اسکرین کا شوق یا موت

اسکرین کا شوق یا موت
تحریر ؛ راجہ آس بن آس
ملک بھر میں جہاں خلاف اسلام قوانین بنانے کی مذموم سازشیں کی جارہی ہیں وہیں نام نہاد چند این جی اوز بھی بے حیائی اور بے پردگی کی پروموشن میں اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں جو ایک قابل توجہ مسئلہ ہے جس میں نہ صرف نوجوان لڑکوں لڑکیوں کو شوق کی آڑ میں والدین کا نافرمان اور خود سر بنایا جارہا ہے بلکہ انہیں روشن مستقبل کے خواب دکھا کر ان کی آخرت کو اندھیروں سے بھرنے کیساتھ اپنے مذموم مقاصد کو بخوبی حاصل کیا جارہا ہے حیدر آباد شہر بھی اس بے راہ روی کا شکار ہوتا جارہا ہے اور شہر بھر میں آئے روز ماڈل شو،برائیڈل شو،آڈیشنز کے نام پر ایک ایسا دھندہ کیا جارہا ہے جس سے نوجوان نسل تباہی کی جانب گامزن ہے کیونکہ ایسی تقریبات جہاں منتظمین کیلئے کمائی کا ذریعہ ہیں وہیں انجان لوگوں سے روابط قائم کرنے کا ایک ذریعہ بھی بڑے پردے کا لالچ ہو یا سوشل میڈیا پر چمک دمک کا، عیار طبعیت لوگ اس کو ہی کیش کروانے کیلئے ان شوقین امیدواران سے پانچ پانچ سو یا ہزار ہزار روپے فارم کے نام پر وصول کرتے ہیں اور چند روپے کے مقامی ہالز میں چند شوقین افراد کو مہمان بنا کر اسپانسر کے نام پر بھی خوب ٹھگی کرتے ہیں اور اداکاری کا شوق لیکر آنے والی نئی لڑکیوں کو ان مہمانوں سے متعارف کرواکر دونوں فریقین کو سنہرے خواب دکھا کر بھی اپنی جیبیں گرم کرتے ہیں اس غرض کو بالائے طاق رکھ کر کہ وہ مہمان اس اسکرین کے چکر میں آنے والی حسینہ سے دوستی کی کیا قیمت وصول کریگا اور یہ گورکھ دھندا بنا کسی خوف و خطر جاری ہے
ان تمام خلاف اسلام حرکات کو روکنے اور نوجوانوں کی فلاح و خاندانوں کی عزت و آبرو کے تحفظ کیلئے حکومتی سطح پر تو اقدامات نا گزیر ہیں ہی ساتھ ہی معاشرے کے ہر فرد کی یہ ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ تیزی سے پھیلتے ہوئے اس گناہ کو فی الفور روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے کیونکہ اس مذموم سازش کا شکار کل ہم بھی ہو سکتے ہیں
اس نیک مقصد کیلئے سب سے پہلے ایسی کسی بھی تقریب کیلئے سرکاری اجازت نامہ لازمی قرار دیا جائے اور پابند کیا جائے کہ اس قسم کے آڈیشنز اور شوز قومی چینلز سے منسلک ماہر افراد کی نگرانی میں رجسٹرڈ تنظیمیں ہی کروائیں جن کا سرکاری سطح پر مکمل آڈٹ کا نظام ہو
دوسرا کسی بھی غیر رجسٹرڈ و غیر معروف تنظیم کو کسی بھی سطح پر اداکاری یا اسکرین پر جلوہ گر ہونے کے خواہش مند افراد کا ٹیسٹ لینے کی اجازت نہ ہو
تیسرا جو بھی لڑکا یا لڑکی رجسٹرڈ تنظیم و قومی چینل کے زیر اہتمام آڈیشن کا حصہ بننے کا خواہشمند ہو اس کے فارم کیساتھ والدین کا اجازت نامہ لازمی قرار دیا جائے
چوتھا تمام کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ کسی بھی غیر رجسٹرڈ تنظیم کے کسی بھی پروگرام میں بطور اسپانسر شرکت سے گریز کریں اور سرکاری افسران و ملازمین پر ایسی تقریبات میں شرکت پر مکمل پابندی عائد کی جائے
عاجز کے نزدیک بس یہ ہی ایک صورت ہے جس پر عملدرآمد کر کے ملک اور اسلام دشمن عناصر کو انکے غلیظ مقاصد میں ناکام بنایا جا سکتا ہے اور ہماری بہن بیٹیوں کی عزت اور ہمارے حلال سے کمائے ہوئے پیسوں کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے ورنہ وہ دن دور نہیں کہ ہم اپنی ناکامی پر ماتم کریں



