سندھ

جو قوم اپنے ہیروز کو بھول جائے، وہ تاریخ کے اندھیروں میں گم ہو جاتی

"خونِ شہداء سے روشن ہے امن کی راہ”

تحریر: انور عادل خانزادہ
"جو قوم اپنے ہیروز کو بھول جائے، وہ تاریخ کے اندھیروں میں گم ہو جاتی ہے۔”

ہم اکثر سڑکوں پر کھڑے ان جوانوں کو دیکھ کر بے نیازی سے گزر جاتے ہیں جو سورج کی تپش، بارش کی بوندوں، اور سردی کی شدت میں ڈیوٹی پر معمور ہوتے ہیں۔ مگر ہم یہ نہیں سوچتے کہ یہی جوان، جب خطرہ منڈلاتا ہے، تو ہمیں بچانے کے لیے اپنے سینے پر گولیاں کھاتے ہیں۔ ان میں سے کئی شہید ہو جاتے ہیں — اور یوں وہ تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن جاتے ہیں۔

پاکستان پولیس کے شہداء صرف سرکاری اعداد و شمار نہیں، بلکہ وہ زندہ داستانیں ہیں جنہوں نے اپنی جان دے کر ہمیں جینے کا حق دیا۔
پولیس فورس میں کام کرنے والے افراد نہ صرف قانون نافذ کرتے ہیں بلکہ وہ دشمن کے سامنے پہلی دیوار بھی بنتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں، فرقہ وارانہ فسادات میں، یا ڈاکوؤں کے نرغے میں، یہ جوان سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
شہداء کے واقعات قوم کا سرمایہ ھیں
یہ وہ چراغ ہیں جنہوں نے اپنا آپ جلایا تاکہ ہم روشنی میں رہ سکیں۔–

شہداء کے اہلِ خانہ کی قربانی بھی کم نہیں۔ ایک ماں جو بیٹے کے یونیفارم کو چوم کر صبر کرتی ہے، ایک بیوی جو بچوں کو باپ کے خواب سناتی ہے، یا ایک بیٹا جو فخر سے کہتا ہے: "میرے ابو پولیس میں شہید ہوئے” — یہ سب ایک جذبہ، ایک قربانی، اور ایک تاریخ کی علامت ہے
"شہید کبھی مرتا نہیں — وہ زندہ رہتا ہے ان دلوں میں جو اس کی قربانی کو مانتے ہیں۔”پولیس کے شہداء ہماری سلامتی کی قیمت چکانے والے خاموش سپاہی ہیں۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You