عصر حاضر میں دیگر ممالک سے تعلقات اور اپنی بات منوانے کے لئے معاشی طور پر مضبوطی ناگزیر

*عصر حاضر میں دیگر ممالک سے تعلقات اور اپنی بات منوانے کے لئے معاشی طور پر مضبوطی ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر خالد عراقی*
*معیشت اور دو ملکوں کے درمیان جو رشتے ہوتے ہیں اس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی*
*چین کی کامیابی کا انحصار بیرون ملک منڈیوں اور وسائل تک اس کی رسائی پر ہے۔ڈاکٹر تنویر خالد*
*وسطی ایشیا وہ دے سکتا ہے جو دنیا چاہتی ہے بشرطیکہ اسے متضاد مفادات کا میدان نہ بنایا جائے۔ ڈاکٹر حناخان*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ عصر حاضر میں دیگر ممالک سے تعلقات اور اپنی بات منوانے کے لئے معاشی طور پر مضبوطی ناگزیر ہے۔تاریخ پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس سے سیکھنا بھی ضروری ہے۔ انصاف اور برابری کی بنیاد پر قائم معاشرے ہی ترقی اور خوشحالی کے ضامن ہوتے ہیں۔ معاشرے میں اعتدال، مساوات اور عدل و انصاف کو قائم رکھنے کے لئے جن اصولوں، ضابطوں اور قوانین کی ضرورت ہوتی ہے، انہیں نظر انداز کرنے سے معاشرے تنزلی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ پاکستان اس وقت علاقائی روابط کے ذریعے اپنی معیشت کی بحالی کے لئے جدوجہد کررہا ہے۔ حکومت پاکستان اور ہمارے ریاستی ادارے قابل تعریف اور داد و تحسین کے مستحق ہیں جن کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں اقتصادی محاذ پر حالیہ کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ بین الاقوامی سیاسی بحران کے اس نازک موڑ پر شنگھائی سربراہی اجلاس پاکستان کی ایک بڑی کامیابی ہے جس کی میزبانی اسلام آباد میں علاقائی اتحادیوں بشمول چین اور روس کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شعبہ تاریخ جامعہ کراچی کے زیر اہتمام اور انسٹی ٹیوٹ آف سینٹرل اینڈ ویسٹ ایشین اسٹڈیز کے اشتراک سے ڈاکٹر اے کیو خان انسٹی ٹیوٹ آف بائیو ٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ جامعہ کراچی کی سماعت گاہ میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان: ”بدلتی ہوئی دنیا میں وسطی ایشیاء“کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے انسٹی ٹیوٹ آف سینٹرل اینڈ ویسٹ ایشین اسٹڈیز اور شعبہ تاریخ کے اشتراک سے منعقد ہونے والی کانفرنس کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جامعہ کراچی پاکستان کے معاشی بحالی کے ایجنڈے پر حکومت اور ریاستی اداروں کے شانہ بہ شانہ کام کرے گی۔ اس کانفرنس کا انعقاد جامعہ کی ماضی کی روایات کا ایک تسلسل ہے۔ انہوں نے علاقائی تعاون کی تنظیم سازی پہ زور دیتے ہوئے اس کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ پاکستان میں سینٹرل ایشیاء کی دلچسپی رہی ہے اور اب تک ہے، معیشت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور دو ملکوں کے درمیان جو رشتے ہوتے ہیں اس کا بھی کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ یہ سب کچھ قومی اور معاشی مفادات سے متعلق ہوتا ہے۔ ہمارے اذہان میں یہ جو دھواں ہے کہ یہ جو مسلمان ہیں وہ ہمارے دوست ہوں گے یہ ہمیں نکالنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان بھی مسلم ملک ہے، پاکستان کی توقع یہ تھی کہ افغانستا ن میں مسلمانوں کی حکومت کے قیام سے ہمارے دوست ہوں گے اور تعلقات مزید بہتر ہوں گے لیکن آج ہمیں انڈیا سے زیادہ افغانستان تنگ کررہا ہے۔ اس بات کو ہمیں بھول جانا چاہئے کہ سینٹرل ایشیاء مسلمان ہے تو ہمارے تعلقات ہوں گے۔ سینٹرل میں ایشیاء میں اس طرح کے کوئی خیالات نہیں، وہ پاکستان سے مسلمان ہونے کی وجہ سے دوستی نہیں کرنا چاہیں گے بلکہ سب کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ ملک کے اند رہم جتنی مرضی اسلامی نظام قائم کرنے کی کوشش کریں لیکن ملک کے باہر ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ معاشی تعلقات کن بنیادوں اور اسٹریٹیجک تعلقات کن بنیادوں پر ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنے تعلیمی معیار کو بڑھانے کی ضرورت ہے اور یہ ریاست ہی کرسکتی ہے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کی اعزازی سیکریٹری پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد نے کہا کہ چین اپنی اقتصادی ترقی اور توسیع میں بنیادی طور پر عالمی سطح پر سب سے زیادہ بااثر ہے۔ اس کی کامیابی کا انحصار بیرون ملک منڈیوں اور وسائل تک اس کی رسائی پر ہے۔ وسطی ایشیا سمیت ترقی پذیر دنیا کے کئی حصوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا مطلب یہ ہے کہ اس کا خطے میں بڑھتا ہوا سیاسی فائدہ ہے۔چین، روس، ایران، افغانستان، بھارت اور پاکستان سیکورٹی اور اقتصادی مسائل میں اہم کھلاڑی ہیں جو وسطی ایشیا کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ معروف تاریخ دان اور پاکستان اسٹڈی سینٹر جامعہ کراچی کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر جعفر احمد نے کہا کہ پاکستان کے تعلقات کی اپنی ایک طویل تاریخ ہے، پہلے برصغیر پاک و ہند کے ایک حصے کے طور پر، اور بعد میں ایک آزاد ملک کے طور پر، وسطی ایشیا کے خطے کے ساتھ۔ ان تاریخی رشتوں کو بدقسمتی سے قرون وسطیٰ کے دور میں برصغیر پر ہونے والے حملوں کے واقعات اور نتائج کے طور پر شناخت کیا گیا۔ ڈاکٹر جعفر احمد نے مزید کہا کہ ایریا اسٹڈی سینٹر فار سینٹرل ایشیا جو پشاور یونیورسٹی میں واقع ہے۔ اس کا سہرا سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو جاتا ہے جن کے ادارہ سازی کے جذبے سے ان کے سیاسی مخالفین بھی انکار نہیں کرسکتے۔ نئی یونیورسٹیوں کے قیام کے علاوہ ان کے دور میں ملک بھر میں متعدد تحقیقی ادارے اور مراکز قائم ہوئے۔ بڑے اور چھوٹے شہروں میں قومی مراکز، کراچی میں قائداعظم اکیڈمی، دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستان چیئرز، پانچ یونیورسٹیوں میں پاکستان اسٹڈی سینٹرز اور ایک قومی ادارہ قائم کیا۔
رئیس کلیہ فنون و سماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم نے کہا کہ وسطی ایشیاء تین طاقتوں کے مابین تعاون اور مسابقت کا مرکز ہے۔ چین اور روس کے مابین امریکہ کو روکنے کے لئے اشتراک تو بہت نظر آتا ہے لیکن ان میں مسابقت بھی ہے اور بالخصوص توانائی کے شعبہ میں، امریکہ یہ سمجھتاہے کہ روس کو کمزور کرنے کے لئے وسطی ایشیاء بہترین طریقہ ہے۔ اس وقت عالمی طاقتوں کا سب سے بڑا مسئلہ توانائی کا حصول ہے اور وہ اس خطے سے زیادہ سے زیادہ توانائی کا حصول چاہتے ہیں جس کی بڑی وجہ ان خطوں کا تاحال سیاسی اور عسکری طور پر کم مضبوط ہونا ہے۔ شعبہ تاریخ جامعہ کراچی کی ڈاکٹر حنا خان نے کہا کہ وسطی ایشیا وہ دے سکتا ہے جو دنیا چاہتی ہے بشرطیکہ اسے متضاد مفادات کا میدان نہ بنایا جائے۔ خطے کی عوام کا مفاد سب سے مقدم ہونا چاہئے۔ جمہوریت، تکثیریت اور شفافیت کے ذریعے ان مفادات میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔ اکیسویں صدی کی تیسری دہائی، جب یوکرین اور مشرق وسطیٰ کے بحران بین الاقوامی توجہ پر حاوی ہیں، ایسا لگتا ہے کہ وسطی ایشیا بین الاقوامی سیاست کی پشت پر کھڑا ہے۔ نائن الیون نے خطے کو ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے گڑھ کے طور پر روشناس کرایا جس نے افغانستان میں پہلی طالبان حکومت کے خلاف نیٹو افواج کو فوجی اور فضائی اڈے فراہم کئے تھے۔ کانفرنس سے انسٹی ٹیوٹ آف سینٹرل اینڈ ویسٹ ایشین اسٹڈیز کی جنرل سیکریٹری پروفیسر ڈاکٹر نسرین افضال نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں نظامت کے فرائض شعبہ تاریخ کے ڈاکٹر معیزخان نے انجام دیئے جبکہ کلمات تشکر شعبہ تاریخ جامعہ کراچی کے صدر شعبہ پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم طحہٰ نے ادا کئے۔



