کالم/مضامین

*رفتارِ حکومت میں قید عوام*

*رفتارِ حکومت میں قید عوام*

تحریر : *تیمور عباس*

آج کے دور میں حکومتیں خود کو ترقی کی دوڑ میں سب سے آگے ثابت کرنے کے لیے رفتار کو کامیابی کا پیمانہ بنا چکی ہیں۔ منصوبوں کے افتتاح، اعلانات کی بھرمار اور فائلوں کی تیز تر گردش کو گڈ گورننس کا نام دیا جا رہا ہے، مگر اس تمام تیزی میں اگر کوئی چیز پیچھے رہ گئی ہے تو وہ ہے عام آدمی۔ عوام اس رفتار کا حصہ نہیں بلکہ اس کے بوجھ تلے دبتی ہوئی ایک خاموش اکثریت بن چکی ہے۔
حکومتی فیصلے کاغذوں پر تو بجلی کی رفتار سے ہوتے ہیں، مگر زمین پر ان کی بازگشت کمزور سنائی دیتی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل عوام کی زندگی کو سست روی کا شکار بنائے ہوئے ہیں، جبکہ حکومتی بیانیہ کامیابیوں کے تیز رفتار سفر سے باہر آنے کو تیار نہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ریاست کی گاڑی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، مگر عوام اس کے پیچھے گھسٹ رہے ہیں۔
قانون سازی کی رفتار ہو یا ترقیاتی منصوبوں کے دعوے، اکثر فیصلے عوامی مشاورت کے بغیر کیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً وہ پالیسیاں جنہیں عوامی فلاح کا نام دیا جاتا ہے، عوام ہی کے لیے سوالیہ نشان بن جاتی ہیں۔ حکومت کی رفتار میں ہم آہنگی کے بجائے ایک جبر سا محسوس ہوتا ہے، جہاں عام شہری کو حالات کے مطابق ڈھلنے پر مجبور کیا جاتا ہے، نہ کہ حالات کو شہری کے مطابق بنایا جائے۔
حقیقی ترقی وہ نہیں جو صرف پریس ریلیز اور سوشل میڈیا پوسٹس تک محدود ہو، بلکہ وہ ہے جو عام آدمی کی زندگی میں آسانی پیدا کرے۔ اگر حکومتی رفتار عوام کی سانسوں سے تیز ہو جائے تو یہ ترقی نہیں، ایک ایسی دوڑ ہے جس میں کمزور ہمیشہ پیچھے رہ جاتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت رفتار کے ساتھ سمت پر بھی غور کرے۔ ایسا نہ ہو کہ تیزی کے شوق میں عوامی اعتماد، شفافیت اور انصاف جیسے بنیادی ستون کچلے جائیں۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام کو رفتارِ حکومت میں قید کر دیا جائے، تو بالآخر یہی قید آواز بن کر ابھرتی ہے،اور پھر رفتار بھی اسے روک نہیں پاتی۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You