"سوہنی دھرتی اللہ رکھے ۔ ۔ ۔” وطن کی محبت سے سرشار، بصارت سے محروم لڑکی کی آواز نے سامعین کی انکھوں کو بھیگو دیا

خصوصی رپورٹ (کاشف شمیم صدیقی)
کراچی واٹٖر اینڈ سیورج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ(KWSSIP)اور این آر ایس پی(NRSP) نے مل کر آزادی کی خوشیوں کو بھر پور طور پر منایا۔ اس سلسلے میں کراچی کے پسماندہ علاقے عیسٰی نگری کے کمیونٹی سینٹر میں ایک شاندار پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا، پروگرام میں خاص طور پر عیسٰی نگری کے بچوں نے بڑھ، چڑھ کر حصہ لیا، ان بچوں میں کچھ معزور بچے بھی شامل تھے۔ پروگرام میں شامل تمام بچوں کی خوشی دیدنی تھی، وہ خوش تھے، گُنگُنا رہے تھے، کھا، پی رہے تھے، باجوں کے شور نے معصوم شرارتوں کو ایک نئی جلا بخش دی تھی ۔ پروگرام خوب زور و شور سے جاری تھا کہ اسی دوران میزبان نے اسٹیج پر بصارت سے محروم ایک بچی کو بلایا تھا، ہرے رنگ کے لباس پر سفید دوپٹہ اوڑھے وہ لڑکی اپنے نَنّھے مُنّے دوستوں کی مدد سے بمشکل تمام اسٹیج کی سیڑھیاں چڑھنے میں کامیاب ہوئی تھی، چلنے پھرنے میں مشکل ضرور پیش آئی تھی لیکن اسٹیج کی جانب اُٹھتے قدموں میں وہ اعتماد کمال تھا جوحوصلوں، جذبوں اور مضبوط ارادوں سے پوُری طرح سرشار تھا۔ دل میں بسی وطن کی محبت نے اس لڑکی کے چہرے پر آئے نور کو مزید بڑھا دیا تھا، پھر اُسی محبت اور جذبے سے لبریز احساسات نے جب آواز کا روُپ دھارا اور "سوھنی دھرتی اللہ رکھے قدم، قدم آباد تجھے” کی آواز ہال میں گونجی تو پھر تو کمیونٹی سینٹر میں موجود ہر شخص کی توجہ صرف اُسی جانب مبذول ہو کر رہ گئی تھی، بچے، بوڑھے، مرد، عورتیں، جوان سب اس آواز میں چھُپی اپنائیت کو صاف محسوس کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ اور پھرجب "جھیل گئے دکھ جھیلنے والے” الفاظ سماعتوں سے ٹکرائے تو آنکھوں کو بھی بھیگو گئے، ہال تالیوں کے شور سے گونج اُٹھا تھا، لوگوں نے اپنی نشستوں سے کھڑے ہوکر داد دی تھی، اُس شاندار اور باوقار پرفارمنس کو خوب سراہا گیا تھا جو کسی معذوری، محتاجی کا شکار نہیں تھی۔
پھر شام گئے پروگرام تو ختم ہو گیا تھا لیکن سوہنی دھرتی سے اُٹھنے والی بھینی، سوندھی خوشبوؤں نے فضاؤں کو معطر کر دیا تھا ۔ ۔ ۔ ہمیشہ کے لیے!



