راولپنڈی : سینئر سول جج (فیملی ڈویژن)راجہ فیصل رشید نے معروف فلم سٹار وینا ملک کے بچوں کی حوالگی کیس میں اپنے گواہ اوربچوں کو عدالت پیش نہ کرنے پر مجموعی طور پر10ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے
اوروینا ملک کی عدم حاضری پر وارننگ دی ہے کہ آئندہ تاریخ پر بھی پیش نہ ہونے پر عدالت وینا ملک کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دے گی عدالت نے مزید سماعت کاروائی کے لئے سماعت4دسمبر تک ملتوی کر دی ہے گزشتہ روز سماعت کے موقع پر وینا ملک کے شوہر اسد خٹک عدالت میں موجود تھے جنہوں نے اپنا جواب عدالت میں داخل کروا دیا جبکہ وینا ملک نے اپنے گواہ پیش کرنا تھے عدالت نے بچوں بارے استفسار کیا تو وینا ملک کی وکیل نے عدالت میں درخواست دی کہ بچوں کی بیماری کی وجہ سے انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکا اور یہی وجہ ہے کہ وینا ملک خود بھی عدالت حاضر نہیں ہو سکیں جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے گواہ پیش نہ کرنے اور بچوں کو عدالت نہ لانے پر5/5ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا جبکہ وینا ملک کے حاضر نہ ہونے پر سماعت4دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ اگر وہ آئندہ تاریخ پر بھی عدالت پیش نہ ہوئیں تو عدالت وارنٹ جاری کر دے گی عدالت نے وینا ملک کی وکیل کو بھی آئندہ تاریخ پر جواب داخل کرانے کی ہدائیت کی ہے یاد رہے کہ زاہدہ پروین عرف وینا ملک کے سابق شوہر اسد بشیر خٹک نے 7سالہ ابرام خان اور6سالہ امل خان کی حوالگی کا کیس دائر کر رکھا ہے دریں اثنا سماعت کے بعد احاطہ عدالت میں گفتگو کرتے ہوئے وینا ملک کی وکیل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وینا ملک کیس میں ان کے شوہر نے اپنا جواب عدالت میں داخل کروادیا ہے آئندہ تاریخ پر ہم وینا ملک کے وکیل کا جواب داخل کروائیں گے انہوں نے کہا کہ بے بنیاد الزامات کے ساتھ میری موکلہ کی شخصیت اور ساکھ کو متاثر کیا جارہا ہے آج وینا ملک کی والدہ بھی عدالت میں پیش ہوئیں تھیں آئندہ تاریخ پر ہم اپنا جواب بھی داخل کروا دیں گے کیونکہ بچوں کے بیمار ہونے کے باعث وینا ملک اور ان کے بچے عدالت پیش نہیں ہو سکے وینا ملک کے شوہر اسد خٹک نے کہا کہ عدالتی تاریخ کے باعث میں تو آج بھی عدالت میں موجود ہوں لیکن وینا ملک بچوں کو لے کر پیش نہیں ہو ئیں جبکہ انہوں نے اپنے گواہ بھی پیش کرنا تھے جس پر عدالت نے گواہ پیش نہ کرنے پر وینا ملک کو5ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا جبکہ بچوں کو پیش نہ کرنے پر بھی عدالت نے5ہزار روپے جرمانہ کر دیا ہے اسی طرح عدالت نے یہ بھی وارننگ دی ہے کہ اگر آئندہ تاریخ پر وہ بچوں کے ہمراہ پیش نہ ہوئیں تو وارنٹ گرفتاری جاری کئے جائیں گے انہوں نے کہا کہ۰ اگر بچے بیمار ہیں تو عدالت اس کو جرمانہ یا وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی کاروائی نہ کرتی اسی طرح وینا ملک کا الزام ہے کہ مجھے پیسے چاہئیں پیسے مجھے نہیں اس محترمہ کو چاہئیں مجھے تو اس سے 2لاکھ40ہزار روپے فی بچہ ملنے چاہئیں سچائی کا فیصلہ تو عدالت نے کرنا ہے میں تو انصاف کے حصول، اپنے بچوں اور ان کے بہتر مستقبل کے لئے عدالت آیا ہوں اور اپنے بچوں کے لئے قانونی جنگ لڑتا رہوں گا مجھے پتہ ہے کہ میرے بچے کس اذیت میں ہیں اور وہ کتنا مجھے مس کرتے ہیں اڑھائی سال ہو گئے یہ دبئی سے بچوں کو اغوا کر کے لائی ہے اگر دبئی کی عدالت نے اس کے حق میں فیصلہ دیا ہے تو یہ دبئی واپس کیوں نہیں جاتی اس سے پوچھا جائے کہ آخری دفعہ دبئی کب گئی جب سے بچوں کو دبئی سے اغوا کر کے لائی ہے دبئی تو اس کا انتظار کر رہا ہے کہ یہ جیسے ہی دبئی یا کسی عرب ملک میں جائے تو اسے گرفتار کر لیا جائے گا سچائی سامنے لانا میڈیا کی ذمہ داری ہے وینا ملک جو بھی جھوٹ بولتی ہے وہ اس کی اپنی طرف سے ہے تمام شواہد عدالت میں موجود ہیں۔
راولپنڈی : افتخار خٹک



