عنوان:سندھ کا ظالمانہ بجٹ اور پینشنرز کی حق تلفی۔

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:سندھ کا ظالمانہ بجٹ اور پینشنرز کی حق تلفی۔۔۔!!
میرے معزز قارئین آج کے کالم کیلئے مجھے جس قدر پینشنرز کا دباؤ رہا ھے آج تک کسی اور مضمون عنوان مسائل اور اشو پر نہیں رہا۔ سندھ میں پینشنرز کے ساتھ جو سوتیلی ماں کا سلوک روا رکھا گیا وہ نہ صرف انسانیت کی تذلیل میں شمار ھوتا ھے بلکہ حقوق انسانی کے سب سے بڑے جرم میں بھی شامل ھے کیونکہ مجھے بیشمار باریش بزرگوں نے ملاقات کرکے اپنے موقف اور حق کی نا تلفی کے بارے میں آگاہ کیا کہ انھوں نے ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر آصف علی زرداری تک نہ دیکھا نہ سنا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے کمزوروں پر ظلم کیا اور عوام دشمنی کا کہیں عنصر چھوڑا لیکن اس بجٹ 2021-2022 میں جس قدر پیشنرز کے جائز حقوق اور مسائل کو شدت سے نظر انداز کیا گیا اس سے ثابت ھوتا ھے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اب عوام دشمنی پر آگئی ھے لگتا ھے وفاق کا غصہ اپنے ہی پینشرز پر اتار دیا یہی نہیں ریٹائر ملازمین کے گروپ انشورنس کو بھی جبراً قید کررکھا ھے جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان چیف جسٹس گلزار احمد نے سندھ کے سرکاری ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے وقت ہی گروپ انشورنس کی رقم ادا کرنے کے احکامات جاری کردیئے تھے لیکن چیف جسٹس گلزار احمد شائد بھول گئے ہیں یہاں بادشاہت زرداری اور بلاول کی ھے وہ جو چاہیں گے کریں گے وہ کسی کے پابند نہیں کیونکہ وہ آزاد ہیں انہیں یہ آزادی اٹھارہ ویں ترمیم نے دی ھے جس سے پورے قومی اسمبلی اور سینٹ کے ایوان نے پاس کیا تھا یہ الگ بات ھے کہ سیاست کے ماہر آصف علی زرداری کو سب کو الو بنا ڈالا اور خود کو تا حیات قانون سے مبرا کرلیا اب رہی سندھ کی بات تو پی پی پی جو چاہیں کریں کسی کے باپ میں دم نہیں جو ان کا بال بھی کاٹ سکیں ھے کسی میں ہمت جرات جو ان سے حساب لے صرف بک بک کرسکتے ہیں اور بس۔ ان پریشان باریش بزرگ نے مجھے سختی سے کہا کہ جاوید صدیقی صاحب اگر آپ زرد صحافی ضمیر فروش صحافی بکاؤ مال صحافی نہیں ھیں تو جو میں نے کہا ھے اپنا موقف دیا ھے اس میں بنا ترمیم لکھئے گا۔۔۔معزز قارئین!! میں نے بحیثیت ان کا موقف جوں کا توں لکھ دیا ھے ان باریش بزرگ پینشرز جیسے اور بھی بزرگ پینشرز کا تقریباً ملا جلا موقف تھا۔۔۔ معزز قارئین!! یہ حقیقت ھے کہ حکومتِ سندھ کی تاریخ میں یہ پہلا ایسا بجٹ آیا ھے جس میں حاضر سروس سے آدھا فیصد کم پینشن میں اضافہ کیا گیا یعنی حاضر سروس ملازمین کی تنخواہ میں بیس فیصد جبکہ پینشنرز کی پینشن میں صرف دس فیصد کیا گیا لیکن ہمیشہ سے دیکھا گیا ھے کہ چاہے وفاقی بجٹ ھو یا صوبائی بجٹ اس میں حاضر اور پینشنرز کو برابر یا کبھی پینشرز کو زیادہ ہی دیا جاتا رہا ھے سوائے سندھ کے تمام صوبوں اور وفاق نے پینشرز کے مسائل اور وسائل کو سمجھتے ھوئے حاضر سروس کے مساوی رکھا اور کہیں زیادہ کیونکہ موجودہ دور میں ہوشربا مہنگائی نے خاص کر پینشنرز کا جینا محال کردیا ھے پینشنرز حضرات تو صرف پینشن پر ہی اکتفا کرتے ہیں اسی لیئے سندھ کے پینشنرز شدید متاثر ھوئے ہیں۔۔۔ معزز قارئین!! بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں بہت بڑے بڑے دعوے کیئے تھے اور شیر بن کر دھاڑ رہے تھے مگر جب خود کی باری آئی تو ہوا کی مانند تحلیل ھوگئے واقعی جھوٹ کے پاؤں نہیں ھوتے۔ سندھ کے تمام پینشرز
