کیا سندھی قوم اقلیت کی طرف جاری ھے؟؟ سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی

*کیا سندھی قوم اقلیت کی طرف جاری ھے؟؟ سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی*
*اردو بولنے والے مہاجرین تسلیم شدہ معاہدے کے تحت آئے تھے، سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی*
*اردو بولنے والے مہاجرین آئینی دستوری اور قانونی حیثیت کے مالک ہیں، سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی*
کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے سینئر اور معروف جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے اپنی تازہ ترین تحقیق میں انکشاف کیاھے کہ سنہ 1947ء میں قائداعظم محمد علی جناح ؒ، برطانوی حکومت کیجانب سے ہندوستان کے وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن، بھارتی کانگریسی رہنما گاندھی و نہرو ان سب کے مابین پارٹیشن آف انڈیا میں بھارت کا وہ حصہ جو مسلمانوں کی اکثریت پر ھے پاکستان کہلائے گا اور وہ جہاں ہندو اکثریت میں ہیں ہندوستان کہلائے گا، (مسلم اکثریتی علاقوں میں گھپلے بازی کی گئی اگر درست عمل ہوتا تو بھارت کا یوپی، این پی، بہار، حیدرآباد، و دیگر صوبے بھی پاکستان کا حصہ بنتے اور کشمیر مکمل پاکستان میں ہوتا۔ یہ ایک الگ تفصیلی موضوع ھے) دونوں علاقہ جات کے مہاجرین کو چھوڑی گئی املاک کو دونوں ممالک نے اپنے اپنے مہاجرین کو فراہم کرنے کے قانونی پابند تھے جسے متروکہ املاک کہا جاتا ھے۔ پاکستان میں اس بابت اردو بولنے والے مہاجرین کیساتھ دھوکہ، فریب اور حق تلفیاں بہت کی گئیں اور انکے اس حق کو تلف کردیا گیا، ڈاکہ ڈالا گیا، غاضبوں نے ہڑپ کرلیا۔ کراچی کے سینئر اور معروف جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی اپنی تحقیق میں انکشاف کیا ھے کہ اگر اردو بولنے والے مہاجرین اپنا متروکہ املاک کا ہی کیس بین الاقوامی عدالت اور برطانوی عدالت میں دائر کردیں تو سندھ میں جاری کوٹہ سسٹم بھی سندھ کی حکومتوں کے گلے کی ہڈی بن کر ابھرے گا یہ الگ بات ھے کہ اردو بولنے والے مہاجروں کی سیاسی لیڈروں نے صرف اپنی ذات کے مفادات کو ہی ترجیح دی اگر وہ قوم سے مخلص ہوتے تو انکا حق چھینے کی کسی میں نہ طاقت ہوتی اور نہ کوشش کرتے۔ کراچی کے سینئر اور معروف جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے اپنی تحقیق میں یہ بھی بتایا ھے کہ اندورنِ سندھ بلوچ اور پشتون کی حکمرانی بڑھتی جارہی ھے اور اندرونِ سندھ سے بڑی تعداد میں سندھیوں کی کراچی، حیدرآباد، سکھر اور بڑے شہروں میں آبادکاری کے باعث اندرونِ سندھ، سندھیوں کے اقلیت میں تبدیل ھونے کے قوی امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ پشتون ایسی قوم ھے جو کچھ ہی عرصے بعد زمین پر اپنا جبراً جائز و ناجائز تسلط قائم کرلیتی ھے جبکہ بلوچ سے نمٹا بھی سندھیوں کے بس کی بات نہیں۔ کراچی کے سینئر اور معروف جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے اپنی تحقیقات میں یہ بھی بتایا کہ اگر سندھی قوم پرست و سندھی دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما اردو بولنے والے مہاجروں سے شروع دن سے اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ قائم رکھتے تو ایسے حالات سے ہر گز نبردآزما نہ ہونا پڑتا آج صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ اپنے حقوق سے محروم اردو بولنے والے مہاجر ہی ہیں اگر سندھ کے مقامی لیڈران نے اب بھی سنجیدگی سے نہ سوچا، نہ سمجھا اور نہ غور کیا تو وہ وقت بھی دور نہیں جب ان سب دیگر صوبوں کے باشندے سندھ بھر میں ہر سطح پر حاوی ہو جائیں گے پھر نہ سندھیوں کیلئے کراچی رہے گا نہ سندھ کے شاید کچھ عرصے بعد سینڈوچ بن کر رہ جائیں گے۔ کراچی کے سینئر اور معروف جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے اپنی تحقیق میں بتایا ھے کہ مزید وقت ضائع کرنے سے بہتر ھے کہ فی الفور اردو بولنے والے مہاجروں سے ہاتھ ملا لیاجائے اور پوری قوم کا اعتماد لیتے ہوئے انکے جائز حقوق پر قدغن ہٹادیں ان میں سب سے بڑی رکاوٹ کوٹہ سسٹم ھے جس کا خاتمہ ہی صبح نو کی نوید ثابت ہوسکتا ھے۔ سندھ کی بقاء و سلامتی، خوشحالی و ترقی ان دونوں اقوام کے گڑھ جوڑ، باہمی اتفاق و اتحاد سے ہی ممکن ہوسکتا ھے۔ یاد رھے کہ ہر قوم کا اپنا صوبہ ھے جبکہ صوبہ سندھ، سندھیوں اور اردو بولنے والے مہاجروں کا ہی صوبہ ھے جس طرح یہ دیگر صوبوں کے شہری اس صوبے میں اپنا حق رکھتے ہیں تو سندھ سے تعلق رکھنے والے بھی اپنا حق دوسرے صوبوں میں کیوں نہیں رکھتے یہ وفاق اور اسٹبلشمنٹ کو سوچنا چاہئے یہ انکا دوہرا معیار اور منافقت نہیں تو پھر کیا ھے۔۔۔۔!!



