حماس کے رہنما ڈاکٹر ناجی ظہیرالسرمی کی کراچی پریس کلب آمد

*حماس کے رہنما ڈاکٹر ناجی ظہیرالسرمی کی کراچی پریس کلب آمد*
کراچی : (اسٹاف رپورٹ)

حماس کے رہنما ڈاکٹر ناجی ظہیرالسرمی کی پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدرفیصل ندیم ،احمدندیم اعوان کے ہمراہ کراچی پریس کلب آمد۔کراچی پریس کلب میں صحافیوں سے ملاقات اور غزہ کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔پریس کلب کے سیکرٹری شعیب احمدنے ممبران کے ہمراہ ان کا استقبال کیا۔گلدستہ پیش کیا اور اجرک پہنائی ۔قائم مقام صدررشید میمن سمیت گورننگ باڈی سمیت سینئر صحافی موجود تھے۔اس موقع پرحماس رہنماڈاکٹر ظہیر ناجی السرمی نے غزہ کی صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے کراچی پریس کلب اور صحافیوں کا اہل غزہ کی جانب سے شکریہ ادا کرتا ہوں ۔صحافی اور صحافت بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حالات کو بہتر انداز سے اور جو حقیقت پر مبنی ہے ان کو پوری دنیا میں نشر کرتے ہیں۔ پاکستانی صحافی اور پاکستان کےمیڈیا سے تعلق رکھنے والے لوگ چاہے وہ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا اسی طرح فلسطین کے لیے کام کر رہے ہیں جیسا کہ کوئی فلسطینی صحافی غزہ میں فلسطین کی آواز بنا ہوا ہے۔بدقسمتی سےاس وقت غزہ میں سینکڑوں صحافی شہید ہوچکے ہیں ۔اور بےشمارڈاکٹرحضرات بھی غزہ میں اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بن چکے ہیں ۔اسرائیل نے اہل فلسطین پرظلم و بربریت کی انتہا کردی ہے ۔معصوم بچے اور خواتین جن کا کوئی گناہ نہیں انہیں نشانہ بنا رہا ہے۔فلسطینی عوام کے گھر تباہ کردیے۔ 100 دن سے زیادہ جو کچھ ہو چکا ہے یقینا دنیا اس کو دیکھ چکی ہے اصل جو حقائق اس سے بہت زیادہ ہیں۔اس وقت تک تقریبا ایک لاکھ 60 ہزار سے زیادہ لوگ شہید ہو چکے ہیں۔ جن میں 12 ہزار بچے ہیں ۔اور اسی طرح خواتین ہیں۔درجنوں ہسپتال تھے جوبالکل ہی ختم کر دیے گئے ہیں ۔غزہ کی پٹی کو بلکل تباہ کردیا گیا ہے۔اگر ان کو آسان لفظوں میں کہا جائے کہ اسے زمین سے ختم کر دیاگیا ہے۔ایک ایک خاندان کے درجنوں افراد شہید ہو چکے ہیں ۔فلسطینیوں پر فاسفورس کا بےدریغ استعمال کیاجارہا ہے۔ جو عالمی سطح پر بھی بین ہیں۔صیہونی اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں ۔ اسرائیل ہمارے جائز مطالبات بھی ماننے کو تیار نہیں ۔ یہاں تک کہ جو تنظیمیں اور ادارے خوراک پہچانا چاہتے ہیں ۔ان کو بھی داخل نہیں ہونے دیا جا رہا ۔ہلال احمر جو عالمی سطح پر بڑی تنظیم ہے اس کو بھی منع کردیاگیاہے۔کچھ پاکستان کی تنظیمیں بھی ہیں جنہیں روکا جارہا ہے۔ سات اکتوبر کے بعد جہاں روزنہ پانچ ہزار ٹرک جاتے تھے اب وہاں صرف 100ٹرک بھی مشکل سے جاتے ہیں۔یہ وہاں کےلیے کافی نہیں ہیں۔ لوگ ہم سے سوال کرتے ہیں کہ کیوں آپ اسرائیل کے خلاف کھڑے ہوئے ۔ہم اس لیے کھڑے ہوئے ہیں کہ ہم آزادی کے ساتھ رہ سکیں اسرائیل نے ہم سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔ ہزاروں سے زائد فلسطینیوں کو 45 سال سے قید کر رکھا ہے۔ان کا اگلا ہدف مسجد اقصی کو گرانا چاہتے ہیں فلسطینی مسلسل اپنی جانوں کا نظرانہ صرف مسجد اقصٰی کو بچانے کے لیے پیش کر رہے ہیں۔فلسطینی شوق شہادت کے جذبے سے سرشار ہیں ایک شہید ہے تو اس کے پیچھے دوسرا شہید ہونے کے لیے تیار ہے اور پھر تیسرا ۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بھی اس جنگ میں اسرائیل کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔اس جنگ میں ہزاروں صیہونیوں کوواصل جہنم کیا ہے۔ اسی طرح ان کی معیشت کو بھی نقصان ہوا ہے۔ہم اس پیغام کے ساتھ شکریہ بھی ادا کرتے ہیں کہ آپ ہماری مدد کے لیے کھڑے ہیں اورہمیں یقین ہے کہ کھڑے رہیں گے۔جو تنظیمیں اس وقت کام کررہے ہیں انہیں کام کو بڑھانا چاہیے کام رکنا نہیں چاہیے۔مزید زیادہ سے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے اہل کراچی شکریہ بھی ادا کیا ۔کہ ان کا پیغام ہرطرح سے عام کیاجائے۔اسرائیل جنگ بندی کرے۔اور اہل غزہ کو جینے کا حق دے۔اقوام متحدہ کو خطوط لکھیں اور جہاں ممکن ہو اپنا کردار ادا کریں ۔کراچی پریس کلب کی کوششوں کو سراہتے ہیں ۔ حکومت پاکستان ،پاکستانی فلاحی تنظیمیں اور پاکستانی صحافی ان کی خدمات جو خاص طور پر انہوں نے فلسطین سےکی ہیں ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں



