*عنوان: میڈیا مالکان سے ایک درد مندانہ مگر دوٹوک سوال۔۔۔!!*

*عنوان: میڈیا مالکان سے ایک درد مندانہ مگر دوٹوک سوال۔۔۔!!*
*تحریر: جاوید صدیقی، جرنلسٹ کراچی*
الحمدللہ، ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ہے! جب سابق وزیراعظم عمران خان کے دورِ حکومت میں کرونا وائرس کی وبا نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لیا تو ملک کے متعدد بڑے میڈیا گروپس، بشمول اے آر وائی، جیو و جنگ، ایکسپریس، ڈان اور دیگر سیٹلائٹ چینلز میں بڑے پیمانے پر ڈاؤن سائزنگ کی گئی۔ اس صورتِ حال نے ہزاروں صحافیوں، میڈیا ورکرز اور ان کے خاندانوں کو معاشی مشکلات سے دوچار کردیا۔ برسوں اپنی صلاحیتیں، وقت اور توانائیاں میڈیا اداروں کو دینے والے متعدد پیشہ ور افراد اچانک بے روزگاری کے اندھیروں میں دھکیل دیے گئے۔ افسوس کہ اس مشکل دور میں میڈیا سے وابستہ کارکنوں کی معاشی مشکلات اور ان کے اہلِ خانہ کی پریشانیوں کے ازالے کے لیے جس سنجیدگی اور احساسِ ذمہ داری کی ضرورت تھی، وہ نمایاں طور پر دکھائی نہ دی۔ دوسری جانب بعض میڈیا اداروں اور حکومتی تعلقات کے حوالے سے مالی معاونت کے معاملات پر بھی سوالات اٹھتے رہے۔ ایسے معاملات میں شفافیت، غیر جانب دارانہ تحقیق اور جواب دہی ناگزیر ہے۔مزید افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ صحافتی برادری کے بعض بااثر افراد نے اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے میڈیا کارکنوں کے معاشی استحصال کے خلاف وہ مؤثر آواز نہیں اٹھائی جس کی ان سے توقع کی جاتی تھی۔ بعض افراد احتجاجی جلسوں، جلوسوں اور ریلیوں میں شرکت تو کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر کم تنخواہ دار صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد نظر نہیں آتی۔ یقیناً ایسے صحافی بھی موجود ہیں جو مشکل حالات کے باوجود اپنے ساتھیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں، اور ان کی جدوجہد قابلِ تحسین ہے۔
*میری تمام میڈیا مالکان، بالخصوص اے آر وائی، سے درد مندانہ اپیل ہے۔*
اے آر وائی سے میرا طویل پیشہ ورانہ تعلق رہا ہے، اسی لیے اس ادارے کا ذکر میرے لیے محض ایک ادارے کا ذکر نہیں بلکہ اپنی صحافتی زندگی کے ایک اہم باب کی یاد دہانی بھی ہے۔ خدارا! اگر معاشی حالات یا ادارے کے مالی معاملات کے باعث اخراجات میں کمی ناگزیر ہو تو سب سے پہلے بھاری مشاہرے اور مراعات حاصل کرنے والے اعلیٰ عہدیداروں کے پیکیجز پر نظرثانی کیجیے۔ جب کوئی فرد ماہانہ 80 سے 90 لاکھ روپے یا ایک کروڑ روپے سے زائد مشاہرہ اور مراعات وصول کر رہا ہو، تو کیا ادارے کے کم تنخواہ دار کارکنوں کی روزی بچانے کے لیے اس سطح پر مناسب اور منصفانہ بچت کی گنجائش پر غور نہیں کیا جاسکتا؟
*خدارا! کم تنخواہ دار کارکن کا چولہا بند نہ کیجیے۔*
یاد رکھیے، ایک بڑے عہدیدار کے لیے تنخواہ میں کمی شاید محض طرزِ زندگی میں تبدیلی ہو، لیکن ایک عام کارکن کے لیے ملازمت ختم ہونا اس کے بچوں کی تعلیم، گھر کے کرائے، علاج، راشن اور پورے خاندان کے مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ اداروں کی معاشی مشکلات کا بوجھ ہمیشہ ان لوگوں پر ڈال دینا جو پہلے ہی محدود وسائل میں زندگی گزار رہے ہوں، کہاں کا انصاف ہے؟ میڈیا مالکان کو یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ادارے صرف عمارتوں، مشینوں، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور بڑے عہدوں سے نہیں چلتے؛ ان کی اصل قوت وہ کارکن ہوتے ہیں جو دن رات محنت کرکے ادارے کو زندہ رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ وہی واحد و لاشریک ہے اور اسی کی بارگاہ میں ہر شخص کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔ شرک، تکبر، ظلم اور ناانصافی سے بچنا ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔ مال و دولت، عہدہ اور اختیار عارضی ہیں، مگر انسان کے اعمال اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کی جواب دہی اپنی جگہ مسلم ہے۔
*میری اپنی زندگی کا معاملہ بھی سنیے!!*
الحمدللہ، میں آج بھی اپنے گھر پر آرام کر رہا ہوں۔ میں نے اپنے حصے کی صحافتی زندگی گزاری، اپنے تجربات حاصل کیے اور اپنے رب پر بھروسا رکھا۔ مجھے یقین ہے کہ عزت، رزق اور آسودگی کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ اسباب اختیار کرنا انسان کی ذمہ داری ہے، مگر نتیجہ اسی کے سپرد ہے۔ مجھے کسی سے شکوہ کرنے کے بجائے اپنے رب کی عطا پر شکر ادا کرنا عزیز ہے۔ میرا ایمان ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے، اللہ اس کے لیے کافی ہے۔
*میڈیا مالکان سے آخری گزارش:*
اپنے اداروں کو صرف کاروبار نہ سمجھیے؛ انہیں انسانی زندگیوں، خاندانوں اور امیدوں سے جڑا ہوا ایک اجتماعی نظام بھی سمجھیے۔ منافع ضرور کمائیے، ادارے ضرور چلائیے، لیکن اپنے کارکنوں کے معاشی تحفظ، عزتِ نفس اور بنیادی حقوق کو بھی مقدم رکھیے۔ کیونکہ اداروں کی کامیابی صرف منافع کے اعداد و شمار سے نہیں، بلکہ اس بات سے بھی ناپی جاتی ہے کہ وہ اپنے مشکل ترین وقت میں اپنے کارکنوں کے ساتھ کتنا انصاف کرتے ہیں۔ الحمدللہ، میرا رب میرے لیے کافی ہے۔ شکر ہے، ہر حال میں اللہ واحد لاشریک کا شکر ھے!!



