سوہاوہ

رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ ہے اور ضرورت امر کی ہے کہ ان مبارک ساعتوں میں جوہم دعوی

رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ ہے اور ضرورت امر کی ہے کہ ان مبارک ساعتوں میں جوہم دعوی ایمانی رکھتے ہیں

کیا اس دعوے میں اتنی قوت ہے کہ ہم اپنی زندگیوں سے غلطیوں کو نکال باہر کریں۔اور اپنے ہر عمل کو اتباع رسالت ﷺ میں ڈھال لیں۔دنیاوی زندگی میں ہم نے جو اعمال دکھاوے کے لیے اختیار کر رکھے ہیں وہ بارگاہ الٰہی میں مقبول نہ ہوں گے۔کیونکہ وہ نہاں خانہ دل میں موجود سب کچھ جانتا ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
انہوں نے کہا کہ آج ہم اس حد تک چلے گئے ہیں کہ ہمیں آخرت کی کوئی فکر نہیں ہے جہاں ہمیشہ رہنا ہے۔اس عارضی دنیا کے لیے ہم حلال وحرام کی تمیز کیے بغیر مال اکٹھا کرنے میں لگے ہیں جسے ہم نے چھوڑ کر جانا ہے۔اسی دوڑ میں ہم نے حقوق وفرائض کی تمیز ختم کر دی ہے۔معاشی اور معاشرتی زندگی ایسی ہوگئی ہے کہ جیسے ہم لوگ جنگل میں رہ رہے ہوں اسی وجہ سے ہم سب اس تکلیف سے گزر رہے ہیں
یاد رکھیں جس راہ پر ہم چل رہے ہیں اس کا انجام بہت بھیانک ہے۔ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اپنے آپ کو توبہ کی طرف لے آئیں۔اللہ کریم کو معاف کرنا محبوب ہے اللہ کریم ہمارے گناہ معاف فرمائیں۔

آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔

رپورٹ۔راجہ فیصل کیانی بیورو چیف پنجاب

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You