
راولپنڈی : ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس عبدالعزیز پر مشتمل دو رکنی بنچ نے امریکی نژاد خاتون وجیہہ فاروق سواتی کے اغوا و قتل کے مقدمہ میں ریمارکس دیئے ہیں
پراسیکیوشن نے اس اہم اور سنگین نوعیت کے مقدمہ میں کمزور پیروی کی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پراسیکیوشن ملزمان سے ملی ہوئی تھی عدالت نے مقتولہ کی وکیل کی بھی سرزنش کر تے ہوئے استفسار کیا کہ آپ کس حیثیت میں اور کس بنیاد پر عدالت میں پیش ہوتی ہیں آپ نے سزا یافتہ ملزمان کی سزاؤں میں اضافے اور3ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل دائر کیوں نہیں کی عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کوبھی مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ سنگین نوعیت کے فوجداری مقدمہ میں اتنی جلد ضمانت کا کوئی قانونی جوازاور گنجائش نہیں بنتی عدالت نے یہ ریمارکس وجیہہ سواتی قتل کیس میں سزا یافتہ مقتولہ کے سسرحریت اللہ کی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران جاری کئے عدالتی ریمارکس کے بعد درخواست گزار نے ضمانت کی درخواست واپس لے لی وجیہہ سواتی کے سسر حریت اللہ نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 426کے تحت عدالت میں دائر درخواست ضمانت میں موقف اختیار کیا تھا کہ ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کے فیصلے تک درخواست گزار کو ضمانت پر رہا کیا جائے گزشتہ روز سماعت کے موقع پرملزمان کی جانب سے طلعت زیدی ایڈووکیٹ اور مقتولہ کی جانب سے شبنم نواز ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئیں اس موقع پر ایف بی آئی کے مائیک جیٹی (Mike Jette)،مسٹر مارک(Mr. Marc) اورنوید خان پر مشتمل 3 رکنی ٹیم بھی کمرہ عدالت میں موجود تھی دوران سماعت عدالت نے پراسیکیوشن کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پراسیکیوشن نے اس کیس کی انتہائی کمزور پیروی کی جس سے محسوس ہوتا ہے کہ پراسیکیوشن ملزمان سے ملی ہوئی تھی عدالت نے مقتولہ کی وکیل شبنم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ آپ کس حیثیت میں اور کس بنیاد پر عدالت میں پیش ہوتی ہیں کیا آپ نے دوران ٹرائل یہ نہیں دیکھا کہ کیا ہورہا ہے اور کیا ہونا چاہئے تھا جس پر مقتولہ کی وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ٹرائل کے دوران انہوں نے کیس کی پیروی نہیں کی بلکہ وہ ایک گواہ کے طور پر پیش ہوتی تھیں جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ کوئی جواز نہیں ہے آپ کو نظر رکھنی چاہئے تھی درخواست گزار کو صرف ثبوت مٹانے کے الزام پر سزا دی گئی اغوا اور قتل مٰن اس کے کردار کو مدنظر ہی نہیں رکھا گیا جس پر مقتولہ کی وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مجھے صرف ایک گواہ کی حیثیت حاصل تھی جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ عدالت پھر درخواست گزار کو کیسے ضمانت نہ دے جس پر مقتولہ کی وکیل نے کہا کہ یہ کیس محض شہادت چھپانے کا نہیں بلکہ درخواست گزار اغوا اور قتل کی تمام منصوبہ بندی میں شامل تھا اگر اسے ضمانت پر ہا کیا گیا تو یہ نہ صرف بیرون ملک فرار ہو جائے گا بلکہ باہر نکل کر مزید خطرناک ہو جائے گا اس تناظر میں درخواست گزار کسی طور بھی ضمانت کا مستحق نہیں اور ویسے بھی ابھی ٹرائل مکمل ہوئے 2ماہ گزرے ہیں اس موقع پر عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیس کے ریکارڈ کے مطابق عدالت کس قانون کے تحت درخواست گزار کی ضمانت منظور کرے جبکہ مقتولہ کی نعش بھی درخواست گزار کے ذریعے برآمد ہوئی درخواست گزار صرف وقوعہ کے ثبوت مٹانے میں ملوث نہیں بلکہ ریکارڈ کے مطابق سارے واقعہ کا ماسٹر مائنڈ ہے اور اس کا مرکزی کردار ہے کیس کی نوعیت اور موجودہ صورتحال میں جب کہ ٹرائل مکمل ہوئے بھی کوئی زیادہ وقت نہیں گزرا ملزم کی ضمانت کیسے منظور کی جا سکتی ہے جس پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے درخواست ضمانت واپس لے لی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی نے 12 نومبر 2022 کو وجیہہ سواتی قتل کیس میں نامزد مرکزی ملزم و مقتولہ کے شوہر کوجرم ثابت ہونے پر3مختلف دفعات کے تحت سزائے موت، مجموعی طور پر17سال قید اور7لاکھ روپے ہرجانے کی سزا سنائی تھی عدالت نے مقتولہ کے سسر حریت اللہ اور اس کے ڈرائیور سلطان احمد کو7،7سال قید اور 1لاکھ روپے فی کس ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ عدالت نے مقدمہ میں نامزد گھریلو ملازمین یوسف مسیح اسکی اہلیہ زاہدہ یوسف اور رشید احمد پر مشتمل 3دیگر ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا ہے تھا یاد رہے کہ وجیہہ سواتی گزشتہ سال 16 اکتوبر کو پاکستان آنے کے بعد پراسرارطور پر لاپتہ ہو گئی تھیں تھانہ مورگاہ پولیس نے وجیہہ سواتی کے اغوا و قتل کے الزام میں گزشتہ سال 2 نومبر کو مغویہ کے بیٹے عبداللہ مہدی کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 365، 302، 201 اور 34کے تحت مقدمہ نمبر577درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ اس کے شوہر رضوان حبیب نے اسے جائیداد کی خاطر اغوا کیا اور بعد ازاں 17اکتوبرکو قتل کر دیاتھا وقوعہ کے2 ماہ بعد گزشتہ سال 22دسمبر کو پولیس نے مقتولہ کے شوہر رضوان حبیب کو باضابطہ طور پر گرفتار کیا تھا۔
رپورٹ : افتخار خٹک سے