اس ظالمانہ رویہ پر احتجاج کرتے ہیں اور حکومت سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سرکاری پینشرز میں کم از کم تیس فیصد فی الفور اضافہ کریں بصورت عوامی حکومت نہ کہلوائیں۔۔۔۔۔معزز قارئین!! ماہر تعلیم اصفہان انصاری نے اپنا موقف دیتے ھوئے کہا کہ سندھ گورنمنٹ نے موجودہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کیلئے تو بیس فیصد رکھا ھے اور ریٹائرڈمنٹ ملازمین کیلئے صرف دس فیصد رکھا اخر ایساں کیوں!! کیا ریٹائرڈ ملازمین نے زندگی بھر ادارے کی خدمت نہیں کی. کیا کم تنخواہ اور کم مراعات پر گزارہ نہیں کیا پھر یہ نہ انصافی کیوں!! ان کے پاس کیا رہ جاتا ہے۔ ریٹائرڈمنٹ کا سارا جمع پونجی پچوں کی شادی یا دیگر معاملات میں لگا بیٹھتے ہیں۔ اب وہ بالکل خالی ہوکر ٹوٹ جاتے ہیں تو ایسے میں صرف دس فیصد کا اعلان کرنا نہ انصافی کے زمرے میں اتا ہے اور بلاول بھٹو اور آصف زرداری کو زیب نہیں دیتا کیونکہ جیالے کہتے ہیں کہ ان کے رہبر سخی دیالو اور بڑی شان والے ہیں تو پھر کمزور مستحق پینشنرز کے حقوق کو سلب کرنا کہاں کی شان کہاں کی دریا دلی۔ سندھ حکومت کے وزرا و مشیران شائد ان پڑھ ہیں جبھی تو کبھی بھی انھوں نے مطالعہ ہی نہیں کیا کہ سندھ حکومت کیا کھیل کھیل رہی ھے سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ کس سال کی لگائی گئی ھے اور بابت تنخواہ ری وائس نہ کرنے سے کھربوں رقم ابتک سرکاری ملازمین اور پینشرز کے کھا چکے ہیں۔ واقعی سہی کہا تھا چیف جسٹس نے کہ سندھ کا زرہ زرہ کرپشن اور بددیانتی میں لپٹا ھے واقعی اسٹپلشمنٹ اور سیکیورٹی ادارے سندھ حکومت کے آگے بے بس ہیں اٹھارہ ویں ترمیم نے سندھ کو پاکستان کردیا ھے یہی وجہ ھے کہ وفاق اور سپریم کورٹ کے احکامات پاؤں تلے روند دیئے جاتے ہیں۔ سندھ گورنمنٹ کو بروقت اپنے فصلے میں دوبارہ نظر ثانی کرنی چاہئے. معزز قارئین!! سرکاری ملازمین و پینشرز نے کہا ھے کہ وفاق ھو یا صوبائی حکومتیں اپنے بجٹ میں سفید پوش عزت نفس رکھنے والوں کو کیوں بے لباس بھوکا مار دینا چاہتیں ہیں ان کا کہنا تھا کہ ھم نے پوری زندگی عزت نفس کیساتھ ریاست کی خدمت میں بسر کی ھے ھم مر تو سکتے ہیں مگر لعنت بھجتے ہیں بھیک پر چاہے بینظیر کے نام پر ھو یا احساس پر یہاں وہیں جائیں گے جنھوں نے اپنے عزت نفس کو بیچ ڈالا ھو یا دفن کردیا ھے آخر میں انھوں نے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا الله غارت کردے ایسے نظام کو جس میں نہ عدل و انصاف ملتا ھو نہ عزت نفس کی قدر ھو پھر کہتے ہیں الله انہیں بھی غارت کردے جو اختیار اور طاقت رکھتے ھوں مگر ظالم کے ظالم پر خاموش رہیں۔۔۔ معزز قارئین!! میں جب تک ان باریش بزرگ پینشرز کیساتھ رہا یقین جانئیے کہ میرا بدن اور روح کانپ اٹھی تھی میں اسے ہر گز مدینہ ثانی ریاست تسلیم نہیں کرتا خدارا میرا وہی پاکستان لوٹادو جو میرے عظیم رہبر قائداعظم محمد علی جناح نے دیا تھا میں کروڑوں لعنت بھیجتا ہوں ایسی جمہوریت پر جہاں لمحہ بہ لمحہ عوام کے جذبات و احساسات حقوق و انصاف اور بنیادی ضرورتوں کا قتل کیا جاتا ھے جہاں صحافت پر قدغن لگایا جاتا ھو جہاں کی میڈیا دجالی فتنہ بنی ھوئی ھو ۔۔۔ الله میرے پاکستان کو فتنوں منافقوں اور ظالموں سے ہمیشہ محفوظ رکھے آمیں ثما آمین ۔۔۔
پاکستان زندہ باد!!
کالمکار: جاوید صدیقی



