سندھ

جامعہ کراچی میں دو روزہ سیمینار بعنوان”ایک جامع اور پائیدار مستقبل کیلئے معذور افراد کی صلاحیتوں

*جامعہ کراچی میں دو روزہ سیمینار بعنوان”ایک جامع اور پائیدار مستقبل کیلئے معذور افراد کی صلاحیتوں کو بڑھانا“کی افتتاحی تقریب*

*جامعہ کراچی کسی بھی قسم کی معذوری کے شکار طلبہ کو مکمل فری شپ کی سہولت فراہم کررہی ہے۔ وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر خالد عراقی*

*ہمیں خصوصی افراد کی حوصلہ افزائی اور انہیں برابری کی بنیاد پر مواقع فراہم کرنے چاہیئے۔ ڈاکٹر خالد عراقی*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ ہمیں خصوصی افراد اسپیشل پرسنز سے انسانی ہمدردی کرنے کے بجائے انکی حوصلہ افزائی کرنے اور ایک عام شہری کی طرح دیکھنے، سمجھنے اور برابری کی بنیاد پر مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں خصوصی افراد کے درست اعداد و شمار ناگزیر ہیں کیونکہ درست اعداد شمار کی صورت میں ہی بہتر اور دور رس نتائج کے حامل فیصلے کئے جاسکتے ہیں۔اگر خصوصی افراد کیلئے سرکاری ملازمتوں میں مختص دو فیصد کوٹے پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تو خصوصی افراد کی ایک بڑی تعداد برسر روزگار اور معاشرے کے کارآمد شہری بن سکتے ہیں۔ خصوصی افراد میں صلاحیتوں کو بہتر اور پروان چڑھانے کیساتھ ساتھ ان میں یہ اعتماد پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ آپ بھی دیگر افراد کی طرح معاشرے کیلئے کارآمد اور اسکی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شعبہ خصوصی تعلیم جامعہ کراچی کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ سیمینار بعنوان:”ایک جامع اور پائیدار مستقبل کیلئے معذور افراد کی صلاحیتوں کو بڑھانا“کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ اس بات کو اجاگر کیا جائے کہ اس معاشرے میں رہنے والے تمام افراد کو یکساں حقوق حاصل ہیں اور اس حوالے سے آگاہی فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو خصوصی افراد کے بنیادی حقوق فراہم کرنے کیلئے ایک ایسا نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے جس کی بدولت معذور افراد بھی عام افراد کی طرح اپنے بنیادی حقوق حاصل کرسکیں۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے بتایا کہ جامعہ کراچی خصوصی افراد کسی بھی قسم کی معذوری کے شکار افراد کو مکمل فری شپ کی سہولت فراہم کررہی ہے۔ عثمان انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر ولی الدین نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں خصوصی افراد کو خاندان کی طرف سے بھی خاندان کے دیگر افراد کے مقابلے میں نظر انداز اور مواقع فراہم نہیں کئے جاتے جو ایک بڑا چیلنج اور لمحہ فکریہ ہے۔ اس حوالے سے آگاہی اور بالخصوص والدین میں آگاہی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ خصوصی افراد کو احساس کمتری کا شکار ہونے کے بجائے ایک کارآمد شہری بنایاجاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی تقریباً ڈیڑھ کروڑ آبادی کسی نہ کسی قسم کی معذوری کا شکار ہے جو ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ ہمیں اس حوالے سے آگاہی کو فروغ دینے اور خاندان کی سطح پر خصوصی افراد کی حوصلہ افزائی اور انہیں معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کیلئے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ خاندانی سپورٹ اس کی صلاحیتوں میں اضافے کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسیاں موجود ہونے کے باوجود اس پر عملدرآمد کو یقینی نہیں بنایا جاتا، ہمیں حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے اور خصوصی افراد کی بہتری کیلئے مزید عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور اس کیلئے تمام معذور افراد کی تنظیموں کا متحد ہونا ناگزیر ہے۔ صدر شعبہ خصوصی تعلیم جامعہ کراچی ڈاکٹر حمیرا عزیز نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جو ادارے معذور افراد کی تعلیم و تربیت میں حصہ لے رہے ہیں، ان کو چاہئے کہ وہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم فراہم کریں تاکہ انہیں ملازمت، بالخصوص بہتر ملازمت کے حصول میں کوئی دشواری نہ ہو۔ تعلیمی اور پیشہ ورانہ تربیت کے اداروں کو جاب مارکیٹ کیساتھ اپنے روابط کو مضبوط کرنا چاہئے۔ یہ یقینی بنانا بہت ضروری ہے کہ ہمارے طلباء نہ صرف صلاحیتوں سے لیس ہوں بلکہ ذہنی اور جسمانی طور پر بھی ورک فورس کیلئے تیار ہوں۔ اس کیلئے مختلف اداروں کیساتھ مضبوط شراکت داری قائم کرنے، بامعنی انٹرن شپ کے مواقع پیدا کرنے اور ہمارے تربیتی پروگراموں کو صنعت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔مجھے امید ہے کہ مذکورہ سیمینار کے خصوصی تعلیم پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ شعبہ خصوصی تعلیم جامعہ کراچی کی مشیر امور طلبہ ڈاکٹر سائرہ سلیم نے شعبہ ہذا میں ہونے والی مختلف نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ شعبہ خصوصی تعلیم جامعہ کراچی میں تمام لوگوں کو مفت کونسلینگ سروس فراہم کی جارہی ہے اور ایسے افراد جو استطاعت نہیں رکھتے وہ شعبہ ہذا میں مفت تشخیصی سہولیات سے فائدہ اُٹھاسکتے ہیں۔ میزان بینک کے محبوب عالم نے شرکاء کو بتایا کہ انکے بینک کے ہرشعبہ میں معذور افراد کام کررہے ہیں اور انکا ادارہ وقتاً فوقتاً ایسے افراد کیلئے تربیتی پروگرام کا اہتمام کرتا ہے اور اسی سلسلے میں انہوں نے ایک پروگرام”روشناس“ متعارف کروایا ہے۔سیمینار سے البرکہ، پاکستان کرنسی، لکی ٹیکسٹائل ملز اور کے الیکٹرک کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا اور اپنے اداروں کیجانب سے معذور افراد کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔

{"remix_data”:[],”remix_entry_point”:”challenges”,”source_tags”:["local”],”origin”:”unknown”,”total_draw_time”:0,”total_draw_actions”:0,”layers_used”:0,”brushes_used”:0,”photos_added”:0,”total_editor_actions”:{},”tools_used”:{},”is_sticker”:false,”edited_since_last_sticker_save”:false,”containsFTESticker”:false}
:

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You