اہم خبریںسندھ

سندھ کے دیہی علاقے کسمپرسی کا شکار، غربت کی چکی میں پستے نفوس دادرسی کے منتظر

سندھ کے دیہی علاقے کسمپرسی کا شکار، غربت کی چکی میں پستے نفوس دادرسی کے منتظر

عورتوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی، نہ مردوں کو روزگا ر کے مواقع دستیاب، معاشی اور معاشرتی عدم استحکام عروج پر

پسماندہ علاقوں کے مکینوں میں ہنر، جذبہ،صلاحیت اور قابلیت موجود، کوئی ہاتھ تھامنے والا ہی نہیں

سندھ (بیورو رپورٹ): سندھ کے دیہی علاقوں میں بسنے والے عوام کا کوئی پرُسانِ حال نظر نہیں آتا، پسماندہ علاقوں میں بسنے والی خواتین کی بات کی جائے تو نہ تو اُنہیں بنیادی حقوق حاصل ہیں اور نہ ہی غربت زدہ علاقوں میں بسنے والی محنت کش خواتین کو کوئی ایسا فورم دستیاب ہے جہاں سے وہ اپنی آواز کو بلند کرسکیں، ہمت، عزم اور حوصلے سے سرشارخواتین اپنی زندگی میں خوشگوار تبدیلیاں لانے کی خواہاں ہیں لیکن فرسودہ روایات کے شکنجے میں جکڑی عورتیں بے بس، لاچار اور مجبور ہیں، اُنہیں کسی بھی قسم کی کوئی سپورٹ حاصل نہیں۔ پسماندگی کا شکار خواتین کو اجتماعی طور پر متحرک ، منظّم اوراُن میں خوداعتمادی کی تعمیر اور معاشی طور پر مستحکم بنانے کے لیے ضروری اقدامات عمل میں لائے جانے کی اشد ضرورت ہے۔ دوسری جانب غربت زدہ علاقوں میں بسنے والے نوجوان با صلاحیت او رہنر مند ہیں لیکن اُنکا ہاتھ تھامنے والا بھی کوئی نظر نہیں آتا اُنہیں مالی معاونت اور پیشہ وارانہ امور پر تربیت فراہم کردی جائے تو وہ ازخود اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے قابل بن سکیں گے اور آمدنی کے بہتر زریعوں کو اپنا کر اپنی اور اپنے خاندان کی زندگیوں میں خوشگوار تبدیلیاں لاسکیں گے۔ ان تمام تر نا مصائب حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے شفاف پروگرامز کی تشکیل عمل میں لائی جائے جو نہ صرف سندھ بلکہ پاکستان کے ہر صوبے کے دیہی عوام کو ہر ممکن سپورٹ فراہم کرسکیں۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You