دل کے بند وال کھولنے کیلے ذکر اللہ ھو کثرت سے کیا کریں خواجہ محمد یوسف

دل کے بند وال کھولنے کیلے ذکر اللہ ھو کثرت سے کیا کریں خواجہ محمد یوسف
حضرت بلال حبشی پر اس کا سردار اس طرح ظلم کرتا تھا کہ انسانیت شرما جائے لیکن بلال حبشی کی زبان پر اللہ اللہ ہی ہوتا تھا



دعوت ذکر و فکر کے تحت سچل گوٹھ میں عظیم الشان محفل میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا انعقاد سیکڑوں افراد کی شرکت
کراچی
(رپورٹ:عاصم ارائیں جہلمی )
دل کے بند وال کھولنے کیلے ذکر اللہ ھو کثرت سے کیا کریں تفصیلات کے مطابق دعوت ذکر و فکر کے تحت سچل گوٹھ میں عظیم الشان محفل میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا انعقاد کیا گیا جس میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی محفل میلاد صلی اللہ علیہ وسلم میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جنرل سکریٹری سینیٹر وقار مہندی کی خصوصی شرکت محفل میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے کیا گیا جس کے بعد عالم اسلام کے مشہور نعت خواں حضرات نے آقا کونین صلی اللہ علیہ وسلم پر ہدیہ نعت شریف پیش کیا محفل میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے امیر دعوت ذکر و فکر پیر طریقت رھبر شریعت عالمی مبلغ اسلام حضرت خواجہ محمد یوسف نقشبدی مجددی مہروی نے فرما ذکر اللہ ھو کثرت سے کیا کرو یہ دل کے بند وال کھول دیتا ہے انہوں نے فرمایا میں دعوے سے کہتا ہوں اگر کوئی شخص دل کا مریض ہے اور وہ کثرت ذکر اللہ ہو کیا کریں دل کے بند وال کھل جائے گئے اللہ کا ذکر مردہ دلوں میں جان ڈال دیتا ہے ہم میں سے کوئی ایسا شخص نہیں جس کی شان حضرت بلال حبشی سے ملتی ہو حضرت بلال حبشی پر اس کا سردار اتنے مظالم کرتا تھا جس کو دیکھ کر انسانیت شرما جاتی تھی لیکن حضرت بلال حبشی کی زبان پر صرف اور صرف اللہ اللہ کا ذکر ہوتا تھا ہمیں ذکر خدا کثرت سے کرنا چاہیں ہم خوش نصیب ہوگے کوئی شخص ہمیں ذکر خدا میں پاگل کہیں دنیا کی ہر جس فانی ہے ہر جس نے ختم ہو جانا ہے بس اور بس اللہ کی ذات نے ہمیشہ رہنا ہے اللہ کی شان دیکھے صحابی رسول حضرت حنظلہ کی شادی ہوئی شادی کی پہلی رات ہے مدینہ کی گلیوں میں اعلان ہو گیا کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کا حکم دے دیا ہے جلدی سے جہاد کیلے نکلوں حضرت حنظلہ غسل کے بغیر ہی جہاد کیلے نکل گے اور لڑتے لڑتے جام شہادت نوش فرمائی اللہ تعالی کو حضرت حنظلہ کی یہ ادا بہت پسند آئی اور فرشتوں سے حضرت حنظلہ کو غسل دلوایا حضرت علی ایک شخص کو جنگ میں قتل کر رہے تھے اس شخص نے حضرت علی کے چہرے پر تھوک دیا حضرت علی نے اس شخص کو چھوڑ دیا اور وہاں سے چل پڑے اس شخص نے حضرت علی سے پوچھا اے علی آپ نے مجھے قتل کیوں نہیں کیا تو حضرت علی نے فرما پہلی میں تمیں مشرک ہونے پر قتل کر رہا تھا اور اب اس لیے نہیں قتل کر رہا کیونکہ تم نے مجھ پر تھوکا ہے تم کل قیامت کے دن یہ نہ بول دو کہ تم نے اپنا بدلہ لینے کیلے مجھے قتل کیا ہے میں نے اس لیے تمھارا قتل نہیں کیا اس ادا کو دیکھ کر اس مشرک نے فوری کلمہ پڑھ لیا اور مسلمان ہو گیا ایک دوسرے واقع میں حضرت علی نے اپنے ملازم کو کہا کہ بازار سے دو سوٹ لے کر آؤں ایک اپنے لیے اور ایک میرے لیے وہ ملازم بازار گیا اور دو سوٹ لے کر آیا جس میں حضرت علی کیلے اچھے والا اور دوسرا اپنے لیے نارمل والا جب حضرت علی نے ان دونوں سوٹوں کو دیکھا تو اچھے والا ملاز کو دے دیا اور نارمل والا خود لے لیا آپ نے فرما ہمارے بزرگ تو اس طرح کے ہیں آپ نے مزید فرما کہ آپ لوگوں میں کوئی شخص اگر اچھی پوسٹ پر ہے تو دوسروں کو نوکری پر لگوانے کی کوشش کیا کریں تاکہ کسی دوسرے کے گھر کا وسیلہ ہو سکے ساری دنیا پر حکومت کرنے والا سکندر مرنے کے بعد خالی ہاتھ اس دنیا سے چلا گیا کیا پتہ ہم جن کیلے سارہ دن چھوٹ بولتے ہیں کرپشن کرتے ہیں انہوں نے جنازے پر بھی آنا ہے یا نہیں آجکل لوگوں نے جنازوں میں شرکت کرنا چھوڑ دیا ہے آپ لوگوں جنازوں میں شرکت کیا کرو زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے محفل کے اختتام پر ہدیہ درود سلام پیش کیا گیا اور امیر دعوت و ذکر فکر پیر طریقت رھبر شریعت عالمی مبلغ اسلام حضرت خواجہ محمد یوسف نقشبدی مجددی مہروی نے پاکستان عالم اسلام اور فلسطین کیلے خصوصی دعا فرمائی



