*بجٹ 2025۔2026 پر مایوسی اور افسوس*

*بجٹ 2025۔2026 پر مایوسی اور افسوس*
کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے بجٹ 2025۔2026 پر مایوسی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ حکومتوں جن میں وفاق و صوبائی حکومت سے کہا ھے کہ اب لگتا ھے کہ پاکستان بھر کے صحافی و اینکر حضرات آپ کے کرپشن، بدعنوانی، لوٹ مار امور، ظالمانہ پلاننگ، بے ربط و بے انتظام پروجیکٹ اور ناقص کارکردگی پر نہ تو سوالات پوچیں، احساس دلائیں اور نہ ہی صحیح سمت کی راہ دکھائیں، آپ وزیراعظم، صدر، وزراء و مشراء اور سیاسی اراکین ایگزیکٹیو کمیٹی خود کو عالم و فاضل، عقل قل اور کل کائنات سمجھتے ہیں نعوذباللہ آپ کے نزدیک وہی صحیح ھے جو آپ اور آپکی پارٹی کے رہنما درست سمجھتے ہیں۔ آپ سب کو اس بات سے قطعی کوئی دلچسپی نہیں کہ عوام کا جینا محال ہوچکا ھے۔ حکومت کی جانب سے ٹیکسوں کے انبار اور ہوشرباء مہنگائی عام شہری کیلئے کس قدر اذیت جان ثابت ہورہی ھے آپ سب کو احساس تک نہیں، شریف النفس عزت نفس اور سفید پوش خاندان کی دو روٹی لے لالے پڑ گئے، آج کے دور میں سب سے زیادہ مجبور اور مستحق پینشنرز ہیں جو اپنی ضیعفی کمزوری اور لاغر پن کی وجہ سے کچھ کہہ نہیں سکتے لیکن اللہ انکے دلوں کی آواز سنتا ھے، آپ نے اپنی والدہ کے نام بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پر قومی خذانے سے عوامی رقموں کو بھیک میں انتہا سے زیادہ کردیا لیکن عزت نفس، سفید پوش پینشنرز کی پینشن میں اضافہ صرف دس سے آٹھ فیصد حد ہوتی ھے بے شرمی اور بیغیرتی کی، لگتا ھے آپ سب کے سب بیغرتی و بے شرمی کے دریا میں ڈوب مرے ہیں۔ آپ پارلیمینٹیرین کو اپنی ذات، اپنی خواہشات سب سے زیادہ مقدم رہتی ھے۔ آپ اپنے جانوروں کو وہ کچھ اعلیٰ ترین غذا کھلاتے ہیں اور ان پر قومی خذانے سے اربوں اخراجات پورے کرتے ہیں جو عوام خوابوں میں بھی دیکھنے سے قاصر ہیں۔ جاوید صدیقی کا کہنا ھے کہ آپ تمام جمہوری ٹھیکیدار دنیا بھر کی ریاست اور حکمرانوں کا ایک بار مطالعہ کرلیں تو آپ سیاستدانوں اور حکمرانوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی کہ وہ صرف اور صرف اپنی عوام کی خدمت کیلئے آتے ہیں انکی جماعتیں عملی طور پر خدمت پر مامور رہتی ھے اور عوامی ٹیکس کا سو فیصد ریٹرن عوامی سہولیات کی مد میں پیش کرتی ہیں۔ یہ حقیقت ھے کہ ہمارے ملک میں بڑی جماعتیں مورثی ہیں ، مورثی یا وارثی ہونا کوئی غلط نہیں مگر عملی طور پر جھوٹا، فریبی، مکار، عیار، دھوکہ باز، بددیانت، خائن، ڈاکو، لٹیرہ، کرپٹ، کمیشن ایجنٹ اور رشوت خور ہونا ایک سنگین گناہ اور سنگین جرم ہوتا ھے۔ آپ خود اپنے وجود کو بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ کس قدر آپ عدل و انصاف سے کام لے رھے ہیں۔ پاکستان کو اللہ نے بیش بہا دولت سے نوازا ھے اس کی قدر کیجئے کیونکہ اللہ کیلئے یہ ممکن ھے کہ آپ سب کی ناشکرے اور ظلم کے سبب فرعون، نمرود، شداد اور یذید کے تحت غرق کردے کیونکہ یہ کائنات اللہ واحد لاشریک کی ھے اور رب کو ظالم پسند نہیں۔ کسی نے خوب کہا ھے کہ کافر کی حکومت چل سکتی ھے لیکن ظالم کی حکومت قائم نہیں رہ سکتی۔ اب سوچنا، سمجھنا، سیکھنا اور اپنے شعور کو بیدار کرنا آپ سب پاکستانی حکمرانوں و سیاستدانوں کی ذمہداری ھے۔ آپکا دیکھا دیکھی میڈیا انڈسٹری کے مالکان و اعلیٰ عہدیداران بھی بگڑ گئے ہیں۔ میڈیا انڈسٹری کے کم و بیش تین مالکان پارلیمینٹیرین ہیں جن میں محسن نقوی، شرجیل انعام میمن اور عبدالعلیم خان ان تین میں محسن نقوی وفاق کی وزارت کے مزے لوٹ رھے ہیں جبکہ شرجیل انعام میمن صوبہ سندھ کے سینئر وزیر کا منصب لئے بیٹھے ہیں جبکہ عبدالعلیم خان وقت کی دھار سے مکمل فائدہ اٹھانے کے ماہر ہیں۔ ان تینوں نے بیشمار نامور صحافیوں و اینکرز کے ضمیروں کو قید کر رکھا ھے اور ان سب کا باپ ملک ریاض ھے جو اب دبئی میں دولت کی فیکٹریاں سجائے بیٹھا ھے۔ حقیقت تو یہ ھے کہ پاکستان میں سیاست سیاسی مافیاء، صحافت صحافی مافیاء، تجارت تجارتی مافیاء اور پروفیشنل پروفیشنل ازم مافیاء بن چکا ھے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارا نظام جمہوریت ھے جسکا خاتمہ ہی پاکستانی عوام کی بقاء و سلامتی ھے کیونکہ نہ ہی سیاسی مافیاء ہوگا نہ ہی ظلم و نانصافی کا بازار لگے گا۔۔۔۔۔!!



