جامعہ کراچی: 63 طلباوطالبات میں ایک کروڑ44 لاکھ نوے ہزار کی اسکالرشپ کے چیکس تقسیم

*جامعہ کراچی: 63 طلباوطالبات میں ایک کروڑ44 لاکھ نوے ہزار کی اسکالرشپ کے چیکس تقسیم*
*تعلیم وتحقیق پر صرف ہونے والی رقم اخراجات نہیں بلکہ سرمایہ کاری ہے اور تعلیم سے بہرہ مند اقوام دنیا پر راج کررہی ہیں۔ڈاکٹر خالد عراقی*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) اسٹوڈنٹس فائنینشل ایڈ آفس جامعہ کراچی کے زیر اہتمام جمعہ کے روز سندھ ایچ ای سی انڈیجینس اسکالرشپ سنہ دو ہزار تیئس اور دو ہزار چوبیس عیسوی برائے ایم فل پی ایچ ڈی اسٹوڈنٹس کی تقسیم کی تقریب چائنیز ٹیچرز میموریل آڈیٹوریم جامعہ کراچی میں منعقد ہوئی، جس میں تریسٹھ طلباوطالبات میں بدست شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی ایک کروڑ چوالیس لاکھ نوے ہزار روپے کے چیکس تقسیم کئے گئے اور ہر طالبعلم کو دو لاکھ تیس ہزار روپے کا چیک دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق کلیہ علوم کے پینتیس طلباوطالبات جن میں بائیس ایم فل جبکہ تیرہ پی ایچ ڈی، کلیہ فنون و سماجی علوم کے تیرہ طلباوطالبات جس میں گیارہ ایم فل اور دو پی ایچ ڈی، کلیہ علم الادویہ کے پانچ جن میں دو ایم فل اور تین پی ایچ ڈی جبکہ کلیہ معارف اسلامیہ کے سات طلباوطالبات جن میں چھ ایم فل اور ایک پیچ ڈی شامل ہیں۔ اسی طرح کلیہ نظمیات و انتظامی علوم کے تین طلبہ جن میں دو ایم فل اور ایک پی ایچ ڈی شامل ہیں کو اسکالرشپ کے چیک تفویض کئے گئے۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ ذہین اور باصلاحیت طلبہ قوم کا سرمایہ ہیں، اسکالر شپ سے صرف طلبہ کی حوصلہ افزائی نہیں بلکہ ان میں تدریس و تحقیق کا جذبہ مزید پروان چڑھتا ہے۔ بدقسمتی سے تعلیم پاکستانی حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں، تعلیم و تحقیق پر صرف ہونے والی رقم اخراجات نہیں بلکہ سرمایہ کاری ہے اور جن اقوام نے تعلیم و تحقیق پر سرمایہ کاری کی ہے آج دنیا ان کی طرف دیکھتی ہے اور تعلیم سے بہرہ مند اقوام دنیا پر راج کررہی ہیں۔
ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ کردار کی تعمیر کے بغیر تعلیم بے مقصد ہے، بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جھوٹ بولنا عام اور دھوکہ دہی کو آرٹ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔ ہمیں دنیا کا احتساب کرنے کی فکر کے بجائے اپنے آپ سے آغاز کرنا چاہیئے۔ سندھ ایچ ای سی کی جانب سے طلبہ کی مالی معاونت اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے اسکالرشپ کی فراہمی لائق تحسین اور قابل تقلید ہے۔ قبل ازیں انچارج اسٹوڈنٹس فائنینشل ایڈ آفس جامعہ کراچی ڈاکٹر ذی اسماء حنیف خان نے اسکالرشپ کے حصول کے طریقہ کار اور اس سلسلے میں ہونے والی جانچ پڑتال اور دیگر تفصیلات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شیخ الجامعہ کی خصوصی ہدایات اور ذاتی دلچسپی کی بناء پر مذکورہ اسکالر شپ کا بروقت اجراء ممکن ہوسکا ہے۔ تقریب میں اسکالرشپ ایوارڈ کمیٹی کے کنوینر پروفیسر ڈاکٹر فیاض وید، رئیس کلیہ علوم پروفیسر ڈاکٹر مسرت جہاں یوسف، رئیس کلیہ فنون و سماجی علوم پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم، مشیر امور طلبہ ڈاکٹر نوشین رضا، مختلف شعبہ جات کے صدور اور اساتذہ نے بھی شرکت کی۔



