانے جا سکو، تم میں زیادہ عزت و کرامت والا خدا کی نظروں میں وہی ہے جو خدا سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔‘‘ چنانچہ اس آیت کی روشنی میں نہ کسی عرب کو عجمی پر کوئی فوقیت حاصل ہے نہ کسی عجمی کو کسی عرب پر، نہ کالا گورے سے افضل ہے نہ گورا کالے سے۔ ہاں! بزرگی اور فضیلت کا کوئی معیار ہے تو وہ تقویٰ ہے۔‘‘ *اَلنَّاسُ مِنْ اٰدَمَ وَ اٰدَمُ مِنْ تُرَابٍ، اَلاَ کُلُّ مِأْثَرَۃٍ اَوْ دَمٍ اَوْ مَالٍ یُدَّعٰی بِہٖ فَهُوَ تَحْتَ قَدَمَیَّ هَاتَیْنِ اِلَّا سَدَانَۃُ الْبَیْتِ وَ سَقَایَۃُ الْحَاجِّ* ’’ انسان سارے ہی آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنائے گئے۔ اب فضیلت و برتری کے سارے دعوے، خون و مال کے سارے مطالبے اور سارے اِنتقام میرے پاؤں تلے روندے جا چکے ہیں۔ بس بیت اﷲ کی تولّیت اور حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمات علیٰ حالہٖ باقی رہیں گی۔‘‘ حقوق کی ادائیگی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا *ثُمَّ قَالَ: یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! لَا تَجِیْؤُا بِالدُّنْیَا تَحْمِلُوْنَهَا عَلٰی رِقَابِکُمْ، وَ یَجِئُ النَّاسُ بِالْاٰخِرَۃِ، فَلَا اُغْنِیْ عَنْکُمْ مِنَ ﷲِشَیْئًا*’’ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:قریش کے لوگو! ایسا نہ ہو کہ اﷲ کے حضور تم اس طرح آؤکے تمہاری گردنوں پر تو دنیا کا بوجھ لدا ہو اور دوسرےلوگ سامانِ آخرت لے کر پہنچیں اور اگر ایسا ہوا تو میں خدا کے سامنے تمہارے کچھ کام نہ آ سکوں گا۔‘‘ نسلی تفاخر کا خاتمہ کے بارے میں حکم دیا *مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! اِنَّ ﷲَ قَدْ اَذْهَبَ عَنْکُمْ نَخْوَةَ الْجَاهِلِیَّۃِ، وَ تَعَظُّمَهَا بِالْاٰبَاءِ* ’’ قریش کے لوگو! خدا نے تمہاری جھوٹی نخوت کو ختم کر ڈالا اور باپ دادا کے کارناموں پر تمہارے فخر و مباہات کی کوئی گنجائش نہیں۔‘‘ زندگی کا حق سمجھاتے ہوئے کہا *اَیُّهَا النَّاسُ! اِنَّ دِمَائَکُمْ وَ اَمْوَالَکُمْ وَ اَعْرَاضَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ، اِلٰی اَنْ تَلْقَوْا رَبَّکُمْ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ هٰذَا، وَ کَحُرْمَۃِ شَهْرِکُمْ هٰذَا، فِیْ بَلَدِکُمْ هٰذَا، وَ اِنَّکُمْ سَتَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ، فَیَسْئَلُکُمْ عَنْ اَعْمَالِکُمْ* ’’ لوگو! تمہارے خون و مال اور عزتیں ہمیشہ کیلئے ایک دوسرے پر قطعاً حرام کردی گئی ہیں۔ ان چیزوں کی اہمیت ایسی ہی ہے جیسی اس دن کی اور اس ماہ مبارک ( ذی الحجہ ) کی خاص کر اس شہر میں ہے۔ تم سب خدا کے حضور جاؤ گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی بازپرس فرمائے گا۔