سندھ

جامعات کی کامیابی دو بنیادی ستونوں پر استوار ہوتی ہے،تعلیمی ترقی اور معاشی استحکام۔ وائس چانسلر

*جامعات کی کامیابی دو بنیادی ستونوں پر استوار ہوتی ہے،تعلیمی ترقی اور معاشی استحکام۔ وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر خالد محمود عراقی*

*کسی بھی جامعہ کی پہچان اس کی عمارتوں یا بنیادی ڈھانچے سے نہیں بلکہ اس میں موجود فیکلٹی سے ہوتی ہے۔ ڈاکٹر محمد قیصر*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی نے کہا کہ جامعات کی کامیابی دو بنیادی ستونوں پر استوار ہوتی ہے، تعلیمی ترقی اور معاشی استحکام۔ ان دونوں عناصر کے بغیر کسی بھی تعلیمی ادارے کی پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جامعہ کراچی میں مالی نظم و نسق بہتر بنانے کے لیے فیس ٹریکنگ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، جس کے نہایت مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ اس نظام کے تحت جامعہ کراچی کو صرف ایک سمسٹر میں ہی بقایاجات اور سیمسٹر فیس کی مد میں پانچ سو ملین روپے کی فیس وصول ہوئی، جو جامعہ کی مالی حالت کو بہتر بنانے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوئی ہے۔ڈاکٹر خالد عراقی کے مطابق ماضی میں ایک بڑی تعداد میں طلبہ داخلے کے وقت فیس جمع کراتے تھے لیکن بعد ازاں ڈگری حاصل کرنے کے باوجود مکمل فیس ادا نہیں کرتے تھے، جس سے جامعہ کو شدید مالی خسارے کا سامنا رہتا تھا۔ تاہم فیس ٹریکنگ سیل کے قیام کے بعد اس رجحان پر قابو پالیا گیا ہے اور اب فیس کی وصولی کا عمل شفاف اور موثر انداز میں جاری ہے۔ وائس چانسلر نے مزید بتایا کہ جامعہ کراچی میں سلیکشن بورڈز، اسٹیچوری باڈیز، سنڈیکیٹ اور اکیڈمک کونسل کے اجلاس باقاعدگی سے اور تسلسل کے ساتھ منعقد کئے جا رہے ہیں، تاکہ ادارے کے انتظامی اور تعلیمی معاملات میں شفافیت اور تسلسل برقرار رہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے زیر اہتمام شیخ زید اسلامک ریسرچ سینٹر کی سماعت گاہ میں منعقدہ ”سالانہ تقریب“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے کہا کہ جامعہ کراچی ایک ایسے دور میں داخل ہوچکی ہے جہاں تعلیمی معیار اور مالی نظم دونوں پہلوؤں پر یکساں توجہ دی جا رہی ہے اور یہ ادارے کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر اور پروفیسر ایمریطس پروفیسر ڈاکٹر ظفر سعید سیفی نے کہا کہ ان کا جامعہ کراچی سے تعلق تقریباً 64 سال پرانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ان چند خوش نصیب لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے قائداعظم محمد علی جناح کو دیکھا اور سنا۔ ڈاکٹر ظفر سعید سیفی نے کہا کہ قائداعظم نے تعلیم اور محنت کی اہمیت پر زور دیا تھا، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے ان کے پیغام پر عمل نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی اقوام نے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور اس پر عمل کیا، جس کے نتیجے میں انہوں نے اعلیٰ معیار کی تعلیم اور تحقیق کے ادارے قائم کئے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم بھی قائد اعظم کے اصولوں پر عمل کرتے تو آج ترقی یافتہ اقوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے۔ جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر اور پروفیسر ایمریطس، پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر نے کہا ہے کہ کسی بھی جامعہ کی پہچان اس کی عمارتوں یا بنیادی ڈھانچے سے نہیں بلکہ اس میں موجود فیکلٹی سے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کراچی کی شناخت بھی اس کی قابل اور محنتی فیکلٹی کے باعث ہے، جنہوں نے اپنی علمی و تحقیقی خدمات سے ادارے کا نام روشن کیا ہے۔ صدر انجمن اساتذہ ڈاکٹر محسن علی نے انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کی سالانہ کاکردگی کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ انجمن اساتذہ نے بلاتفریق تمام اساتذہ کرام کی خدمت کی ہے۔ اس موقع پر جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر زپروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر اور پروفیسر ڈاکٹر ظفر سعید سیفی کو پروفیسر ایمریطس کے عہدے پر فائز ہونے اور جن اساتذہ نے 2025 ء میں پی ایچ ڈی مکمل کرلیا، سبکدوش ہونے والے اساتذہ، نووارد اساتذہ اور کتاب لکھنے والے اساتذہ کو شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔ تقریب میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر معروف بن رؤف نے انجام دیئے جبکہ کلمات تشکر غفران عالم نے ادا کئے۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You