جامعہ کراچی: کبجی کے زیر اہتمام آگاہی سیمینار بعنوان:زرعی حیاتیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی

*جامعہ کراچی: کبجی کے زیر اہتمام آگاہی سیمینار بعنوان:زرعی حیاتیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی:محفوظ ماحول کی طرف ایک قدم*
*ہماری پالیسیاں تحقیق پر مبنی نہیں ہوتیں،من حیث القو م ہمیں حقائق اور تلخ حقائق کو قبول کرنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر خالد عراقی*
*پاکستان کی آبادی بڑھنے کی شرح جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے جسے روکنا انتہائی ناگزیر ہوچکاہے۔ڈاکٹر شاہد منصور*
کراچی (رپورٹ : جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ آبادی میں اضافہ روکنا ہمارے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے، پاکستان کی آبادی کی سالانہ شرح تین اعشاریہ پانچ فیصد ہے جو خطرناک ہے اور اس گروتھ ریٹ کے ساتھ ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ ہر ملک نے اپنی آبادی کنٹرول کرنے کے لئے اپنا ماڈل بنایا ہے۔ آبادی روکنے کے لئے ہمیں آگاہی اور شعور فراہم کرنیکی ضرورت ہے۔ تعلیم کی کمی آبادی کے بڑھنے کی بڑی وجہ ہے، ہمیں اپنے لوگوں کے اس بارے میں آگاہی دینی ہوگی۔ کسی بھی ملک کے پاس لامحدود وسائل نہیں ہیں، سب کو محدود وسائل کے اندر ہی ترقی کرنی ہے۔ پالیسی بنانا اہم نہیں بلکہ اس کو لوگوں تک پہنچانا بھی اہم ہے تاکہ اس پر گراس روٹ پر عملدرآمد ہوسکے۔ ہماری پالیسیاں تحقیق پر مبنی نہیں ہوتیں، من حیث القوم ہمیں حقائق اور تلخ حقائق کو قبول کرنے کی ضرورت ہے۔ آج سے تیس، چالیس سال قبل ہم موسمیاتی تبدیلیوں کو مغربی پروپیگنڈ اقراردے نظرانداز کرتے رہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈاکٹر اے کیو خان انسٹی ٹیوٹ آف بائیو ٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ (کبجی) جامعہ کراچی کے زیر اہتمام انسٹی ٹیوٹ ہذا کی سماعت گاہ میں منعقدہ آگاہی سیمینار بعنوان:”زرعی حیاتیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی:محفوظ ماحول کی طرف ایک قدم“ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ موجودہ دور مقابلے کا نہیں بلکہ اشتراک اور ہم آہنگی کا ہے، یورپ نے جنگیں ترک کرکے باہمی اشتراک کا راستہ اختیار کیا اور آج یورپی یونین دنیا کی ایک بڑی معاشی طاقت ہے۔ دنیا تیزی سے ہم آہنگی کی طرف جارہی ہے، ہمیں بھی مقابلے کے بجائے ہم آہنگی اور مشترکہ جدوجہد پر فوکس کرنا ہوگا۔ موسمیاتی تبدیلی ایک بڑا مسئلہ ہے، اس سال بھی سیلاب کا خطرہ ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ تعلیمی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کرے کیونکہ یہ ایک خرچہ نہیں بلکہ ملک کے مستقبل کے لئے ایک سرمایہ کاری ہے جو ملک کی ترقی کی ضامن بن سکتی ہے۔ انٹرنیشنل سینٹر فارکیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز جامعہ کراچی کے سینئر ایڈوائزر پروفیسر ڈاکٹر شاہد منصور نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی برآمدات میں زراعت کا بڑا کردار ہے، یہ سال ہمارا برآمدات کے لئے بہترین سال رہا اور ہم نے 3.5 فیصد گروتھ حاصل کی جس میں ایگریکلچر سرفہرست رہا۔ ہم نے چاولوں کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ کیا اور نئی چیزیں بھی برآمد کیں۔ پاکستان میں نیوٹریشن کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے 50 فیصد آبادی کو نیوٹریشنل سے بھرپور غذا کی کمی کا سامنا ہے۔ پاکستان کی آبادی بڑھنے کی شرح جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے جسے روکنا انتہائی ناگزیر ہوچکا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے پاکستان اور کراچی سب سے زیادہ متاثر ہورہا ہے جہاں گزشتہ ایک ماہ سے شدید ہیٹ ویو ہے۔ غذائی قلت کا مسئلہ ایک عالمگیر حیثیت رکھتا ہے اور تمام ممالک اور اقوام متحدہ بھی اس کے تدارک کے لئے اقدامات لے رہے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد منصور نے مزید کہا کہ تین بڑے امراض جن میں ایڈز، ملیریا اور تپ دق شامل ہیں اس سے زیادہ افراد بھوک کی وجہ سے مررہے ہیں۔ پاکستان بائیولوجیکل سیفٹی ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر سعید خان نے اپنی پریزنٹیشن پیش کرتے ہوئے کہا کہ تیزی سے تبدیل ہوتی موسمیاتی صورتحال نے پوری دنیا اور بالخصوص ایشیائی ممالک کو زیادہ متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کیساتھ ساتھ مختلف امراض میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔بیماریوں پر قابو پانے اور اس سے بچنے کے لئے آگاہی ناگزیر ہے۔ صحت ہمارے بنیادی حقوق میں شامل ہی نہیں جو لمحہ فکریہ ہے۔ ڈائریکٹر جنرل سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ ڈاکٹر نذیر حسین کلہوڑو نے اپنی پریزنٹیشن میں جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والے وائرس، اسکی وجوہات، اس سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کرتے کہا کہ پاکستان دنیا کا واحد خطہ ہے جس کا سب سے کمزور قانون غذا کے حوالے سے ہے، اس میں بہتری کے لئے سیاستدانوں اور پالیسی سازوں پر عوامی دباؤ ضروری ہے۔ قبل ازیں کبجی جامعہ کراچی کی پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ گیلانی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ سیمینار میں مختلف جامعات کے طلباوطالبات نے شرکت اور اس طرح کے آگاہی سیمینارز کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔




