جامعہ کراچی اور ہائیر پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط

*جامعہ کراچی اور ہائیر پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط*
*ہائیر پاکستان کی جانب سے جامعہ کراچی کے چار مختلف شعبہ جات کے طلبہ کو 59 لاکھ روپے سے زائد کے اسکالرشپس فراہم کئے جائیں گے*
*بہترین کارکردگی کے حامل طلبہ کو ہائیر ٹاپ پرفارمرز کیش ایوارڈ سے نوازا جائے گا*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی اور ہائیر پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے مابین طلبہ کو اسکالرشپ فراہم کرنے کے لئے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کی تقریب گزشتہ روز وائس چانسلر سیکریٹریٹ جامعہ کراچی میں منعقد ہوئی۔ مفاہمتی یادداشت پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی اور ہائیر پاکستان کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ ہمایوں بشیر نے دستخط کئے۔ مفاہمتی یادداشت کے مطابق، شعبہ ابلاغ عامہ، کامرس، پبلک ایڈمنسٹریشن اور کراچی یونیورسٹی بزنس اسکول کے طلبہ کو ہائیر پاکستان کی جانب سے 59 لاکھ روپے (5.9 ملین) سے زائد کے اسکالرشپس فراہم کئے جائیں گے، یہ وظائف ادارے کی سماجی ذمہ داریوں کا حصہ ہیں۔اسکے علاوہ ضرورت پر مبنی اسکالرشپ کے ساتھ ساتھ بہترین کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو ”ہائر ٹاپ پرفارمرز کیش ایوارڈ” بھی دیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے دس طلبہ کے لیے کل پانچ لاکھ بیس ہزار روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اس موقع پر ہائیر پاکستان کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ ہمایوں بشیر نے کہا کہ جامعہ کراچی صوبہ سندھ کی پہلی اور ملک کی دوسری جامعہ ہے جہاں منتخب طلبہ کو ضرورت کی بنیاد پر اسکالرشپ اور کارکردگی کی بنیاد پر اسٹائپنڈز دیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پہلا مرحلہ ہے اور آئندہ مزید شعبہ جات کو شامل کیا جائے گا اور اسکالرشپ کی رقم میں بھی اضافہ کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہائر پاکستان طلبہ اور معاشرے کے بہتر مستقبل کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ جامعہ کراچی کے تعاون سے ہمارا خواب، یعنی طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں بااختیار بنانا، حقیقت کا روپ دھارے گا۔ ”یہ معاشرے کو واپس لوٹانے کی ایک چھوٹی سی کاوش ہے کیونکہ ہمارا یقین ہے کہ ایک مضبوط معاشرہ ہی پاکستان کو خوشحالی اور کامیابی کی راہ پر گامزن کرسکتا ہے۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر اب آگے بڑھ کر جامعات کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم اور صنعت کے درمیان مضبوط تعلق پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محض دو فیصد نوجوان ہی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلہ حاصل کر پاتے ہیں جبکہ حالیہ دنوں میں داخلوں میں نمایاں کمی رپورٹ کی گئی ہے جو تشویشناک امر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ طلبہ کو زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ تعلیم جاری رکھ سکیں۔ پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید بتایا کہ جامعہ کراچی ملک کی واحد جامعہ ہے جس نے مستحق طلبہ کے لیے ”اسٹوڈنٹس ایڈمیشن فنڈ” کا آغاز کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر طلبہ کسی بھی پروگرام میں داخلے کے بعد ہی وظائف کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، لیکن کئی ایسے طلبہ بھی ہیں جو داخلہ فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اسی لیے جامعہ کراچی نے یہ فنڈ قائم کیا ہے تاکہ ایسے باصلاحیت طلبہ کی معاونت کی جاسکے۔
تقریب میں ہائیر پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کی کری ایٹو مینیجر سمن منیر، آئی او ڈیجیٹل پاکستان کے سی ای او سید محمد جنید، جامعہ کراچی کی رئیس کلیہ علوم پروفیسر ڈاکٹر مسرت جہاں یوسف، رئیس کلیہ علم الادویہ پروفیسر ڈاکٹر محمد حارث شعیب، رئیس کلیہ فنون وسماجی علوم سائنسز پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ سعید، ڈائریکٹر سنٹر آف ایکسیلنس فار ویمنز اسٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر اسماء منظور، انچارج ڈائریکٹوریٹ آف ایڈمیشنز پروفیسر ڈاکٹر صائمہ اختر، انچارج اسٹوڈنٹس فنانشل ایڈ آفس پروفیسر ڈاکٹر ذی اسماء حنیف خان، صدرشعبہ ابلاغ عامہ پروفیسر ڈاکٹر عصمت آراء، انچارج کراچی یونیورسٹی بزنس اسکول ڈاکٹر شیخ محمد فخرعالم صدیقی، پرووسٹ گرلز ہاسٹل ڈاکٹر سعدیہ محمود، ڈائریکٹر آفس آف ریسرچ انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن ڈاکٹر سیدہ حورالعین و دیگربھی موجود تھے۔