‘‘ *اَلاَ! فَـلَا تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ ضُلَّا لًا یَّضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ* ’’ دیکھو کہیں میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ آپس میں ہی کشت و خون کرنے لگو۔‘ مال کے تحفظ کا حق سمجھاتے ہوئے فرمایا *فَمَنْ کَانَتْ عِنْدَهٗ اَمَانَۃٌ فَلْیُؤَدِّهَا اِلٰی مَنِ ائْتَمَنَهٗ عَلَیْهَا* ’’ اگر کسی کے پاس امانت رکھوائی جائے تو وہ اس بات کا پابند ہے کہ امانت رکھوانے والے کوامانت پہنچا دے۔‘‘ اَفرادِ معاشرہ کا حق کے بارے میں کہا *اَیُّهَا النَّاسُ! کُلُّ مُّسْلِمٍ اَخُوا الْمُسْلِمِ، وَ اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ اِخْوَۃٌ* ’’ لوگو! ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘ خادموں کا حق کے بارے میں کہا *اَرِقَّآئَکُمْ اَرِقَّائَکُمْ، اَطْعِمُوْهُمْ مِمَّا تَاْکُلُوْنَ، وَاکْسُوْهُمْ مِمَّا تَلْبَسُوْنَ* ’’ اپنے غلاموں کا خیال رکھو، ہاں غلاموں کا خیال رکھو، انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو، ایسا ہی پہناؤ جو خود پہنتے ہو۔‘‘ لاقانونیت کا خاتمہ کے متعلق فرمایا *اَلاَ! کُلُّ شَیْئٍ مِنْ اَمْرِ الْجَاهِلِیَّۃِ تَحْتَ قَدَمَیَّ مَوْضُوْعٌ، وَ دِمَاءَ الْجَاهِلِیَّۃِ مَوْضُوْعَۃٌ، وَ اِنَّ اَوَّلَ دَمٍ اَضَعُ مِنْ دِمَآئِنَا دَمُ ابْنِ الرَّبِیْعَۃِ بْنِ الْحَارِثِ، وَ کَانَ مُسْتَرْضَعًا فِیْ بَنِیْ سَعْدٍ، فَقَتَلَهٗ هُذَیْلٌ* ’’ دورِ جاہلیت کا سب کچھ میں نے اپنے پیروں تلے روند دیا۔ زمانہ جاہلیت کے خون کے سارے انتقام اب کالعدم ہیں۔ پہلا انتقام جسے میں کالعدم قرار دیتا ہوں، میرے اپنے خاندان کا ہے۔ ربیعہ بن حارث کے دودھ پیتے بیٹے کا خون جسے بنو ہذیل نے مار ڈالا تھا، اب میں معاف کرتا ہوں۔‘‘ معاشی اِستحصال سے تحفظ کا حق سے متعلق فرمایا *وَ رِبَا الْجَاهِلِیَّۃِ مَوْضُوْعٌ، وَ اَوَّلُ رِبًا اَضَعُ رِبَانَا رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطْلِبِ، فَاِنَّهٗ مَوْضُوْعٌ کُلَّهٗ*
’’ اب دورِ جاہلیت کا سود کوئی حیثیت نہیں رکھتا، پہلا سود جسے میں چھوڑتا ہوں، عباس بن عبدالمطلب کے خاندان کا سود ہے، اب یہ ختم ہوگیا۔‘‘ وراثت کا حق پر فرمایا *ایُّهَا النَّاسُ! اِنَّ ﷲَ ل قَدْ اَعْطٰی کُلَّ ذِیْ حَقٍّ حَقَّهٗ، فَـلَا وَصِیَّةَ لِوَارِثٍ* ’’ لوگو! خدا نے ہر حق دار کو اس کا حق خود دے دیا، اب کوئی کسی وارث کے حق کے لئے وصیت نہ کرے۔‘‘نومولود کے تحفظِ نسب کا حق کے متعلق کہا *اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَ لِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَ حِسَابُهُمْ عَلَی ﷲِ* ’’ بچہ اس کی طرف منسوب کیا جائے گا جس کے بستر پر وہ پیدا ہوا، جس پر حرام کاری ثابت ہو اس کی سزا پتھر ہے، اور ان کا حساب و کتاب خدا کے ہاں ہوگا۔‘‘ معاشرتی شناخت کا حق پر فرمایا *مَنِ ادَّعٰی إِلٰی غَیْرِ اَبِیْهِ، اَوْ تَوَلّٰی إِلٰی غَیْرِ مَوَالِیْهِ فَعَلَیْهِ لَعْنَۃُ ﷲِ*
’’ جو کوئی اپنا نسب بدے گا یا کوئی غلام اپنے آقا کے مقابلے میں کسی اور کو اپنا آقا ظاہر کرے گا تو اس پر خدا کی لعنت ہوگی۔‘‘ قرض کی وصولی کا حق کے متعلق کہا *اَلدَّیْنُ مَقْضِیٌّ، وَالْعَارِیَۃُ مُرْدَأْۃٌ، وَالْمِنْحَۃُ مَرْدُوْدَۃٌ، وَ الزَّعِیْمُ غَارِمٌ* ’’ قرض قابلِ ادائیگی ہے، عاریتاً لی ہوئی چیز واپس کرنی چاہئے، تحفے کا بدلہ دینا چاہئے اور جو کوئی کسی کا ضامن بنے، وہ تاوان ادا کرے۔‘‘ ملکیت کا حق کے بارے میں کہا *وَلَا یَحِلُّ لِامْرِئٍ مِنْ اَخَیْهِ اِلَّا مَا اَعْطَاهُ عَنْ طِیْبِ نَفْسٍ مِنْهُ، فَلَا تَظْلِمُنَّ اَنْفُسَکُمْ* ’’ کسی کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے کچھ لے، سوائے اس کے جس پر اس کا بھائی راضی ہو اور خو شی خوشی دے۔ خود پر اور ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرو۔‘‘ خاوند اور بیوی کے باہمی حقوق کے متعلق کہا *اَلاَ! لَا یَحِلُّ لِامْرَأَۃٍ اَنْ تُعْطِیَ مِنْ مَالِ زَوْجِهَا شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِہٖ. اَیُّهَا النَّاسُ! اِنَّ لَکُمْ عَلٰی نِسَآئِکُمْ حَقًّا، وَ لَهُنَّ عَلَیْکُمْ حَقًّا، لَکُمْ عَلَیْهِنَّ اَلَّا یُوْطِئْنَ فَرْشَکُمْ اَحَدًا تَکْرَهُوْنَهٗ، وَ عَلَیْهِنَّ اَنْ لَّا یَاتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ، فَاِنْ فَعَلْنَ فَاِنَّ ﷲَ قَدْ اَذِنَ لَکُمْ اَنْ تَهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اَنْ تَضْرِبُوْا ضَرْبًا غَیْرَ مُبْرَحٍ، فَاِنِ انْتَهَیْنَ فَلَهُنَّ رِزْقُهُنَّ وَکِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْروْفِ*
’’ عورت کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کا مال اس کی اِجازت کے بغیر کسی کو دے۔ دیکھو! تمہارے اوپر تمہاری عورتوں کے کچھ حقوق ہیں۔ اسی طرح ان پر تمہارے حقوق واجب ہیں۔ عورتوں پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ اپنے پاس کسی ایسے شخص کو نہ بلائیں جسے تم پسند نہیں کرتے اور وہ کوئی خیانت نہ کریں، کوئی کام کھلی بے حیائی کا نہ کریں اور اگر وہ ایسا کریں تو خدا کی جانب سے اجازت ہے کہ تم انہیں معمولی جسمانی سزا دو اور وہ باز آجائیں تو انہیں اچھی طرح کھلاؤ پہناؤ۔‘‘ خواتین کے حقوق کے کےبارے میں کہا *وَاسْتَوْصُوْا بِالنِّسَآءِ خَیْرًا، فَاِنَّهُنَّ عَوَانٍ لَکُمْ لَا یَمْلِکْنَ لِاَنْفُسِهِنَّ شَیْئًا، فَاتَّقُوا ﷲَ فِی النِّسَآءِ، فَاِنَّکُمْ اَخذْ تُمُوْهُنَّ بِاَمَانِ ﷲِ، وَاسْتَخْلَلْتُمْ فُرُوْجَهُنَّ بِکَلِمَاتِ ﷲِ* ’’ عورتوں سے بہتر سلوک کرو کیونکہ وہ تو تمہاری پابند ہیں اور خود اپنے لئے وہ کچھ نہیں کر سکتیں۔ چنانچہ ان کے بارے میں خدا کا لحاظ رکھو کہ تم نے انہیں خدا کے نام پر حاصل کیا اور اسی کے نام پر وہ تمہارے لئے حلال ہوئیں۔ لوگو! میری بات سمجھ لو، میں نے حقِ تبلیغ ادا کردیا۔‘‘ قانون کی اِطاعت کے بارے میں کہا *وَ اِنِّیْ قَدْ تَرَکْتُ فِیْکُمْ مَّا لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدَهٗ اَبَدًا، اِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِہٖ: کِتَابَ ﷲِ، وَ اِیَّاکُمْ و الْغُلُوُّ فِی الدِّیْنِ، فَاِنَّمَا اَهْلَکَ مَنْ قَبْلَکُمُ الْغُلُوُّ فِی الدِّیْنِ* ’’ میں تمہارے درمیان ایک ایسی چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ تم کبھی گمراہ نہ ہو سکے گے اگر اس پر قائم رہے اور وہ خدا کی کتاب ہے، اور ہاں دیکھو، دینی معاملات میں غلو سے بچنا کہ تم سے پہلے کے لوگ انہی باتوں کے سبب ہلاک کر دیئے گئے۔‘‘ قانون کی حکمرانی کے متعلق فرمایا *وَ اِنَّ الشَّیْطَانَ قَدْ یَئِسَ مِنْ اَنْ یُّعْبَدَ فِیْ اَرْضِکُمْ هٰذِهٖ اَبَدًا، وَلٰکِنْ سَتَکُوْنُ لَهٗ طَاعَۃٌ فِیْمَا تُحَقِّرُوْنَ مِنْ اَعْمَالِکُمْ، فَسَیَرْضٰی بِهِ فَاحْذَرُوْهُ عَلٰی دِیْنِکُمْ* ’’ شیطان کو اب اس بات کی کوئی توقع نہیں رہ گئی ہے کہ اب اس کی اس شہر میں عبادت کی جائے گی لیکن اس بات کا امکان ہے کہ ایسے معاملات میں جنہیں تم کم اہمیت دیتے ہو اس کی بات مان لی جائے اور وہ اس پر راضی ہے۔ اس لئے تم اس سے اپنے دین و ایمان کی حفاطت کرنا۔‘‘ ﷲ کے حقوق کے بارے میں فرمایا *اَلاَ! فَاعْبُدُوْا رَبَّکُمْ، وَ صَلُّوْا خَمْسَکُمْ، وَ صُوْمُوْا شَهْرَکُمْ، وَ اَدُّوْا زَکوٰةَ اَمْوَالِکُمْ طَیِّبَۃً بِهَا اَنْفُسُکُمْ، وَ تَحُجُّوْا بَیْتَ رَبِّکُمْ، وَ اَطِیْعُوْا وَلَاةَ اَمْرِکُمْ، تَدْخُلُوْا جَنَّةَ رَبِّکُمْ* ’’ لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو، پانچ وقت کی نماز ادا کرو، مہینے بھر کے روزے رکھو، اپنے مالوں کی زکوٰۃ خوش دلی کے ساتھ دیتے رہو، اپنے خدا کے گھر کا حج کرو اور اپنے اہل اَمر کی اطاعت کرو تو اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔‘‘ اِنصاف کا حق کے متعلق کہا *اَلاَ! لَا یَجْنِیْ جَانٍ اِلَّا عَلٰی نَفْسِہٖ، اَلاَ! لَا یَجْنِیْ جَانٍ عَلٰی وَلَدِہٖ، وَ لَا مُوْلُوْدٌ عَلٰی وَالِدِہٖ* ’’ آگاہ ہو جاؤ! اب مجرم خود ہی اپنے جرم کا ذمہ دار ہوگا، آگاہ ہو جاؤ! اب نہ باپ کے بدلے بیٹا پکڑا جائے گا اورنہ بیٹے کا بدلہ باپ سے لیا جائے گا۔‘‘ عوام الناس کا پیغامِ ہدایت سے آگہی کا حق کے کےبارے میں کہا *اَلاَ! فَلْیُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ اَوْعٰی مِنْ سَامِعٍ*’’ سنو! جو لوگ یہاں موجود ہیں انہیں چاہئے کہ یہ احکام اور یہ باتیں ان لوگوں کو بتادیں جو یہاں نہیں ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی غیر موجود تم سے زیادہ سمجھنے اور محفوظ رکھنے والا ہو۔‘‘ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حق کے متعلق فرمایا *وَ اَنْتُمْ تُسْأَلُوْنَ عَنِّیْ، فَمَا ذَا اَنْتُمْ قَائِلُوْنَ؟ قَالُوْا: نَشْهَدُ اِنَّکَ قَدْ اَدَّیْتَ الْاَمَانَةَ، وَ بَلَّغْتَ الرِّسَالَةَ، وَ نَصَحْتَ*’’ اور لوگو! تم سے میرے بارے میں (خدا کے ہاں) سوال کیا جائے گا۔ بتاؤ تم کیا جواب دو گے؟ لوگوں نے جواب دیا: ہم اس بات کی شہادت دیں گے کہ آپ نے امانتِ (دین) پہنچا دی اور آپ نے حقِ رِسالت ادا فرما دیا اور ہماری خیر خواہی فرمائی۔‘‘ *فَقَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِاَصْبُعِهِ السَّبَّابَۃِ یَرْفَعُهَا اِلَی السَّمَآءِ وَ یَنْکُتُهَا اِلَی النَّاسِ: اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ، اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ، اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ*’’ یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگشتِ شہادت آسمان کی جانب اٹھائی اور لوگوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ دعا فرمائی: *’’خدایا گواہ رہنا! خدایا گواہ رہنا! خدایا گواہ رہنا۔‘‘* اُس تاریک دور میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کو تکریم آدمیت اور حقوق انسانی کا عملی درس دیا اور ایک دوسرے کے حقوق و فرائض سے آگاہ فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حقوق و فرائض کی فکری اساس اور عملی نفاذ پر مبنی تاریخ ساز، دائمی، جامع اور ہمہ گیر منشور انسانی حقوق *’’خطبۂ حجۃ الوداع‘‘* کی شکل میں عطا فرما کر فلاحی اسلامی معاشرہ کی بنیاد رکھی۔۔۔۔ معزز قارئین!! اسلامی تاریخ گواہ ھے کہ بیشمار سپہ سالاروں ایمان افروز حکمرانوں نے اپنی زندگی کو قرآنی تعلیمات اطاعت رسول اور احکام خداوندی کی پیروی کو کرتے ھوئے بے مثل و بے مثال عملی طور پر عیاں در عیاں رکھا۔ دور جدید میں منافقت جھوٹ مکر فریب اور عیاری کو بہترین ہنر سمجھا جاتا ھے خود نمائی چاپلوسی کو کامیابی کی نشانی سمجھی جاتی ھے جو کہ سراسر خسارہ اور ناتلافی نقصان نقصان پر مبنی ھے انسان جان جائے کہ اس کا ہر عمل ہر فعل عیاں در عیاں ھے اسی لیئے سمجھدار باعزت باوقار باضمیر انسان احتیاط اور محتاط کیساتھ زندگی گزارتے ہیں یہ جانتے ہیں کہ انہیں لمحہ لمحہ کا حساب دینا ھوگا یہ سمجھدار انسان خطبۂ حجۃ الوداع کا بار بار مطالعہ اور غور کرتے ھوئے زندگی بسر کرتے ھیں یہی انسان کامیاب ہیں اور انہیں ہی انعامات سے نوازا اگیا ھے۔

صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنَ۠ ( سورۃ فاتحہ آیت ۔۷ )

ترجمہ: ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے احسان کیانہ کہ ان کا راستہ جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You