کالم/مضامین

شان الحق حقی ہماری علمی و ادبی تاریخ کا نمایاں نام ہیں ، ان کے ذکر کے بغیر اردو کی لسانی تاریخ نامکمل

*شان الحق حقی ہماری علمی و ادبی تاریخ کا نمایاں نام ہیں ، ان کے ذکر کے بغیر اردو کی لسانی تاریخ نامکمل ہے، واجد جواد*

*سماجی حیثیت سے ، تاریخی حیثیت سے اور لسانی و ادبی حیثیت سے شان الحق حقی کا نام ہمیشہ تاریخ کے اوراق میں زندہ رہے گا، پروفیسر سحر انصاری*

(رپورٹ: جاوید صدیقی) گزشتہ روز انجمن ترقئ اردو پاکستان اور اردو لغت بورڈ، کراچی کے زیر اہتمام معروف شاعر، ترجمہ کار، لغت نویس، نقاد اور محقق شان الحق حقی کی اکیسویں برسی کی مناسبت سے بیاد شان الحق حقی ایک تقریب کا اہتمام اردو باغ، انجمن ترقی اردو پاکستان میں کیا گیا۔ تقریب کی صدارت انجمن ترقی اردو کے صدر نشین واجد جواد نے فرمائی جبکہ مہمانان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر سحر انصاری اور لندن سے تشریف لائے ہوئے شان الحق حقی کے فرزند شایان الحق حقی شریک ہوئے۔ مقررین میں ڈاکٹر نور سہارن پوری، رنگ ادب پبلکیشنز کے روح و رواں شاعر علی شاعر، شان الحق حقی پر پی ایچ ڈی کے حامل ڈاکٹر عرفان شاہ، شاعر و ادیب فراست رضوی، اردو لغت بورڈ کراچی کے انچارج طارق بن آزاد شامل تھے۔ صدر انجمن ترقئ اردو پاکستان واجد جواد نے اپنے صدارتی خطاب میں انجمن کی جانب سے شان حقی کو پیش کیے گئے سپاس نامے اور ان کی خدمات کے اعتراف کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا شان الحق حقی ہماری علمی و ادبی تاریخ کا نمایاں نام ہیں اور ان کے ذکر کے بغیر اردو کی لسانی تاریخ نامکمل ہے۔ پروفیسر سحر انصاری نے اپنی گفتگو میں شان الحق حقی کی لفظ و معنی سے محبت کے واقعات کو یاد کرتے ہوئے ان کی مختلف تصانیف کا ذکر کیا بالخصوص تنقیدی زاویے سے شان الحق حقی کے نثری کام کو خراج تحسین پیش کیا۔ انھوں نے فرمایا زاہدہ خاتون شروانیہ جو ز-خ-ش کے نام سے لکھتی تھیں، ان کے بارے میں اولین مضمون حقی صاحب نے تحریر کیا۔ پروفیسر سحر انصاری نے مزید فرمایا کہ سماجی حیثیت سے، تاریخی حیثیت سے اور لسانی و ادبی حیثیت سے شان الحق حقی کا نام ہمیشہ تاریخ کے اوراق میں زندہ رہے گا۔ شایان حقی نے اپنے والد کی کام سے لگن اور وارفتگی کا ذکر کرنے کے ساتھ ان کے آخری ایام میں نجی گفتگو کی یاد بھی تازہ کی، انھوں نے بتایا کہ میں نے ایک مرتبہ والد صاحب سے پوچھا کہ آپ نے پاکستان آکر بہت ہی مختصر کلیم لیا جبکہ آپ بہت سی خاندانی جائیدار چھوڑ کر آئے تھے تو اس کے جواب میں ابا جی نے کہا کہ ہم اس وطن کی محبت میں اور اس کی خدمت کرنے یہاں آئے ہیں۔ تمام مقررین نے اپنی گفتگو میں شان الحق حقی کی شخصیت اور علمی خدمات پر مختلف زاویوں سے روشنی ڈالی۔ فراست رضوی نے عالمی ادب کے تراجم کے باب میں حقی صاحب کے نمائندہ کام کا ذکر کرتے ہوئے بھگود گیتا کے ترجمے کے بارے میں خیالات کا اظہار کیا، انھوں نے اپنی گفتگو میں ڈاکٹر ایوب قادری، حبیب اللہ غضنفر، قدرت نقوی اور دیگر مشاہیر کا ذکر بھی کیا اور ان کے کام سے نئی نسل کو متعارف کروانے کی اہمیت پر زور دیا۔ ڈاکٹر عرفان شاہ نے شان الحق حقی پر اپنی ایچ ڈی کے تناظر میں انکشافانہ گفتگو کی اور شایان حقی کو خراج تحسین پیش کیا کہ وہ زبان و ادب کی خدمت کرنے والوں اور حقی صاحب سے محبت کرنے والوں کے لیے پردیس میں رہ کر بھی ہمہ وقت میسر رہتے ہیں۔ ڈاکٹر عرفان شاہ نے اردو لغت بورڈ کی حالیہ خدمات اور کارکردگی پر طارق بن آزاد کی کاوشوں کو بھی سراہا جسے حاضرین کی پر زور تائید حاصل رہی۔ شاعر علی شاعر نے مختصر اور جامع انداز حقی صاحب کو خراج تحسین پیش کیا اور رنگ ادب پبلیکیشنز کی جانب سے شان الحق حقی کی سو غزلوں کے انتخاب "دل کی زبان” کی اشاعت نو کو اپنے لیے اعزاز شمار کرتے ہوئے کتب کی پشت پر درج اپنی تحریر کا اقتباس حاضرین کے سامنے پیش کیا۔ ڈاکٹر نور سہارن پوری نے بھی شان الحق حقی پر تحریر کردہ اپنا مقالہ اختصار کے ساتھ پیش کیا اور حقی صاحب کی شاعرانہ عظمت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی غزلیات کو غور سے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے ان کی شاعری کا اصل موضوع عشق نہیں بلکہ انسان ہے۔ طارق بن آزاد نے اپنی گفتگو میں انجمن ترقی اردو کے نو منتخب عہدے داران کو مبارک باد پیش کی اور جناب واجد جواد کی سرپرستی میں اردو کے فروغ کے لیے کوشاں اداروں کے درمیان تعاون کی روایت کو خوش آئند قرار دیا۔ انھوں نے ڈائریکٹر جنرل ادارہ فروغ قومی زبان پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر کی سربراہی میں اردو لغت بورڈ کے مستقبل منصوبوں میں شان الحق حقی کے کاموں کو خراج تحسین پیش کرنے کے سلسلے میں کیے جانے والے کاموں سے حاضرین کو آگاہ کیا۔ تقریب کا آغاز حسب روایت تلاوت کلام ربانی سے ہوا جس کی سعادت مسرور کیفی نعت اکیڈمی کے روح و رواں نعت خواں اور تذکرہ نویس ابرار حسین نے حاصل کی، اس کے بعد معروف ثنا خوان، اسکرپٹ رائٹر اور مدیر نعت نیوز محمد زکریا شیخ الاشرفی نے ہدیہءنعت پیش کیا، انھوں نے شان الحق حقی کے تحریر کردہ دو مختلف نعتیہ کلام پیش کیے جسے حاضرین نے بہت ذوق و شوق سے سماعت کیا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض انجمن ترقئ اردو پاکستان کے ڈپٹی سیکریٹری حسن عباس نے نہایت حسن کارانہ انداز میں انجام دیے۔ تقریب کے شرکاء میں انجمن ترقئ اردو پاکستان کی مجلس نظماء کے رکن باری میاں فرنگی محلی، معروف ادیبہ اور مترجم زیبا علوی، پاکستان کے پہلے ادبی وثقافتی ترقیم ساز منہج "نوادرات” کے بانی ذیشان محبوب، ڈاکٹر سعید قادری(فرزند ڈاکٹر ایوب قادری)، محبان بھوپال فورم کے روح و رواں اویس ادیب انصاری، سابق قائم مقام مدیر اعلی اردو لغت بورڈ ڈاکٹر شاہد ضمیر، ڈاکٹر نوشابہ صدیقی اور ان کے شریک حیات،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہءاردو کراچی یونیورسٹی ڈاکٹر ذکیہ رانی، ,نائب صدر بہادر یار جنگ اکیڈمی، سید صبیح الدین حسینی، معروف کالم نویس اور صحافی جاوید صدیقی، ڈاکٹر عامر عالم رضوی، صدر شعبہء علوم۔ اسلامیہ وفاقی اردو یونیورسٹی ڈاکٹر حسن امام، ڈاکٹر کامران قریشی، کہنہ مشق صحافی جلیس سلاسل، سیکسسمنٹری پوڈ کاسٹ کے میزبان اور ایوارڈ شو کے بانی غضنفر جاوید، انجینئر مسعود کمال (فرزند پروفیسر عبد الحمید کمالی)، صحافی اور شاعر کامران مغل، اردو یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے ڈاکٹر عرفان اللہ، کالم نویس اور تجزیہ کار افتخار احمد خانزادہ، ادبی جریدے سہ ماہی انشا کے مدیر صفدر علی انشا، شہزاد سلطانی، اردو لغت بورڈ اور اردو سائنس بورڈ سے غلام قادر کلادی، عمران اشتیاق، ندیم الدین، محمد ارشد، سید عاقب علی، فیاض شورو اور شان الحق حقی سے محبت کرنے والی ادب دوست شخصیات اور طلبہ کی کثیر تعداد شامل تھیں۔ تقریب کے اختتام پر معتمد انجمن ترقی اردو پاکستان ڈاکٹر یاسمین فاروقی نے کلمات تشکر پیش کیے۔ اس کے بعد رنگ ادب پبلیکیشنز کے زیر اہتمام شائع کردہ "دل کی زبان” کی رونمائی کی رسم ادا کی گئ اور شاعر علی شاعر نے کتاب کے نسخے مہمانان گرامی کی خدمت میں پیش کیے۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You