کراچی کے معروف سینئر جرنلسٹ و کالمکار اور ممبر کراچی پریس کلب، ممبر کراچی یونین آف جرنلسٹ

* کراچی کے معروف سینئر جرنلسٹ و کالمکار اور ممبر کراچی پریس کلب، ممبر کراچی یونین آف جرنلسٹ و ممبر پاکستان آرٹس کونسل نے مقتدر قوتوں کو مشورہ دیا ھے کہ وہ تمام صوبوں سمیت صوبہ سندھ میں نئے صوبوں کے بجائے انتظامی یونٹ بنانے چاہئیں۔ ہر یونٹ کو آزاد و خومختاری حیثیت کا حامل بنایا جائے اور اسے *”یونائیٹڈ اسٹیٹ”* کا درجہ دیا جائے۔ ہر یونٹ میں رہنے والوں کی شہریت یعنی ڈومیسائل و پی آر سی رکھنے والوں کو اپنے یونٹ میں 90 فیصد تمام حقوق کے حامل بنانا چاہئے اور 10 فیصد دیگر یونٹ میں مختص کرنا چاہئے۔ پاکستان بھر کا ہر یونٹ اپنی اپنی جداگانہ حیثیت سے محصولات کا 90 فیصد مالک ہونا چاہئے جبکہ 10 فیصد وفاق کو ادا کرے۔ تمام یونٹ رنگ نسل زبان قوم کی بنیاد پر قطعی نہیں بلکہ آبادی اور ایریاز کی بنیاد پر ٹیکنیکلی طور پر مرتب کئے جانا چاہئیں تاکہ انتظامی امور کی ادائیگی اور کنٹرول بہتر سے بہتر ہوسکے۔ ہر یونٹ اپنے محصولات سے سالانہ 50 فیصد ترقیاتی امور، 20 فیصد تنخواہ و پینشن، 10 فیصد فلاحی و ویلفیئر امور (جسمیں مستحق طلبہ و طالبات کی تعلیمی اخراجات، غریب مستحقین بچیوں کی شادی کے اخراجات، بیوہ اور یتیموں کی مالی مدد یعنی کوئی چھوٹا موٹا کاروبار شروع کرایا جائے) 10 فیصد بنیادی ضروریات یعنی یوٹیلیٹیز پر سبسیڈی کی صورت میں ادائیگی کرے۔ اور 10 فیصد 60 سال سے زائد یونٹ شہریوں کا مفت علاج و معالجہ بشمول ادویات کا انتظام کرے۔ ان شاءاللہ *”یونائیٹڈ اسٹیٹ پاکستان”* کے اس فارمولے سے کراچی سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر تک خوشحالی ترقی امن و امان اور سکون کا ماحول پیدا ہوسکتا ھے۔ دیکھنا یہ ھے کہ کراچی کے معروف سینئر جرنلسٹ و کالمکار اور ممبر کراچی پریس کلب، ممبر کراچی یونین آف جرنلسٹ و ممبر پاکستان آرٹس کونسل کے اس مشورے پر غور کرتے ہیں کہ نہیں ۔۔۔ اب وقت آنپہچا ھے کہ مقتدر قوتیں اپنی سنجیدگی خلوص نیک نیتی کا مظاہرہ پیش کریں۔ ملک و قوم کیساتھ لولی پاپ اور جھوٹ کا سہارا لینا بند کردیں کیونکہ سیاستدان کی اساس و بنیاد جھوٹ فریب دھوکہ منافقت اور عیاری پر محیط ہوتی ھے اب سیاست سے نہیں تدبر اور سوچ و افکار سے کام لینے کی ضرورت ھے کیونکہ بھارت اسرائیل سمیت امریکہ کو ہضم نہیں کہ پاکستان خوشحال پر امن ملک بنا رھے۔ یاد رکھئے جو امریکی نواز سیاستدان ہیں ان سے پوچھئے کہ امریکہ میں باون اسٹیٹ کیوں، کیوں امریکہ شمالی اور جنوبی امریکہ ھے ایک کیوں نہیں ہوجاتا اور باون ریاستیں ایک ریاست کیوں نہیں بنتی دوسرا ہمارا پڑوسی ملک اور ہمارا ازلی دشمن بھارت میں اس وقت بائیس تیئس صوبے بن چکے ہیں آخر کیوں؟ صوبے کا اضافہ برا لگتا ھے ہماری سیاسی کمیونیٹی کو تو پھر انتظامی یونٹ یعنی اسٹیٹ ہی بنالیں کچھ نہ کچھ تو کرنا ھے لازمی کیونکہ پاکستان بلاک ہوچکا ھے کرپشن لوٹ مار بے امنی بدمعاشی غنڈہ گردی قتل و غارت چوری ڈکیتی عدم تحفظ عدم عدل و انصاف عروج ناخواندگی، تجارتی تعلیم و تجارتی درسگاہیں لینڈ گرپینگ و لینڈ قبضہ گیری و لینڈ مافیاء گویا مافیاء نے ملک کو نوچ رکھا ھے دبوچ رکھا ھے بلیک میل کر رکھا ھے اب مقتدر قوتیں بھی یہی صورتحال کو بھانپ چکی ہیں سمجھ چکی ہیں مشاہدہ و تجربات سے گزار چکی ھے مزید تاخیر ملک کی تباہی کا سبب بن سکتا ھے۔۔۔۔!!*



