کالم/مضامین

*ھم جسے عشق کہتے ہیں*

*ھم جسے عشق کہتے ہیں*

*کالمکار: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*

ھم جسے عشق کہتے ہیں درحقیقت وہ عشق نہیں ہم نے دنیاوی خواہشات و ضروریات کی تکمیل کو بھی عشق جیسے متعبر پاک مقدس عمل میں جوڑ دیا ھے یہی سبب ھے کہ اسلوب پر چلنے والے روحانیت کی منازل کو طے نہیں کر پاتے اس لئے بحیثیت ایک روحانی طالبعلم ہمیں عشق کو پہلے سمجھنا سیکھنا اور غور کرنا ھوگا اور اس کے تقاضوں، قوائد و ضوابط، شرائط، اور اسلوب کو سمجھنا ضروری ھے۔۔۔ معزز قارئین!! عشق ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کے ظاہر سے زیادہ اس کے باطن کو بدلتا ہے۔ حقیقی عشق محض دعوے، الفاظ یا جذبات کا نام نہیں بلکہ یہ ادب، اطاعت، پاکیزگی، عاجزی، وفاداری اور اپنے محبوب کی رضا کو اپنی خواہش پر مقدم رکھنے کا نام ہے۔ خصوصاً اللہ تعالیٰ کی معرفت اور محبت، اور حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے عشق، انسان کے کردار، اعمال اور زندگی کے مقصد کو بدل دینے والی حقیقت ہے۔ روحانی روایت میں اولیائے کرام، اہلِ معرفت اور اہلِ سلوک نے عشق کو قربِ الٰہی کا وسیلہ قرار دیا ہے۔ مختلف روحانی مراتب کے تذکرے اپنی جگہ، مگر ایک بنیادی حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ کسی بھی روحانی مقام کی اصل قدر قرآن و سنت کی پیروی، تقویٰ، اخلاص اور حسنِ کردار سے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے وہی ہیں جو اپنی نسبت، مقام یا روحانی کیفیت کے اظہار کے بجائے بندگی، عاجزی اور خدمت کو ترجیح دیتے ہیں۔ عشقِ رسول ﷺ کا سب سے روشن نمونہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مبارک زندگیوں میں نظر آتا ہے۔ انہوں نے محبت کو صرف زبان سے بیان نہیں کیا بلکہ اپنے کردار، اطاعت، قربانی اور وفاداری سے ثابت کیا۔ رسول اکرم ﷺ کے ادب و احترام میں ان کی زندگی ہمارے لیے بے مثال نمونہ ہے۔ اسی لیے عشقِ رسول ﷺ کا دعویٰ کرنے والے ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ صحابۂ کرام کے ادب، اخلاص اور اتباع کو اپنے لیے رہنما بنائے۔ حقیقی عشق انسان کو بے لگام نہیں کرتا بلکہ حدودِ ادب کا پابند بناتا ہے۔ عاشق اپنے محبوب کی رضا کو اپنی خواہش پر فوقیت دیتا ہے۔ وہ اپنی زبان، نگاہ، کردار اور معاملات میں احتیاط اختیار کرتا ہے۔ وہ پاکیزگی کو پسند کرتا ہے، باطن کی صفائی کی فکر کرتا ہے اور ظاہری طہارت کو بھی اہم سمجھتا ہے۔ کیونکہ جس دل میں محبتِ رسول ﷺ کا چراغ روشن ہو، وہاں کردار کی روشنی بھی دکھائی دینی چاہیے۔ درود و سلام عشق کی ایک عظیم علامت ہے۔ جب انسان محبت، عقیدت اور اخلاص کے ساتھ نبی کریم ﷺ پر درود و سلام بھیجتا ہے تو وہ اپنے دل کو یادِ مصطفیٰ ﷺ سے وابستہ کرتا ہے۔ لیکن درود و سلام کا حقیقی اثر اسی وقت نمایاں ہوتا ہے جب اس کے ساتھ سنت کی پیروی، اخلاق کی اصلاح، حقوق العباد کی ادائیگی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت بھی شامل ہو۔ یہی عشق انسان کو اپنی ذات کے حصار سے نکال کر بندگی کی طرف لے جاتا ہے۔ اسے تکبر سے عاجزی، نفرت سے محبت، خود غرضی سے ایثار اور بے مقصد زندگی سے مقصدِ حیات کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ حقیقی عاشق دوسروں کو کمتر سمجھنے کے بجائے اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے۔ وہ کرامات اور دعووں کے پیچھے نہیں بھاگتا بلکہ اپنے کردار کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ عشق کا سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ انسان محبوب کے حکم کے سامنے اپنی خواہش کو جھکا دے۔ اگر زبان پر محبتِ رسول ﷺ ہو مگر معاملات میں جھوٹ، ظلم، بددیانتی، تکبر، نفرت اور حقوق تلفی موجود ہو تو انسان کو اپنے دعوئے عشق پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ عشقِ رسول ﷺ کردار میں نظر آتا ہے، صرف نعروں میں نہیں۔ روحانی سفر کا مقصد دنیا سے فرار نہیں بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے اپنے رب کی رضا حاصل کرنا ہے۔ انسان تجارت کرے، ملازمت کرے، گھر بسائے، معاشرے میں اپنا کردار ادا کرے، مگر اس کا دل اللہ تعالیٰ کی یاد اور رسولِ اکرم ﷺ کی محبت سے غافل نہ ہو۔ یہی وہ توازن ہے جس میں روحانیت زندگی سے جدا نہیں ہوتی بلکہ زندگی کو سنوار دیتی ہے۔ عشق جب حقیقی ہوتا ہے تو انسان کو فنا نہیں کرتا بلکہ اس کی خود پسندی، تکبر اور نفس کی غلامی کو فنا کرکے اسے بندگی کی حقیقی زندگی اور بندگی کا سلیقہ عطا کرتا ہے۔ پھر انسان اپنی ذات کے بجائے اپنے رب کی رضا تلاش کرتا ہے، اپنی تعریف کے بجائے اپنے عمل کی اصلاح چاہتا ہے اور دنیاوی شہرت کے بجائے اللہ تعالیٰ کی قبولیت کا طالب بنتا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ عشق کی منزل صرف جذباتی کیفیت نہیں بلکہ حمدِ باری تعالیٰ، اطاعتِ رسول ﷺ، حسنِ اخلاق، پاکیزہ کردار اور مخلوقِ خدا کے ساتھ خیر خواہی ہے۔ درود و سلام سے محبت کے جذبات کو تازگی ملتی ہے اور حمد و شکر سے دل اپنے خالق کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ یوں عشق انسان کو اس حقیقت تک پہنچاتا ہے کہ اصل محبوب اللہ تعالیٰ ہے اور حضور اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول اور ہمارے لیے اس کی ہدایت کا کامل نمونہ ہیں۔پس اگر ہم عشق چاہتے ہیں تو ادب اختیار کریں، اگر قرب چاہتے ہیں تو اطاعت اختیار کریں، اگر محبت چاہتے ہیں تو کردار سنواریں، اور اگر اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہیں تو اپنے دل و عمل دونوں کو پاکیزہ بنانے کی کوشش کریں۔ یہی عشق کا تقاضا ہے کہ زبان پر درود و سلام ہو، دل میں محبتِ مصطفیٰ ﷺ ہو، عمل میں سنتِ رسول ﷺ کی پیروی ہو، زندگی میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہو اور مخلوقِ خدا کے لیے دل میں خیر خواہی ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں محض عشق کا دعوے دار نہیں بلکہ سچا، باادب، صالح اور باعمل غلامِ رسول ﷺ بنائے، ہمارے دلوں کو محبتِ مصطفیٰ ﷺ سے منور فرمائے، ہمارے اعمال کو اپنی رضا کے مطابق بنا دے اور ہمیں دنیا و آخرت میں اپنی رحمت اور قرب نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You